پی ٹی آئی حکومت کا ایک سال،ٹیکس، عوام اور مہنگائی
31 جولائی 2019 (00:39) 2019-07-31

حکومتی پالیسویوں اور تاجربرادری کی ٹیکس چوری نے عوام کا جینا مشکل کر دیا ہے: تجزیاتی تحریر

چوہدری فرخ شہزاد

ٹیکس کا لفظ تاریخ کے ہر دور میں خوفناک رہا ہے اور جب یہ لفظ ریاست کے ان افراد کی زبان سے ادا ہو رہا ہو جو ملک کے مختارکار ہوں تو اس کی شدت میں اور بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ ٹیکس اور انقلاب کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے۔ یہ وہی تعلق ہے جو زنجیروں کا آزادی کے ساتھ ہوتا ہے۔ ہمارا موجودہ ٹیکس نظام ایک ڈکیتی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس پر بات کرنے سے پہلے انقلابِ فرانس کا حوالہ دینا ضروری ہے جس کی بنیادی وجہ ریاست اور بادشاہ کی طرف سے ظالمانہ ٹیکسوں کا نظام تھا جس نے عوام کی ہڈیاں چرا ڈالیں، جو بچ گئے انہوں نے سوچا کہ موت تو یقینی ہے زنجیروں میں جکڑ کر مرنے کی بجائے کیوں نہ ہم لڑ کے مر جائیں، بقول فیض:

مرنے چلے تو سطوطِ قاتل کا خوف کیا؟

فرانس کے انقلاب کے دور کا ایک سیاستدان Mirabeall (1749-1791ئ) اس نے انقلاب فرانس سے ایک سال پہلے پارلیمنٹ کے فلور پر ایک تاریخی تقریر کی تھی جس میں اس نے اس وقت کے وزیرخزانہ جیکس نیکر کی اس تجویز کا جواب دیا تھا کہ فرانسیسی عوام پر ان کی آمدنی کا 25 فیصد ٹیکس دینے کا قانون بنایا جائے۔ اس ٹیکس کو حکومت نے Patriotic Tax کا نام دیا۔ میرابیو نے حکومت کی تجویز کو شرمناک اور تباہ کُن قرار دیتے ہوئے کہا کہ حب الوطنی لفظ کی توہین مت کرو۔ جس وہ اُٹھا تو اس کے پاس فرانس کے 2000 امیر ترین افراد کی ایک فہرست تھی۔ اس نے کہا کہ ان 2 ہزار افراد سے سارا سرمایہ لے کر خزانے میں جمع کردو تو حکومت بچ جائے گی اور غریب عوام بھی بھوک اور موت سے بچ جائیں گے۔ پورے فرانس کو تباہ کرنے سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ یہ 2 ہزار لوگ تباہ ہو جائیں۔ تاریخ کے اوراق میں میرابیو کی 26 ستمبر 1789ءکی یہ تقریر آج بھی محفوظ ہے۔ اس نے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہیں کرو گے تو یہ مت سوچنا کہ فرانس کے بھوکے اور ننگے عوام آپ کو قوم کی لوٹی ہوئی اس دولت سے لطف اندوز ہونے دیں گے۔

اب ہم حکومت کی 17فیصد جی ایس ٹی کی بات کرتے ہیں جس کا نام جنرل سیلز ٹیکس ہے جو ہر اس بندے پر واجب الادا ہے جو کوئی چیز سیل کر رہا ہے۔ تاجروں نے سیدھا سیدھا سترہ کا سترہ فیصد تمام ٹیکس عوام پر منتقل کر دیا جو بہت بڑی لاقانونیت تھی مگر حکومت خاموش رہی۔ حکومت نے کہا کہ ہمیں آپ سے 17فیصد ٹیکس چاہیے آپ جہاں سے بھی لاکر دیں۔ یہ بالکل بھتہ خوری یا اغواءبرائے تاوان کے برابر کا جرم ہے کہ تاجر سارے کا سارا سیل ٹیکس عوام پر ڈال چکے ہیں مگر حکومت ان کے اس عمل پر خاموش ہے۔ اگر آپ نے یہ ٹیکس خریدار سے ہی لینا ہے تو پھر اس کا نام ہر چیز ٹیکس کیوں نہیں رکھ دیتے۔ ہمارے ہاں چونکہ پرائس کنٹرول کا نظام کام ہی نہیں کرتا اس لیے تاجر طبقہ اپنی من مانی میں آزاد ہے۔ فرانسیسی انقلاب کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت کی فرانس حکومت نے امریکی جنگ آزادی کو کامیاب کرنے کے لیے اپنے سارے وسائل جنگ میں جھونک دیئے جس کا سبب فرانس اور انگلینڈ کی روایتی مخالفت تھی۔ فرانس چاہتا تھا کہ امریکہ برطانیہ کے قبضے سے آزاد ہو جائے۔ اس کوشش میں فرانس نے ایسے فیصلے کیے جو ان کیلئے خودکشی کا سبب بنے۔ اس واقعہ میں حکومت عوام اور تاجروں سب کیلئے حیرت کا سامان موجود ہے۔

حکومت تاجروں سے یہ کیوں نہیں پوچھتی کہ جب سارے کا سارا ٹیکس آپ نے خریداری پر ٹرانسفر کردیا ہے تو پھر آپ ہڑتال کس بات کی کر رہے ہیں۔ ہڑتالیں تو عوام کو کرنی چاہیے۔ حکومت کا رویہ یہ ہو چکا ہے کہ تاجروں کو کہا گیا ہے کہ آپ کو کھلی چھوٹ ہے، اپنا ٹیکس عوام سے ادا کروائیں۔ یہ ایسے ہی ہے کہ عوام کو کہا جائے کہ ہم نے آپ کو گولی مارنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس گولی کی قیمت بھی آپ مرنے سے پہلے ہمیں ادا کریں گے۔

یہاں ایک اور چوربازاری کا ذکر بہت ضروری ہے۔ ایف بی آر کا نظام درست کرنے کے لیے آسمان سے فرشتے نازل نہیں ہونے۔ عمران خان نے وزیراعظم بنتے ہی کہا تھا کہ ٹیکس نظام میں اصلاحات لائیں گے مگر حقیقت میں کچھ بھی بنا نہیں ہے۔ اب کہتے ہیں کہ ٹیکس میں NTN نمبر ختم ہو گیا ہے اور ہر شہری کا شناختی کارڈ نمبر ہی اس کا ٹیکس ڈیٹابیس کا کام دے گا۔ اگر واقعی آپ اتنے ایڈوانس ہو چکے ہیں تو آپ ایک کام اور کریں۔ دکاندار جب جی ایس ٹی کی رقم خریدار سے لے لیتا ہے تو ایف بی آر کے ریکارڈ میں یہ رقم خریدار کے ٹیکس ادائیگی کے کھاتے میں جمع ہونی چاہیے، اس کا طریقہ یہ ہو گا کہ خریدار کا شناختی کارڈ نمبر رسید پر درج ہو اور جو ٹیکس ریفنڈ تاجر یا دکاندار لے جاتا ہے اس پر اس شخص کا حق تسلیم کیا جائے جس کی جیب سے یہ پیسے گئے ہیں۔ اگر یہ سسٹم لاگو کر دیا جائے تو ٹیکس نظام میں ایک انقلاب آجائے گا اور کسی تاجر کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ یہاں تو حال یہ ہے کہ ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے پر جی ایس ٹی کاٹ لیا جاتا ہے مگر ایف بی آر خود تسلیم کر چکی ہے کہ وہ گاہک سے ٹیکس لے لیتے ہیں مگر حکومت کو نہیں دیتے۔ اب گورنمنٹ کہتی ہے کہ اس کا حل نکال لیا گیا ہے۔ دنیا بھر میں ٹیکس کا اصول یہ ہے کہ امیروں سے لے کر غریبوں کی فلاح وبہبود پر خرچ کیا جاتا ہے مگر پاکستان واحد ملک ہے جہاں کے غریب بالواسطہ یا اِن ڈائریکٹ ٹیکس کی مد میں امیروں سے زیادہ ٹیکس دیتے ہیں گویا ہمارا غریب طبقہ امراءکو پال رہا ہے۔

نئے چیئرمین ایف بی آر سیّدشبر زیدی کی وجہ شہرت یہ ہے کہ وہ عہدہ سنبھالنے سے پہلے قومی میڈیا میں ٹیکس اصلاحات پر تجاویز دیا کرتے تھے مگر اب ان کی اہمیت تبدیل ہو چکی ہے، ان کا یہ بیان بھی ریکارڈ پر ہے کہ سسٹم خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں آگے اللہ مالک ہے یعنی ملاح کشتی کے سواروں کو کہہ رہا ہے کہ اگر ڈوبنے لگو تو مجھ پر نہ رہنا یعنی پھر تمہاری کوشش اور قسمت ہی کام آئے گی۔ اب لگتا ہے کہ شبرزیدی کی جادو کی چھڑی اپنا کام دکھانے میں مشکلات میں گھر گئی ہے آگے ان کے اپنے الفاظ میں اللہ مالک ہے۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ستمبر کے ایک مہینے میں چوریاں حد سے بڑھ گئیں تو ایس پی نے تھانیدار (SHO) کو بلا کر خبردار کیا کہ اب اگر چوری کی اطلاع آئی تو میں تمہیں نوکری سے ڈسمس کردوں گا۔ چوری کی اطلاعات بند ہو گئیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ تھانیدار نے علاقے کے تمام چوروں کو کہہ دیا تھا کہ اب حد پر نہ رہنا اور جو مرضی کرو مگر میں چوری برداشت نہیں کروں گا، نوکری کا سوال ہے۔ ایس پی صاحب نے علاقے میں مخبر بھیج کے پتہ لگوالیا۔ انہوں نے آکر صورتحال بیان کی کہ سر علاقے میں چوریاں واقعی بند ہو گئی ہیں۔ اب وہاں صرف ڈکیتیاں ہوتی ہیں۔ ہماری حکومت نے ٹیکس چوری روک دی ہے اس کی جگہ ٹیکس ڈکیتی نے لے لی ہے۔ تاجر اب قانونی طور پر اپنا سارا ٹیکس عوام کی جیب سے ادا کر رہے ہیں کیونکہ حکومت نے انہیں خبردار کر دیا ہے کہ ٹیکس چوری جرم ہے۔

آپ نے دیکھا ہو گا کہ بینکوں کے باہر بھی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو نئے نوٹ لینے کے خواہشمند ہیں۔ یہ عام اور کچھ غریب اور بیروزگار لوگ ہیں جو بینک سے نئے نوٹوں کے ایک دو پیکٹ لے کر مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔ رکشہ ڈرائیور کہتے ہیں کہ پورا دن رکشہ چلا کر بھی اتنی بچت نہیں ہوتی جتنی دس، پچاس اور سو روپے کے نوٹ کے پیکٹ بیچ کر منافع مل جاتا ہے۔ غیرقانونی کاروبار کو روکنے میں حکومتیں بے بس ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کم لوگ شادی بیاہ یا عید کے موقع پر نوٹوں کا پیکٹ حاصل کرنے کیلئے زائد رقم دینے پر تیار ہیں، عوام ایسا کیوں کرتے ہیں اس کا جواب نفسیاتی نوعیت کا ہے۔

پُرانے زمانے میں جب بینکنگ سیکٹر اتنا متحرک نہیں ہوتا تھا تو اس وقت کے امراءاپنا پیسہ تجوریوں میں رکھتے تھے اور لین دین کے موقع پر وہ تجویر کھول کر پیسے نکالتے تھے تو وہ بھی پیکٹ کی شکل میں ہوتا تھا جس سے دیکھنے والے پر سیٹھ صاحب کی دہشت کی دھاک بیٹھ جاتی تھی۔ روپیہ پیسہ اور دولت کسے اچھی نہیں لگتی، عام انسانوں کے تحت الشعور میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ ایک دن ان کے پاس بھی اتنا پیسہ آجائے گا کہ وہ اس سیٹھ کی طرح نظر آئیں گے جو ان کے سامنے بھری ہوئی تجوری سے نوٹوں کے بنڈل رکھتا اور نکالتا ہے۔ اس معصوم سی خواہش نے رفتہ رفتہ یہ شکل اختیار کرلی ہے کہ چلو ہم سیٹھ نہیں بن سکے تو کوئی بات نہیں چلیں ہم نئے نوٹوں کے سیٹ مہنگے داموں خرید کر ایک دن کیلئے سیٹھ جیسے رکھ رکھاﺅ کا مظاہرہ تو کر سکتے ہیں۔ نئے نوٹ خریدنے کیلئے ان کو رقم دینے والوں میں اکثریت نچلے اور درمیانے طبقے کے شوباز قسم کے لوگوں کی ہوتی ہے جن کی وجہ سے یہ دھندہ وجود میں آیا ہے۔

اس کیفیت کو معاشیات کی زبان میں دکھاوا یا Demonstration Effect کہا جاتا ہے جسے معاشی اصطلاح میں Dussen Berry Effect بھی کہتے ہیں۔ اس کا موجد James Dassunberry تھا۔ یہ وہ اثرات ہیں جن میں افراد کسی آدمی کی دولت کو دیکھ کر منعکس ہوتے ہیں اور ہم اسے کاپی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ کوشش ایک منفی رویہ ہے جس سے معاشرے پر سماجی، سیاسی اور اقتصادی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انسان اپنی چادر سے زیادہ پاﺅں پھیلانے کی کوشش میں کنگال ہوتا چلا جاتا ہے۔ ہر شخص معاشی طور پر جس انکم گروپ سے تعلق رکھتا ہے وہ اس سے ایک دو درجے اوپر اپنے آپ کو ظاہر کرنے کی خاطر مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے اور اپنے لائف سٹائل کو اوپر ظاہر کانے کی خاطر اگر سرکاری ملازم ہے تو رشوت لے گا، کرپشن کرے گا، اگر دوکاندار ہے تو ناجائز منافع خوری کرے گا، مینوفیکچررر ہے تو ملاوٹ کرے گا، اگر مزدور یا بیروزگار ہے تو ٹائم چوری، ڈاکے یا اس طرح کی کارروائیاں کرے گا۔

اس کی مثال یہ ہے کہ آپ کے پاس ہونڈا70 موٹرسائیکل ہے۔ آپ کے پڑوسی نے حال ہی میں نئی مہران گاڑی خریدی ہے، وہ بھی پڑوسی ہے جو کل تک آپ کی موٹرسائیکل سے بھی پرانی بائیک استعمال کر رہا تھا۔ اب فوری طور پر آپ پر منفی اثر یہ ہوا ہے کہ آپ بھی مہران گاڑی خرید کر اس کے برابر کا سماجی رُتبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، اس کیلئے یا تو آپ بیک سے مہنگے ترین ریٹ پر قرضہ لیں گے اور 10لاکھ کی گاڑی 18لاکھ میں لے کر 5 بسال تک قسطیں ادا کریں گے یا پھر آپ کوئی غلط کام کریں گے۔

آپ نے دیکھا ہو گا کہ شادی کیلئے برائیڈل سوٹ جو پہلے دن کا ہوتا ہے، اس کی قیمت 2 لاکھ روپے سے بھی کراس کر چکی ہے۔ یہی حال دولہا کی شیروانی کا ہے حالانکہ یہ دونوںآئٹم زندگی میں صرف ایک دن کیلئے استعمال ہوتے ہیں، پھر بھی ان پر بھاری قوم خرچ کی جاتی ہیں۔ لاہور کے پوش علاقوں میں دلہن کے میک اپ کی فیسیں ایک لاکھ روپے سے اوپر جا چکی ہے۔ یہ سارے فضول اخراجات دکھاوا یا Demonstration کیلئے ہیں جن کے فروغ میں سٹارپلس کے ٹی وی ڈراموں اور انڈین فلموں نے خصوصی کردار ادا کیا ہے۔ یہ غریب اور متوسط طبقے کو قرضوں کے جال میں جکڑنے کا ایک دلفریب نسخہ ہے۔

عام شہری اپنے جیسے دوسرے انسانوں جن کا تعلق خوشحال گھرانوں سے ہوتا ہے، ان کے پاس جب مہنگی اور پُرتعیش اشیائے ضرورت دیکھتے ہیں تو ان کے دل میں بھی ان کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے لیکن یہ خواہش منفی بھی ہوتی ہے اور مثبت بھی مثلاً آپ ایک ڈاکٹر یا انجینئر یا بزنس مین کے پاس جنگی کار یا گھر دیکھتے ہیں تو آپ یہ سوچیں کہ اس شخص نے یہاں تک پہنچنے کے لیے جتنی محنت کی ہے عام آدمی کے لیے رول ماڈل ہے۔ ایسا اگر آپ سنجیدگی سے سوچیں گے تو آپ کی زندگی تبدیل ہو جائے گی البتہ اگر آپ یہ سہولیات بیٹھے بٹھائے بغیر محنت کے حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کی یہ سوچ آپ کی ذات اور شخصیت کے ساتھ ساتھ معاشرے کیلئے بھی مضر صحت ہے۔ امریکہ کی جنگ آزادی (1735-1783ئ) جب کامیاب ہوئی تو فرانس کے عوام نے سوچا کہ امریکیوں کے طرزِعمل پر چل کر وہ بھی آزادی حاصل کر سکتے ہیں جس کا نتیجہ 1789-1799ءکا انقلابِ فرانس تھا۔ اسی طرح ایک ملک کے حالات کو دیکھ کر اگر کوئی دوسری ریاست اس کی پیروی کرتی ہے تو یہ بھی Demonstration Effect کہلائے گا، یہ اس کا مثبت پہلو ہے البتہ اس تھیوری کا موجد Dussen Berry یہ کہتا ہے کہ جب ایک فرد کسی دوسرے کے پاس کوئی مہنگی چیز دیکھ کر بھی اُسے خریدنے کے لیے بچت شروع کرے گا اور بالآخر اسے ایک دن خریدلے گا تو یہ رُجحان مائیکرواکنامکس کے لحاظ سے مثبت ہے، اس سے بچت اور خریداری دونوں کو فروغ ملے گا مگر حقیقت میں یہ اتنا سادہ نظریہ نہیں ہے۔ جدید معاشی سائنس دان کہتے ہیں کہ اس طرح کی گئی خریداری عوام کے ذہن میں ایک عجیب طرح کی Unhappiness پیدا کردیتی ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا شکل ہے مثلاً آج کل ریسٹورنٹ میں افطار پارٹیوں کا رواج ہے۔ ایم ایم عالم روڈ کے ایک اوسط ریسٹورنٹ پر ایک آدمی کی افطاری 2 ہزار روپے میں ہوتی ہے۔ یہی کیفیت بڑے بڑے فیشن ہاﺅس سے کپڑے خریدنے والوں کی ہے جہاں 2500 روپے والا سوٹ 5ہزار روپے میں خریدا جاتا ہے، صرف اس لیے کہ اس کے اوپر بڑی کمپنی کا لیبل لگا ہوتا ہے۔ اس کا نقصان یہ ہوا ہے کہ چھوٹے دوکاندار ختم ہو گئے ہیں اور فیشن انڈسٹری چند Leeding Brands کی اجارہ داری میں آگئی ہے۔

بڑے بڑے فاسٹ فوڈز فرنچائز دیکھ لیں جہاں ایک سینڈوچ یا برگر 300 سے 500 روپے میں ملتا ہے، ایک تو یہ اپنا منافع باہر لے جاتے ہیں، دوسرا ان سے مقامی مارکیٹ نقصان اُٹھاتی ہے اور چھوٹا دکاندار بے روزگار ہو رہا ہے اور تیسرا یہ Demonstration Effectجیسی ایک ذہنی بیماری کا شکار مریضوں کو لوٹ رہے ہیں۔ ان کے ریٹ عالمی مارکیٹ کے مطابق سمجھیں کہ ڈالر کی قیمت کو Convert کر کے فکس کیے جاتے ہیں۔ اب امریکہ میں 20 ڈالر فی گھنٹہ کمانے والا بندہ تو یہ افورڈ کر لیتا ہے مگر یہاں وہی جائے گا جس کے پاس اندھی کمائی ہے۔

پاکستان میں نئی گاڑی کی خریداری پر own money جیسی غیراخلاقی وغیرقانونی روایت کی وجہ یہ ہے کہ نئی گاڑی کو Status کی علامت سمجھا جاتا ہے حتیٰ کہ جو لوگ کرائے پر گاڑی لینا چاہتے ہیں وہ بھی نئے ماڈل کو ترجیح دیتے ہیں جس کی وجہ سے منافع مافیا عوام کی اس ذہنی معذوری کا فائدہ اُٹھاتا ہے۔ جب تک معاشرے کی Consumption Habits راہ راست پر نہیں آئیں گی اور گھٹیا قسم کی شوبازی بند نہیں ہو گی عوام خوشی خوشی کارپوریٹ کمپنیوں کے ہاتھوں اسی طرح لُٹتے رہیں گے۔ قیمت میں اضافے کی ایک وجہ شوبازی ہے۔

٭٭٭


ای پیپر