قومی اسمبلی کے سپیکر ہائوس میں متوقع اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس
31 جولائی 2018 (16:35) 2018-07-31

اسلام آباد : قومی اسمبلی کے سپیکر ہاؤس میں متوقع اپوزیشن جماعتوں کے مشاورتی اجلاسوں نے پارلیمانی حلقوں کو حیران کر دیا۔ ملکی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ 25جولائی 2018ء کے انتخابات میں ابھرنے والی اکثریتی جماعت کی مخالف جماعتوں کی ’’ سپیکر ہاؤس‘‘ میں بیٹھک ہوئیں۔ فائیو سٹار ہوٹل سے تواضع کا خصوصی انتظام کیا گیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق سابقہ حکمران جماعت کے پاس اسلام آباد میں زرداری ہاؤس اور خان ہاؤس بنی گالہ جیسی وسیع جگہ نہ ہونے پر سیاسی سرگرمیاں، آئندہ کے لائحہ عمل اور جوڑ توڑ کے معاملات پر سپیکر ہاؤس میں مشاورت ہوئی۔ نئی متوقع حکمران جماعت کے خلاف ان جماعتوں کے اب تک دو مشاورتی اجلاس ہو چکے ہیں اور پریس ٹاک میں تحریک انصاف کا مینڈیٹ تسلیم کرنے کا بھی کہا گیا ۔پہلا اجلاس پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کے قائدین کا ہوا۔ دوسرا وسیع اجلاس ہوا جس میں متذکرہ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کے علاوہ متحدہ مجلس عمل اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما بھی شریک ہوئے۔ اسلام آباد میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پاس کوئی مناسب جگہ نہ ہونے پر گذشتہ پانچ سالوں کے دوران بھی اس کی سرگرمیوں کا مرکز پنجاب ہاؤس اسلام آباد (سرکاری مقام) بنا رہا تھا۔

اسی طرح پاکستان تحریک انصاف کے بعض اہم اجلاس بھی خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں ہوئے تھے۔ تاہم قومی اسمبلی کے سپیکر ہاؤس واقع منسٹر کالونی میں سیاسی جماعتوں کے آئندہ کے لائحہ عمل کے سلسلہ میں مشاورتی اجلاسوں نے پارلیمانی حلقوں کو حیران کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق آئندہ ہفتے نومنتخب ارکان سے حلف لینے کے بعد اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہونگے اور نئے سپیکر کا انتخاب عمل میں آئے گا۔


ای پیپر