گرفتاریاں، نیب اور عمران خان!
31 جولائی 2019 (00:40) 2019-07-31

حافظ طارق عزیز

پاکستان تحریک انصاف کے رہنماو¿ں نے اقتدار میں آنے سے قبل اپنی ہر تقریر اور ہر جلسے میں نعرہ لگایا تھا کہ اگر ان کی جماعت کو حکومت بنانے کا موقع ملا تو ملک کی دولت لوٹنے والوں سے پائی پائی وصول کی جائے گی، وہ دولت جو چند لوگوں کی ہیرا پھیری اور کرپشن کے باعث غیر ملکی بنکوں میں پڑی ہوئی ہے ، واپس لائی جائے گی۔ اس وقت پی ٹی آئی کے حامیوں کو یہ نعرہ بہت دلکش لگتا تھا کیونکہ ان کے رہنما عمران خان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چند لوگوں کے نام لے لے کر کہتے تھے کہ وہ انہیں ہرگز معاف نہیں کریں۔ اس کے برعکس مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی کے رہنماو¿ں کے علاوہ بھی کرپشن میں ملوث دیگر سیاست دان ان باتوں کو مذاق سمجھتے رہے کیونکہ انہیں شائد یقین تھا کہ اوّل تو پی ٹی آئی اقتدار میں آئے گی ہی نہیں اور اگر آ بھی گئی تو گرفتاریوں ، کرپشن کا حساب کتاب، دیگر ممالک میں پڑی ملکی دولت کو واپس لانے کی باتیں، سب ایک روٹین ہے، جسے اقتدار میں آنے سے پہلے زبانی دہرایا جانا ہمارا پرانا وتیرہ ہے۔

پھر چشم فلک نے دیکھا کہ الیکشن ہوئے اور پی ٹی آئی کامیاب ہو کر حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی اور وعدے کے مطابق احتساب اور گرفتاریوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ جب سے پی ٹی آئی نے اقتدار سنبھالا ہے تب سے زیادہ نہیں تو”نیب“ کی طرف سے کم و بیش 2 درجن بڑے سیاست دان گرفتار و رہا ہوئے، 50 کے قریب سیاستدان ابھی بھی پیشیاں بھگت رہے ہیں جب کہ درجن بھر ابھی بھی قید ہیں جن میں 2 سابق وزراءاعظم بھی ہیں۔ جب کہ اخباری اطلاعات کے مطابق کرپشن کے نجی سکینڈلز کی تعداد بھی 100کے قریب ہے جو ابھی بھی نیب میں چل رہے ہیں جس میں کئی ایک گروپوں سے ریکوری کر کے عوام کو بھی ریلیف دیا جا چکا ہے۔

حال ہی میں مسلم لیگ(ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ کی گرفتاری کے بعد مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی کی ” ایل این جی“ کیس میں گرفتاری ہوئی، مفتاح اسماعیل بھی آج نیب تحویل میں ہوتے اگر وہ گرفتاری کے دن کہیں ’روپوش‘ نہ ہو جاتے اور اگلے دن چند دن کی ضمانت نہ کروا لیتے۔ پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز بھی گرفتار ہیں جن پر منی لانڈرنگ سمیت 3 کیسز ہیں، نوازشریف کے کیسز کے حوالے سے تو قارئین خوب جانتے ہیں، فریال تالپورکو بھی ان کے گھر کو سب جیل قرار دیے جانے کے بعد زیر تفتیش ہیں۔ خواجہ سعد رفیق و سلمان رفیق بھی قید ہیں۔ آصف علی زرداری اورا ن کی ہمشرہ فریال تالپور بھی نیب کی تحویل میں ہیں۔ مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف قید ہیں، جب کہ ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر ضمانت پر ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علیم خان بھی گرفتاری کے بعد ضمانت پر ہیں۔

پی ٹی آئی کے سبطین خان بھی گرفتار ہیں جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی آغا سراج درانی بھی پابند سلاسل ہیں۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے رہنما کرپشن کرتے، اپنی تجوریاں بھرتے ہیں لیکن جب پکڑے جاتے ہیں تو خود کو سیاسی انتقام کا نشانہ ثابتے کرنے کیلئے دن رات ایک کر دیتے ہیں۔ آصف علی زرادری جن کا نہ صرف یہ کہنا کہ پیسے جھاڑیوں پر نہیں لگتے کہ واپس کر دئے جائیں بلکہ ہر دفعہ پیشی پر آنے پر علی الاعلان یہی کہتے ہیں کہ ان گرفتاریوں کے پیچھے حکومت کا ہاتھ ہے۔ حالانکہ سوال یہ ہے کہ کیا سابق صدر کیخلاف جعلی بینک اکاو¿نٹس کا مقدمہ تحریک انصاف کی حکومت میں قائم ہوا؟ جواب، نہیں یہ مقدمہ مسلم لیگ ن کے دور میں قائم ہوا اور دسمبر2015ءسے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) جعلی بینک اکاو¿نٹس کی تحقیقات میں مصروفِ عمل ہے۔ ایک اور سوال کہ آصف علی زرداری کیخلاف نیب نے کیا از خود جعلی بینک اکاﺅنٹس کی انکوائری شروع کی اور ریفرنس دائر کیا؟ جواب، نہیں، عدالت عظمیٰ نے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ کے بعد نیب کو انکوائری، انوسٹی گیشن اور ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا۔ نیب نے تحقیقات کے بعد جعلی بینک اکاﺅنٹس میں ملوث افراد کیخلاف ریفرنس دائر کئے اور آصف علی زرداری کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے۔ ستمبر2018ءمیں عدالت عظمیٰ کے حکم پر جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم نے اپنی تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ 6 رکنی جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ 24 دسمبر 2018ءکو عدالت عظمیٰ میں پیش کی۔ اس رپورٹ کے مطابق جن 29 بینک اکاﺅنٹس سے 42 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی وہ زرداری گروپ، ایک بڑا پراپرٹی گروپ اور اومنی گروپ کے ٹرائیکا کی ملی بھگت سے آپریٹ ہو تے رہے۔ جعلی بینک اکاو¿نٹس اور منی لانڈرنگ کے علاوہ زرداری گروپ اور پراپرٹی گروپ کے مابین شراکت داری کی کئی کہانیاں منظرِعام پر آئیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ زرداری فیملی کے اخراجات اومنی گروپ کے اکاو¿نٹس سے ادا کئے جاتے رہے۔

ان کے علاوہ آپ مذکورہ بالا سیاستدانوں پر مقدمات کی فہرست طلب کر لیں تمام مقدمات وہی ہیں جو سابقہ حکومتوں نے ایک دوسرے پر بنائے۔ جبکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادت دونوں ملکر موجودہ حکومت اور نیب کو موردالزام ٹھہرا رہی ہیں کیونکہ دونوں جماعتوں کی قیادت کو اپنی بقا اس میں لگ رہی ہے کہ دونوں باہم شیر وشکر رہیں۔

کرپشن یا کرپشن کے الزامات میں گرفتار سیاسی شخصیات کو پابند سلاسل کرنے کی حد تک تو حکومت کامیاب رہی ہے مگر ان سے ریکوری کے حوالے سے نیب ابھی بھی ”صفر پوزیشن“ پر کھڑا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ نیب کی اس وقت جو سب سے زیادہ پریشان کر دینے والی بات ہے وہ یہ ہے کہ ان گرفتاریوں کو مشکوک بنانے میں کہیں نہ کہیں نیب بھی قصور وار ہے کیوں کہ کسی سیاست دان کی گرفتاری کے بعد جب نتیجہ صفر نکلتا ہے تو ہر کوئی یہ کہتا نظر آتا ہے کہ یہ گرفتاریاں سیاسی بنیادوں پر کی جا رہی ہیں، ماضی قریب میں نیب نے گرفتاری کے بعد کسی کے خلاف شاید ہی کوئی ریفرنس دائر کیا ہو۔ تفتیش لمبی ہو جاتی ہے مگر نتیجہ کچھ نہیں نکلتا ۔یعنی نیب ”آﺅٹ پٹ“ کچھ نہیں دے رہی۔ جبکہ قوم کے اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ اور بدلے میں گرفتاریوں کی وجہ سے ملک غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو رہا ہے۔

حکومت اس بات پر پُرعزم ہے کہ گرفتاریاں ہوں گی اور جنہوں نے کھایا ہے، انہیں واپس دینا ہوگا۔ اسی لیے گرفتاریوں کا یہ سلسلہ رک نہیں رہا۔ قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف اور مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال بھی نیب کی ” پیشیاں“ بھگت رہے ہیں، نیب کی تلوار پاکستان تحریک انصاف کے رہنما پرویز خٹک کے سر پر بھی لٹک رہی ہے۔ ایسی شخصیات بھی کسی وقت بھی ”گرفتار“ ہو سکتی ہیں۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ جب یہ لوگ گرفتار ہونے پر کہتے ہیں کہ جمہوریت خطرے میں ہے! کون سی جمہوریت؟ اس قدر ڈھٹائی اور بے شرمی سے جمہوریت کو درپیش خطرے کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ یہاں ہم نے سیاسی پارٹیوں کو باپ دادا کی جاگیر بنا رکھا ہے، ان پارٹیوں کے اندر جمہوری اقدار کا دور دور تک نام و نشان نہیں۔ تو پھر یہ کس جمہوریت کا رونا روتے ہیں۔ محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کی یہی سب سے بڑی کمزوری ہے کہ سیاسی پارٹیوں کے حامی ذہنی طور پر اتنے پختہ ہو گئے ہیں وہ اپنے لیڈروں کے سیاہ کارناموں کو تسلیم کرنا ہی نہیں چاہتے۔وہ ہر وقت سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ ثابت کرنے پر تو تلے رہتے ہیں لیکن کرپٹ عناصر کو کرپٹ ماننے کیلئے تیار نہیں۔ گرفتاریوں کو سیاسی انتقام اور نیب کی اوچھی حرکت قرار دیا جاتا ہے، دلیل یہ ہے کہ صرف اپوزیشن والے نیب کے نشانے پر کیوں ہیں۔ یہ دلیل پیش کرنے والے بھول جاتے ہیںکہ پنجاب کے سینئر وزیر علیم خان کو نیب نے گرفتار کیا اور انہیں کئی ماہ تک اپنی تحویل میں رکھا۔ احتساب کا عمل یکطرفہ نہیںہونا چاہئے اس میں کوئی دو آراءنہیں ہیں لیکن یہ کہاں کی معقولیت ہے کہ احتسابی عمل کو یکساں ثابت کرنے کیلئے حکومتی اور اپوزیشن بنچوں سے خواہ مخواہ برابری کی بنیاد پر گرفتاریاں کی جائیں۔ احتساب میرٹ کی بنیاد پر ضرور ہونا چاہئے لیکن اپوزیشن کی خواہشات کے مطابق کیا ایسا ممکن ہو گا؟ جب سیاسی ورکرز کی یہ سوچ بدل جائے گی،اس دن پاکستان کی قسمت، پلٹا کھائے گی! حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ اب حالات کچھ ایسے ہوتے دکھائی دے بھی رہے ہیں۔

یہ بات طے ہے کہ عمران خان کے پاس زیادہ وقت نہیں۔ اسے مہاتیر محمد اور لی کوان یﺅکی طرح شاید تین دہائیاں نہ مل سکیں۔ اس قوم میں صبر شکر دونوں مادے کم مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت کے آنے کے بعد ائیر پورٹ پر پروٹوکول ختم ہو گیا ہے، اداروں کی کچھ چیزیں بہتر ہونا شروع ہوگئی ہیں مگر عوام نتائج مانگ رہے ہیں اور ریکوریاں مانگ رہے ہیں اگر یہ سب کچھ نہ ہوا تو اُن کے لیے گرفتاریاں بھی کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ اورفرض کیجیے عمران خان ٹیکس نہ دینے والے تاجروں کو تین برس وعظ سناتا رہتا اور چوتھے سال یہ اقدامات اٹھاتا تو کیا یہ تاجر مان جاتے؟ نہیں! صورت احوال ”اب یا کبھی نہیں“ جیسی ہے۔ جو کچھ مخالفین نے اور کرپشن کے حامیوں نے کرنا ہے کر لیں جو کچھ عمران خان نے کرنا ہے وہ بھی ابھی کرے۔ بخت نے یاوری کی تو چیرہ دستوں اور سیاہ کاروں سے نجات ملے گی! ضرور ملے گی!

لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر ان سیاستدانوں نے پیسہ کھایا ہے تو ان سے ریکور کریں ، ورنہ سسپنس پیدا نہ کیا جائے،کیوں کہ حکومت کے ایک سال گزرنے کے بعد اب بال نیب کی کورٹ میں ہے جس نے یہ ’ثابت ‘ کرنا ہے کہ اُس نے جتنی بھی اب تک گرفتاریاں کی ہیں اُن کے بدلے میں اتنے ارب روپے ریکور ہوئے ہیں یا اتنے افراد کو سزا دی گئی ہے۔ اگر یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا تو پھر شائد ہمیں کرپشن اور اس کے دلدادہ عناصر جان چھڑانے کیلئے کسی غیبی امداد کا انتظار کرنا پڑے۔اب حکومت اور نیب نے ثابت کرنا ہے کہ پاکستان میں ہمیشہ کی طرح احتساب کے نام پر سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے یا واقعی کرپشن کے خاتمے کے لئے پہلی بار ملک کے دو بڑے سیاسی خاندان اور دیگر بدعنوان عناصر قانون کی پکڑ میں آ رہے ہیں؟


ای پیپر