ٹرمپ میں اتنی جرا¿ت نہیں
31 جولائی 2019 2019-07-31

قارئین کرام، لگی لپٹی بغیر اگر ہم اس امریکہ کے سابقہ رویوں سے صرف نظر کرتے ہوئے جب اس نے اپنی یعنی ”پرائی“ آگ میں پاکستان کو جُھونک کر کروڑوں مسلمانوں کا سکون سے جینا حرام کردیا، کیا اس کا ذمہ داربراہ راست ہمارا ملک ہے؟

بالکل نہیں ، بلکہ پاکستانی عسکری قیادت نے ، آگے بڑھ کر، سفید ریچھ کو بھاگنے پر نہیں بلکہ شدید زخمی کرکے مار دیا، یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انحراف نہ تو امریکہ کرسکتا ہے، اور نہ ہی پاکستان اور نہ روس اس کے بعد پاکستان نے امریکہ پہ ایک ایسا احسان کیا ہے، کہ جس کو مانے بغیر چارہ نہیں ، غالباً وہ دورامریکی صدر نکسن کا تھا، جب پاکستان نے امریکہ کے سفارتی تعلقات قائم کرائے، اس سے قبل دونوں ملکوں کے درمیان مدتوں سے سردجنگ چل رہی تھی، اور دونوں ایک دوسرے سے خائف و خوفزدہ تھے۔

قارئین ، آپ کا کیا خیال ہے کیا وہ سردجنگ ختم ہوگئی ہے، بالکل نہیں وہ ابھی بھی جاری ہے، اور ان دونوں کے درمیان تجارتی تعلقات میں شدید قسم کی بدمزگی پھیلی ہوئی ہے، دونوں ایک دوسرے پہ ٹیکس لگا ایک دوسرے کو نیچہ دکھانے کی ناجائز کوششوں میں مصروف ہیں، اس حوالے سے بھی امریکہ نے چین کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں مگر شرط یہ لگائی کہ ”گھٹنے ٹیکنے“ والی تصویر میڈیا کے سامنے نہ آنے پائے، امریکہ کی مجبوری ہے، کہ اس نے آزادی کے بعد کے یہ سارے ماہ وسال منفی سوچ وخیال میںگنوا دیئے، وہاں کپڑے سینے کی سوئی تک تو باہر سے آتی ہے۔ لیکن میرے محتاط خیال کے مطابق ہمارے پاکستان کا بھی یہی حال ہے، غالباً دنیا کا یہ پہلا اسلامی ملک ہے، جو امریکہ کے مقابلے کا ایٹم بم تو بناچکا ہے، مگر یہ بھی ”سوئی “ بنا سکا، اور نہ ہی اپنے ہی ملک میں بے شمار ذخائر رکھنے کے باوجود سوئی گیس نکال سکا۔

ہم نے سنا تھا، کہ گیس کے ذخائر جب دستیاب ہوئے تھے اور نوید سنائی گئی تھی کہ صدیوں تک ملک کی ضروریات پیدا کرسکتے ہیں، کبھی مژدہ سنایا جاتا ہے کہ چنددنوں میں پاکستان میں تیل کے ذخائر ملنے کی خوشخبری قوم کو سنوائی جائے گی، اور کبھی یہ خوش خبری دی جاتی ہے کہ ہمارے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح پہ پہنچ گئے ہیں۔

سوال یہ پیداہوتا ہے ، آئی ایم ایف یعنی امریکہ سے لے کر امارات کی ریاستوں اور چین تک وہ کون سا ملک ایسا ہے جس سے ہم نے ادھار نہیں لیا، حتی کہ تیل کی شکل میں بھی ادھار لینے سے ہم نے سعودی عرب کے آگے ہاتھ پھیلا دیئے ، تو اس زرمبادلہ کا کیا فائدہ جو رعایا کو بتانے اور صرف دکھانے کے لیے ہے۔ ادھار یقیناً اس کو تو نہیں کہتے کہ جسے واپس نہ کرنا پڑے، ادھار تو ہر حال اور ہرصورت میں واپس کرنا ہوتا ہے۔

حالانکہ حکومت کو یہ مشورہ بھی دینے والوں نے دیا تھا، کہ عام معاشرتی عیب کی طرح ادھاری رقوم کی واپسی سے ہی انکار کردیا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ریاست مدینہ کے بانی ”ہستی لافانی، ماروافہم وادراک انسانی ، وہ ایسا لعل پیارا جس کا خیال بھی پیارا، اور جس کا ہرعمل بھی قابل تقلید نے بھی یہودیوں سے ادھار لیا تھا .... لیکن سود پہ نہیں ۔

میرے اس بیانے کا مقصد محض اتنا ہے، کسی امریکی صدر کو نہ اتنی جرا¿ت پہلے تھی اور نہ کبھی شاید آئندہ ہو کہ وہ ہندوستان کے کسی حکمران کو (Dictate)کرسکے، نہ صرف ہندوستان میں بلکہ وہ پاکستان میں بھی، مسیحیوں کے چرچ اور گرجا گھر کو آگ لگوا چکا ہے، حتیٰ کہ مساجد منبر ومحراب ، اور امام بارگاہوں کو بھی نہیں بخشا، اس کا لامتناہی سلسلہ ہے کہ ختم ہونے کو ہی نہیں آرہا پاکستانی وزیراعظم نے ”ہوائی جاسوس“ ابھی نندن ، جو پاکستان پر بمباری کرنے آیا تھا، اسے بصد احترام اور انعام واکرام (نئے کپڑوں) کے ساتھ واپس کیا، مگر مودی کی کرتوت دیکھیں، کہ الٹا اس نے اسے اپنا کارنامہ قرار دے کر کہ عمران خان نے میرے ڈر سے ہماراپائلٹ واپس کیا ہے۔ اور ہم نے جو سرجیکل سٹرائیک کی تھی، وہ بالکل کامیاب رہی، ان ہندوﺅں کے جھوٹ کو دنیا کو دکھانے کے لیے ہمارے آرمی چیف کو پاپڑبیلنے پڑے اور کنٹرول لائن کے متعدد دورے کرکے جوانوں کے حوصلے بلند کیے اور راحیل شریف سابق آرمی چیف کی عید سرحدوں پہ جوانوں کے ساتھ منانے کی روایت کو برقرار رکھا، اورسابق آرمی چیف نے افغان سرحد کی چین کی دیوار کی طرح جو بہت لمبی ہے، افغانستان کے شدید مطالبے، اور دھمکیوں کے باوجود خطیر ترین رقم خرچ کرکے باڑ لگاکر دہشت گردی کی مثبت حد تک پیش بندی کردی، مودی کے غرور وتکبر کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ پاکستان کے غداروں جن کا تعلق بلوچستان سے ہے ان کی ٹریننگ ، سرمایہ، اور پناہ یعنی جدید اصطلاحکے مطابق مودی ان کا سہولت کار ہے۔

ایک ایسا شخص جس کو مسلمانوں کی ٹرین، اور بستی جلانے کے مجرم کے طورپر امریکہ میں داخلہ بند کردیا گیا تھا، ہمیں یہ تو نہیں معلوم کہ آخر وہ کون سی مجبوری تھی کہ جس کی وجہ سے امریکہ نے مودی کو دودھ کا دھلا قرار دے دیا گیا، اور اوبامہ کو بھارت کے ریلوے سٹیشن کے کھوکھے پہ چائے بیچنے والے کے اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی چائے کے کپ ، پلا پلا کے ”رام رام“ کرنے پر مجبور کردیا، ایک ایسا شخص جس نے دوسوگھر حال ہی میںمارچ 2019ءمیرٹھ میں جلا دیئے، اب اس میں کتنے مسلمان شہید کردیئے گئے اس کی تفصیل عدلیہ کے فیصلوں، اور بینک اکاﺅنٹ کی طرح منجمد ہوگئی ہے کشمیر پہ بھارتی مظالم پہ تو کتابیں لکھی جاسکتی ہیں، اور مورخوں اور مصنفوں نے اپنے دلوں کی ترجمانی بھی خوب کی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ مسئلہ کشمیر کو زندہ کرنے پہ برصغیر کے کروڑوں مسلمان بشمول علی گیلانی صاحب کے عمران خان کے انتہائی مشکور ہیں مگر ایک بات ہماری مان لیں، نہ تو امریکہ اور نہ ہی بھارت کشمیر کوآزاد کراسکتے ہیں، اب تو کشمیر کو آزاد کرنے والے سے شادی کرنے والی ریما کی بھی شادی ہوگئی ہے، اور میرا تو ویسے ہی شادی پہ تیار ہے کشمیر کو کشمیر والے ہی آزاد کروائیں گے ان شاءاللہ جب ہرکشمیری نوجوان برہان وانی بن جائے گا .... عمران خان رعایا پہ ایک احسان کریں ،کہ ڈالر کی قدر بڑھنے سے زندگی بچانے والی ادویات کی قیمت جو آپ کی حکومت آنے سے پہلے تھی، اتنی گرادیں۔ جزاک اللہ خیر


ای پیپر