انتخابی نتائج !
31 جولائی 2018 2018-07-31

25جولائی کے عام انتخابات کا سب سے بڑا اور عظیم نتیجہ تو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی قومی اسمبلی کے بیک وقت پانچ حلقوں سے جیت ہے، اس سے قبل یہ ”اعزاز“ ذوالفقارعلی بھٹو کو حاصل ہوا تھا۔ انہوں نے بیک وقت قومی اسمبلی کے چارحلقوں سے الیکشن لڑا اور چاروں میں کامیابی حاصل کی تھی۔ بھٹوکی یہ مقبولیت بعد میں اُن کے گلے پڑ گئی تھی۔ عمران خان کے لیے ہم دعاگو ہیں ان کی مقبولیت کی اللہ خصوصی حفاظت فرمائے، ....لاہور میں ان کا مقابلہ نون لیگ کے خواجہ سعد رفیق سے تھا۔ دیگر حلقوں کا پتہ نہیں اس حلقے میں کچھ نہ کچھ ایسی گڑ بڑ ضرورہوئی ہے جس کے نتیجے میں ہمارے پیارے خواجہ صاحب اتنے کم ووٹوں سے ہار گئے۔ یا یوں کہہ لیں ہمارے پیارے عمران خان اتنے کم ووٹوں سے جیتے۔ اب خواجہ سعد رفیق نے اس حلقے سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، 2013ءمیں ان سے الیکشن ہارنے والے پی ٹی آئی کے امیدوار حامد خان ایڈووکیٹ نے اپنی ناکامی کو چیلنج کیا تھا، خواجہ صاحب نے اقتدار کے پانچ برس مع وزارت پورے کرلیے اور ان کے خلاف کیس کا فیصلہ نہ آسکا، تب پہلی بار ہمیں احساس ہوا خواجہ صاحب صرف ”عسکری طاقت“ کے ہی نہیں ”عدالتی طاقت“ کے حامل بھی ہیں۔ ورنہ حامد خان جیسے ان کی اپنی نظر میں اعلیٰ پائے کے وکیل کے لیے اس کیس کا اپنے حق میں فیصلہ جو کہ میرٹ پر بھی بنتا تھا کروانا مشکل نہیں تھا، اب اگر خواجہ صاحب اپنی شکست کو چیلنج کریں اور اس کا فیصلہ آنے بھی پانچ برس لگ گئے اُمید ہے وہ اس کا بُرا نہیں منائیں گے ، عدلیہ ان کے اور ان کے گروﺅں کے ہاتھ، یا گرفت سے مکمل طورپر آزاد ہوچکی ہے۔ ویسے یہ بھی ہوسکتا ہے خواجہ صاحب کی اپیل پر ہونے والی دھاندلی کی تحقیقات کے نتیجے میں ان کے ووٹ مزید کم ہوجائیں ۔ الیکشن جیتنے کے جتنے جائز گُر اُنہیں آتے ہیں عمران خان کے بجائے پی ٹی آئی کا کوئی اور امیدوار ان کے مقابلے پر ہوتا وہ کبھی نہ ہارتے،.... اب وہ فرماتے ہیں ”میرے حلقے میں پی ٹی آئی نے پیسے کا بے دریغ استعمال کیا، بندہ پوچھے جائز ناجائز طریقے سے بنایا ہوا پیسہ آپ کے پاس بھی بہت ہے ، پیسے کا بے دریغ استعمال آپ بھی کرلیتے، آپ کو کس نے منع کیا تھا؟۔

۔مجھے نہیں پتہ عمران خان قومی اسمبلی کی کون سی نشست چھوڑتے ہیں اور کون سی پاس رکھتے ہیں؟ لیکن اگر لاہور کی نشست اُنہوں نے چھوڑی ایسی صورت میں ضمنی انتخابات میں خواجہ صاحب کو ایک موقع اور مِل جائے گا جس میں وہ چاہیں پی ٹی آئی کے مقابلے میں زیادہ پیسہ استعمال کرکے الیکشن جیت سکتے ہیں۔ خواجہ صاحب شاید پہلی بار اپنے مرد ہونے پر کف افسوس ملتے ہوں گے، وہ عورت ہوتے نون لیگ اُنہیں لازمی طورپر خواتین کی مخصوص نشستوں پر رکن قومی اسمبلی بنا دیتی۔ وہاڑی سے تہمینہ دولتانہ اس بار بھی بری طرح الیکشن ہار گئی حالانکہ انہوں نے تیاری اچھی طرح الیکشن ہارنے کی، کی ہوئی تھی ، مگر ان کے لیے پریشانی کی کوئی بات نہیں، اُمید ہے اُن کی جماعت اس بار بھی خواتین کی مخصوص نشستوں پر انہیں قومی اسمبلی کی رکن بنادے گی جس کے بعد وہ کم ازکم اپنے کاروبار چلانے میں بڑی آسانی محسوس کریں گی، ان کے مقابلے میں جیتنے والے پی ٹی آئی کے امیدوار طاہر اقبال کے پاس اللہ جانے کون سی گیدڑسنگھی ہے وہ ہر بار چاہے آزاد ہی کیوں نہ کھڑے ہوں بڑی آسانی سے الیکشن جیت لیتے ہیں اور بے چاری سیاسی وعوامی لحاظ سے اب قسمت کی ماری تہمینہ دولتانہ کو ان کے عورت ہونے کا بھی کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا۔ سابق وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان بھی الیکشن ہار گئے، سنا ہے اگلے روز انہوں نے اپنی ایک پریس کانفرنس میں فرمایا ” میرے حلقے کے عوام نے چار وجوہات کی بناءپر مجھے ووٹ نہیں دیئے۔ پہلی وجہ میں بتا نہیں سکتا، دوسری وجہ بتانے کا کوئی فائدہ نہیں، تیسری وجہ بتادی تو بڑی خرابی ہوگی اور چوتھی وجہ میں وقت آنے پر بتاﺅں گا“ ۔....اُنہیں چاہیے اب سیاست کو مکمل طورپر خیرباد کہہ کر ”وگ سازی“ کی کوئی صنعت لگالیں۔ سیاست کے مقابلے میں وہ زیادہ چلے گی۔ ذاتی طورپر مجھے ان کے ہارنے کا بہت دُکھ ہے کیونکہ شریف برادران نے ان کے بارے میں مشہور کررکھا تھا انہیں ووٹ صرف نون لیگ کے نام پر پڑتے ہیں، ممکن ہے اس بار انہیں ووٹ اِسی لیے نہ پڑے ہوں وہ فیصلہ کرنے کی قوت سے مکمل طورپر عاری ہوچکے ہیں۔ کچھ تکبر بھی ان کے آگے آگیا ہوگا جس میں ”شریف برادران سے کسی طرح بھی وہ پیچھے نہیں، کچھ عرصہ پہلے ان کے وزیراعظم بننے کی باتیں ہورہی تھیں۔ اب سیاست سے ان کا نام ونشان ختم ہونے جارہا ہے۔ انہیں اس حقیقت کو تسلیم کرلینا چاہیے وہ زمانہ گیا جب لوگ گھروں میں بیٹھے یا سوئے ہوئے امیدواروں کو ان کے رعب، دبدے یا طاقت کی وجہ سے ووٹوں سے نوازدیا کرتے تھے۔ ایسے لوگوں کے اب خاتمے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ گزشتہ تین سیاسی حکومتوں اور اسمبلیوں نے اپنی مدت پوری کی، سیاست کے اجارہ داروں کو ووٹ کی طاقت کا اندازہ اب اچھی طرح ہوجانا چاہیے۔ سیاست میں سارے چور دروازے اور راستے فی الحال بند ہوتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں، صرف ایک ہی دروازہ کھلا رہ جائے گا جو خدمت اور عاجزی کا ہے اور تو اور ہر بار کچھ نہ کچھ خفیہ قوتوں کی آشیرباد سے کامیاب ہونے والے مولانا فضل الرحمان بھی ہار گئے، مسرت شاہین نے اس بار ان کے مقابلے میں الیکشن اللہ جانے کیوں نہیں لڑا؟ اسے اگر پتہ ہوتا اس بار کچھ خفیہ قوتوں نے مولانا کی حمایت نہیں کرنی وہ ضرور ان کے مقابلے میں الیکشن لڑتی اور کامیاب بھی ہوجاتی، ہماری زندگی میں پہلی مرتبہ ایسی حکومت (عمران خان کی ) آئی ہے جو بغیر ”ڈیزل“ کے چلے گی، اور بہتر چلے گی، کچھ روز پہلے میں نے اپنی فیس بک وال پر زرداری ،نوازشریف اور مولوی فضل الرحمان کے بارے میں عرض کیا تھا ” یہی چراغ بجھیں گے تو روشنی ہوگی“ دوچراغ تو اب بجھ گئے ہیں، اگلے الیکشن میں تیسرا بھی شاید بجھ جائے۔ اس کے بعد اُجالا ہی اُجالا ہے۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباس بھی ہار گئے، اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں وہ بہت لہک لہک کر اور چہک چہک کر ”ووٹ کو عزت دو“ کے نعرے بلند کررہے ہوتے تھے، اب لوگوں نے ووٹ کو عزت دے کر انہیں شکست دے دی ہے وہ یقیناً سوچتے ہوں گے میں یہ نعرہ نہ ہی بلند کرتا تو اچھا تھا، ممکن ہے اب لوگوں سے وہ گِلہ کریں کہ میں نے ووٹ کو اتنی عزت دینے کے لیے بھی نہیں کہا تھا جتنی آپ نے دے دی۔....اور ہاں یاد آیا نون لیگ کی مونچھ بھی آدھی سے زیادہ کٹ گئی، رانا ثناءاللہ صوبائی اسمبلی کا الیکشن اپنے ہی آبائی حلقے سے ہار گئے جس کے بارے میں ان کا خیال تھا اس حلقے سے وہ کم ازکم ایک ”کروڑ“ ووٹوں سے ضرور جیتیں گے۔ میں سوچ رہا ہوں حکومت سے فراغت کے بعد وہ کیا کریں گے؟ ۔ انہیں چاہیے اب اپنا کوئی ” مدرسہ “ وغیرہ کھول لیں، کیونکہ زیادہ امید یہی ہے پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت بنے گی جس کے عدم استحکام کے لیے مدرسہ ان کے کام آئے گا ، ان کی گردن کا سریا اب بھی شاید نہ نکلے کہ کچھ لوگوں کی صرف گردن ہی اکڑتی ہے !


ای پیپر