فوٹوبشکریہ فیس بک

مشرف رسول کو خلاف قواعد پی آئی اے کا سربراہ بنائے جانے پر سپریم کورٹ سخت برہم
31 جولائی 2018 (13:39) 2018-07-31

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے مشرف رسول کو خلاف قواعد پی آئی اے کا سربراہ بنائے جانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس میں کہا مشرف رسول کی تعیناتی میں قوانین کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ چیف جسٹس نے کہا یہ تو سیدھا سیدھا نیب کا کیس ہے۔ عدالت نے مشرف رسول کو وکیل کرنے کیلئے پیر تک کی مہلت دیدی۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے قومی ایئرلائن کی نجکاری کیس کی سماعت کی، درخواست گزار کے وکیل نے بتایا مشرف رسول ڈاکٹر ہیں پی آئی اے کی سربراہی کیلئے ان کے پاس مطلوبہ تعلیمی قابلیت ہے اور نہ تجربہ۔ 1999 میں وہ وزیراعلیٰ سردار مہتاب عباسی کے چیف آف سٹاف تھے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے مشرف رسول کی تعیناتی میں قوانین کی دھجیاں اڑائی گئیں، جبکہ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا یہ تو سیدھا نیب کا کیس ہے۔

ایک معاملہ پی آئی اے کے سی ای او کی تعیناتی کا بھی ہے عدالت کو بتایا گیا ایئرلائن کے سربراہ 14 لاکھ تنخواہ لیتے ہیں، بعد میں پتا چلا کہ ان کی تنخواہ تو 20 لاکھ ہے۔ عدالت نے استفسار کیا پی آئی اے بھاری فیس پر وکیل کیوں کر رہی ہے؟

قومی ایئرلائن کے وکیل نعیم بخاری نے بتایا وہ ڈیم فنڈ میں چندہ دینے کیلئے فیس لے رہے ہیں۔ عدالت نے مشرف رسول کو وکیل کرنے کیلئے پیر تک مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔


ای پیپر