Source : File Photo

پیپلزپارٹی کا وزارت عظمیٰ کا انتخاب لڑنے کا فیصلہ
31 جولائی 2018 (19:53) 2018-07-31

کراچی: پاکستان پیپلزپارٹی نے وزارت عظمیٰ کا انتخاب لڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے، پیپلزپارٹی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کیلئے بھی بلاول بھٹو کو نامزد کرے گی، جبکہ پیپلزپارٹی نے سندھ میں تنہا حکومت بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی صدارت میں پارٹی کا مشاورتی اجلاس ہوا۔جس میں انتخابات 2018ءمیں ہونے والی دھاندلی کیخلاف احتجاجی تحریک چلانے اور قومی اسمبلی میں کردار ادا کرنے سمیت دیگر آپشنز پرغور کیا گیا۔ اسی طرح پیپلزپارٹی نے قومی اسمبلی میں بلاول بھٹو زرداری کوبطوروزیراعظم کا امیدوار بھی نامزد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ پیپلزپارٹی کے اجلاس میں اس بات پربھی مشاورت کی گئی کہ بلاول بھٹو زرداری کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کیلئے بھی سامنے لایا جائے گا۔اجلاس میں پیپلزپارٹی نے سندھ میں تنہا حکومت بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

پیپلزپارٹی کی قیادت نے سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کوقومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر بنانے کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔چیئرمین بلاول بھٹو کی صدارت اجلاس میں مسلم لیگ ن کے ساتھ پنجاب میں ملکر حکومت بنانے اور مولانا فضل الرحمن و دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ملکر دھاندلی کیخلاف احتجاجی تحریک چلانے کے لائحہ عمل پربھی بات چیت کی گئی۔واضح رہے گزشتہ روزاپوزیشن جماعتوں کا مرکز اور صوبائی اسمبلیوں ، دھاندلی کیخلاف احتجاج کے حوالے سے اجلاس بھی ہوا، جس کے بعد مولانا فضل الرحمن‘ یوسف رضا گیلانی اور راجا ظفر الحق میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔

مولانافضل الرحمن نے کہا کہ ہم سب ایک دوسرے کیخلاف الیکشن لڑ کرآئے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم اکٹھے ہیں کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ شرم آنی چاہیے ان اداروں کو جنہوں نے پاکستان کے مینڈیٹ کوچرایا۔ ووٹرز ووٹ چوری کرنے پرسر پکڑ کربیٹھے ہوئے ہیں۔کہ ہم کیا فیصلہ کیا تھا اور کیا ہوگیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ غیرملکی مبصرین نے بھی الیکشن کودھاندلی زدہ الیکشن قرار دیا ہے۔جبکہ الیکشن سے متعلق بین الاقوامی سطح پر تحفظات ہیں۔۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ بنوں ، ڈی آئی خان ، پنجاب اور سندھ میں مظاہرے ہورہے ہیں لیکن میڈیا میں کہیں بھی یہ نہیں دکھایا جارہا ہے۔میڈیا کوپیشکش کرتا ہوں جہاں ہم جمہوریت کی آزادی کی بات کررہے ہیں وہاں میڈیا سے بھی کہتا ہوں کہ آو ہمارے ساتھ چلو۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان کئی نکات پراتفاق ہوگیا ہے اور کئی پرمشاورت جاری ہے۔ضمنی انتخاب میں ملکر الیکن لڑا جائے۔ہم دھاندلی کیخلاف مشترکہ جنگ ملکر لڑیں گے۔لائحہ عمل مرتب کرنے کیلئے ایک اور اے پی سی بلائیں گے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی ملکر وفاق میں حکومت سازی کیلئے حکمت عملی طے کریں۔جبکہ پنجاب میں بھی مسلم لیگ ن کی پیپلزپارٹی کوسپورٹ کرنی چاہیے۔اس موقع پریوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ایک جماعت کے علاوہ تمام جماعتیں متحد ہیں کہ دھاندلی ہوئی ہے۔پارلیمنٹ کا فورم بہترین فورم اس کومضبوطی سے تھامیں گے۔

پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مضبوط کردار نبھائیں گے۔میڈیا پرسنسرشپ کی مذمت کرتے ہیں۔ اے پی سی اور پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں حکومت سازی کے حوالے سے بات کریں گے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما راجا ظفرالحق نے کہا کہ پورے الیکشن کمیشن کومستعفی ہوجانا چاہیے۔ہماری شکایات بھی نہیں سنی گئیں۔


ای پیپر