حمزہ شہباز پر ایک کالم
31 جولائی 2019 2019-07-31

حمزہ شہباز شریف کا جرم کیا ہے، یہ ایک دلچسپ سوال ہے، ہو سکتا ہے کہ اس کے جواب میں آپ مجھے نیب کی طرف سے لگائے گئے الزامات کی کوئی تفصیل سنا دیں، لگائی گئی کچھ دفعات بتا دیں تو مجھے اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ ہمارے ہاں گرفتاریوں کا عمل بدعنوانی سے مشروط ہی نہیںہے۔ کیا حمزہ شہباز کا جرم وہی ہے جو خود نواز شریف کا ہے، خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کا ہے، شاہد خاقان عباسی کا ہے، رانا ثناءاللہ خان کا ہے، فواد حسن فواد کا ہے یا احدچیمہ کا ہے تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہاں، جرم کم و بیش وہی ہے مگر جب جرم کمٹ منٹ اور وفاداری ٹھہرے تو ضمنی سوال ہے کہ حمزہ شہبازنے ایک ٹی وی پروگرام میں برملا کہا تھا کہ وہ اپنے تایا جان کو سمجھائیں گے یعنی وہ میاں نواز شریف اور ان کے وفادار ساتھیوں کی حکمت عملی سے اتفاق نہیں کرتے تھے مگر اسی ضمنی سوال کے جواب میں سوال ہے کہ کیا حمزہ شہباز اپنے تایا کو سمجھانے میں کامیاب رہے، نہیں، وہ کامیاب نہیں رہے تو کیا اپنے والد شہبا ز شریف کے ساتھ ساتھ ان کا جرم بھی ان کی ناکامی ہے؟

بات ناکامی سے بھی کچھ آگے کی ہے کہ جب وہ نواز شریف اور مریم نواز کو سمجھانے میں ناکام رہے تو اس کے بعد بھی انہوں نے اپنے تایا سے بغاوت نہیں کی حالانکہ سیاست کے میدان میں تایا سے زیادہ اہم مفادات ہوتے ہیں۔ گمان کیا جارہا تھا کہ ایک مسلم لیگ شین بنے گی جس کے سربراہ شہباز شریف ہوں گے جو نواز شریف کی پالیسیوں سے اعلان لاتعلقی کرتے ہوئے اپنی الگ سیاسی راہ کا تعین کرے گی مگرآپ جس طرح چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی کے آپس میں کزن ہونے کے باوجو د ان دونوں بھائیوں کے درمیان مضبوط بانڈ نہیں توڑ سکتے اسی طرح کم ا ز کم موجودہ بااختیار نسل کی موجودگی میں میاں محمد شریف کی اولاد کے درمیان بھی راستے الگ نہیں کئے جا سکتے۔ اب اگلا سوال یہ ہے کہ اگر شہباز شریف اور حمزہ شہباز اپنے تایا نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز سے سیاسی اختلاف رکھتے ہیں تو وہ پارٹی میں کیوں ہیں۔ میں نے یہ سوال پارٹی کے کچھ بڑوں اور پالیسی میکروں کے سامنے رکھا، جواب ملا کہ بڑی سیاسی جماعتوں میں رائے اور حکمت عملی کا اختلاف موجود ہوتا ہے جو سیاسی جماعت کے اندر سختی کے بجائے لچک پیدا کرتا ہے۔ یہ لچک کسی بحران میں سیاسی جماعت کو اسی طرح ٹوٹنے سے بچاتی ہے جس طرح طوفان میں سیدھے کھڑے درخت گر جاتے ہیں ، لچکدار پودے اور شاخیں موجود رہتی ہیں۔ اختلاف رائے سیاست اور جمہوریت کا حسن ہوتا ہے اور مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بغاوت ہوجائے، پارٹی توڑ دی جائے اور ایسا ہرگز نہیں ہوا۔

پوچھا گیا، شہباز شریف لندن میں تھے جب میاں نواز شریف کی اپیل مسترد ہوئی اوراس کے ساتھ ہی پارٹی کے عہدے داروں میں بڑے ردوبدل کا ایک نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا۔ حمزہ شہباز شریف کو بھی اگرچہ پارٹی کا نائب صدر بنایا گیا مگر مریم نواز، شاہد خاقان عباسی،خواجہ سعد رفیق، احسن اقبال اور رانا ثناءاللہ کو دئیے گئے عہدوں نے بتا دیا کہ اب نواز لیگ کا مزاج کیا ہو گا، جی ہاں، پوچھا گیا کہ اب حمزہ شہباز شریف کا پارٹی کے اندر مستقبل کیا ہے تو اس کا جواب بھی موجود ہے کہ مسلم لیگ نون کا ہوم گراو¿نڈ پنجاب اور باالخصوص وسطی پنجاب ہے جہاں سے آپ حمزہ شہباز شریف کی نفی نہیں کر سکتے۔ کیا آپ کو این اے ایک سو بیس کا وہ ضمنی انتخاب یاد ہے جس میں بیگم کلثوم نواز نے حصہ لیا تھا مگر اس دوران بیماری کی تشخیص ہونے پروہ علاج کے لئے لندن روانہ ہو گئی تھیں، انہی دنوں حمزہ شہباز بھی بیرون ملک تھے، نواز لیگ کی حکومت ہونے کے باوجود ایک عجیب و غریب فضا میں بیگم کلثوم نواز نے وہ الیکشن جیت لیا تھا جس کی کمپین مکمل طور پرمریم نواز نے لیڈ کی تھی۔ اس کامیابی کے بعد الحمرا ہال میں ایک بڑی تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا تاکہ ان لوگوں کا شکریہ ادا کیا جا سکے جنہوں نے انتخابی مہم میں اہم کردارادا کیا۔ میاں نواز شریف اس وقت اپنی تقریر میں بہت سارے دوسرے نام لیتے ہوئے حمزہ شہباز کا نام لینا ’بھول‘ گئے اور اس وقت پورا ہال حمزہ ، حمزہ کے نعروں سے گونجنے لگا ۔ سیاست اور صحافت کے طالب علم کے طور پریہ میرے لئے ایک اہم اشارہ تھا۔

حمزہ شہباز ، مسلم لیگ نون کی تنظیم سازی کے اہم ترین کردار ہیں ۔ جب میاں نواز شریف وزیراعظم اور شہباز شریف وزیراعلیٰ تھے تووہ عمومی طور پر کسی شادی پربہت ہی کم او رفوتگی پر بھی کچھ کم ہی جاتے تھے تو یہ حمزہ شہباز ہی ہوتے تھے جو اندرون لاہور کی گلیوں سے لے کر دوسرے شہروں تک پارٹی کارکنوں کے ساتھ خوشی غمی میں شریک ہوتے تھے۔ ابھی چند روز قبل جب پچیس جولائی کو یوم سیاہ منایا جا رہا تھا تو مجھے مال روڈ پر دس برس کے لگ بھگ عمر کا ایک بچہ ملا جس نے حمزہ شہباز شریف کے حق میں ایک لمبی تقریر کر ڈالی، مجھے بتایا گیا کہ اس کا نام حمزہ شریف ہے یعنی اس کے والد زاہد شریف نے اس کا نام حمزہ شہباز شریف کے نام پر رکھا ہے۔ یہ احمد فراز کے شعر کی طرح محبت کا نقطہ عروج ہے کہ جب بچوں کے نام ان کے نام پر رکھ دئیے جائیں جن سے محبت ہو۔ پھر وہ خاتون مجھے ملیں جو اپنے معذور بچے کو صرف یہ دکھانے کے لئے مال روڈ پر پولیس کے گھیر ے میں لے آئی تھیں کہ حمزہ شہباز شریف نے حکومت کے دوران اس کا وظیفہ لگا رکھا تھا۔پنجاب نواز لیگ کا ہوم گراو¿نڈ ہے اور اس ہوم گراو¿نڈ کی اینٹیں لگانے میں حمزہ شہباز کا کردار کلیدی ہے۔آپ اپنے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر اپنے تئیں حکیم لقمان بنتے ہوئے حمزہ کی نفی کر سکتے ہیں مگرتاریخ اور سیاست کا ادراک رکھنے والے جانتے ہیں کہ یہ نوجوان سیاست کی بھٹی میں تپ کر کندن بن چکا ہے۔ اس نے پرویز مشرف کے دور میں اس وقت اپنے خاندان کی سیاست اور کاروبارکی تمام تر ذمہ داریاں سنبھال لیں جب اس کی عمر محض بیس، بائیس برس تھی ۔ پاکستان میں لگنے والے آخری ڈیکلئیرڈ مارشل لا کا سب سے بڑا واقعہ ہی یہ ہے کہ اس وقت کا آمرمطلق پرویز مشرف شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو شریف خاندان سے نہیں توڑ سکا تھا اور جب یہ کام اس وقت نہیں ہوسکا تو اب ان گرفتاریوں کے ذریعے کیسے ہو سکتا ہے جب پلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی بہہ چکا ہے اور اب دریا بھی جان لیو احد تک تیز اور طوفانی نہیں۔

آئیے !بنیادی سوال کی طرف واپس چلتے ہیں کہ حمزہ شہباز کا جرم کیا ہے، اُمید ہے کہ آپ کو سمجھ آگئی ہو گی کہ یہ نوجوان پابند سلاسل کیوں ہے، ارے ، آپ اب بھی منی لانڈرنگ کی بات کر رہے ہیں، چلیں چھوڑئیے بھی ناں، کیوں بچوں جیسی باتیں کرتے ہیں۔


ای پیپر