ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں ۔۔!
31 جولائی 2018 2018-07-31

بالآخر عمران خان پہلا راﺅنڈجیت گئے، اب ہو گی اصل لڑائی جہالت،غربت اور بےروزگاری کے ساتھ،بیماری کے ساتھ، سہولیات زندگی کی عدم فراہمی کے خلاف لیکن اس کے لئے پہلے اسے اپنی اکثریت قومی اسمبلی میں ثابت کرنا ہوگی۔عمران کی جیت کو مشکوک بنانے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کا بہت بڑا ہاتھ ہے ،عمران کا یہ الیکشن جیتنا ہر ایک کو نظر آرہا تھا لیکن اب اس پر ہر کوئی انگلی اٹھا رہا ہے، تو یہ کمال الیکشن کمیشن آف پاکستان کا ہے اور میں مبارکباد پیش کرتا ہوں چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار رضا محمد خان ، سیکرٹری بابر یعقوب فتح محمد اور ترجمان الطاف خان کو جنہوں نے بڑی محنت سے اتنی گرد اڑانے کے بعد اس پر آر ٹی ایس کی ناکامی کا پانی ڈال کر تمام کیچڑ عمران خان کی جیت پر مل دیا ہے ،کبھی نہ کبھی یہ بات بھی سامنے آجائے گی کہ بابریعقوب فتح محمد کو چیف سیکرٹری پنجاب بنانے کے وقت کیا مسئلہ ہوا تھا جس کا انتقام انہوں نے پی ٹی آئی سے لیا ہے۔

پی ٹی آئی کے لئے پہلے ہی کیا مسائل کم تھے کہ فارم 45اور آر ٹی ایس جیسے مشکوک معاملات بھی اس کے گلے پڑگئے۔ اب انہیں وفاق اور صوبوں میں اچھی ٹیم کے انتخاب کا مرحلہ درپیش ہے ، سمجھنے کی بات صرف ایک ہے کہ عوام نے ووٹ عمرا ن خان کو دئیے ہیں ان کی عملی سیاست کے تقاضے نبھانے کی حکمت عملی کو نہیں ، ورنہ بھاری تعداد میں الیکٹ ایبلز کو شکست کا سامنا نہ کرناپڑتا،کیا فردوس عاشق اعوان، نذر گوندل،ہراج برادران اور کیا سردار ذولفقار کھوسہ ،کوئی بھی نام نہاد الیکشن کی سائنس سمجھنے والا سیاہ ست دان کامیاب نہیں ہوسکا ، یہاں تک کہ ہمارے دوست ندیم افضل چن بھی نہیں جو ان سب میں سے بہتر آدمی تھے لیکن عوام نے کپتان کو اپنا فیصلہ اور اپنی سوچ واضح طور پر بتادی ہے اب ٹکٹوں کی تقسیم اور پارٹی میں شامل کرنے تک عوام کی سوچ کے برخلاف فیصلے ووٹوں کے ذریعے مسترد کیے جاچکے ہیں اگر اب بھی ممکنہ وزیراعظم اپنے مشیران کی سوچ کو چھوڑ کر اپنے وجدان سے فیصلے کریں تو کامیابی ان کا اور ان کے ساتھ ساتھ بائیس کروڑ عوام کا مقدر بن سکتی ہے لیکن اگر وہ نیب زدگان اور مختلف مقدمات میں ملوث افراد کو آگے لائیں گے تو مایوسی ہوگی جو ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جائے گی۔تازہ دم اور بے داغ چہرے سامنے لانے سے ان لوگوں کو حوصلہ ہوگا جو پارٹی کی حکمت عملی میں تبدیلی سے بددل ہوگئے تھے ،ایک بار پھر نئے حوصلے سے پارٹی سے جڑ جائیں گے۔

چوہدری نثار اگر اس موقع پر تحریک انصاف سے مل جاتے ہیں تو وہ بھی ایک اچھا اضافہ ہوسکتے ہیں اور صاف گوئی اور مالی طور پر صاف ستھرے انسان کو کوئی ذمہ داری بھی دی جاسکتی ہے اگر وہ اپنی انا سے اوپر اٹھ کر کوئی فیصلہ کرسکیں،لیکن ان کے سوابھی کئی اچھے لوگ پارٹی میں موجود ہیںجو نظریات اور عمل کا ملاپ کرسکتے ہیں صرف درد مندی شرط ہے۔ شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کی رسہ کشی سے معاملات خراب ہورہے ہیں اور ذاتی مفاداور منصب کے حصول کی خواہش کو عوام بخوبی دیکھ رہے ہیں ، سمجھ رہے ہیں لیکن عظیم تر عوامی مفاد اس لڑائی میں گم ہوگیا تو کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔پروٹوکول کا خاتمہ ، دیانت دار حکومتوں کا قیام اگر وجود میں آگیا تو بے لاگ اور بلاامتیاز احتساب کا خواب بھی پورا ہوجائے گا لیکن اس کےلئے بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنا ہوگی یا نو من تیل کا بندوبست کرنا پڑے گا تو کیا اس کی تیاری ہے؟

عمران خان کی پہلی تقریرنے بلاشبہ عام آدمی کے دل میں ایک جوت جگائی ہے لیکن اگر پہلے تین ماہ میں واضح ترجیحات کی جانب پیش قدمی نہ ہوئی تو پھر بہت مشکل ہوجائے گی۔دوسری جانب شکست خوردہ عناصر جن کی پارلیمان میں اپنی موجودگی ہی ان کا سب سے بڑا مفاد ہوا کرتا ہے،زخم چاٹتے ہوئے پورے نظام کے درپے ہیں،مولانا فضل الرحمن ،اسفند یار ولی ،محمود خان اچکزئی ،ڈاکٹر فاروق ستار ، آفتاب شیرپاﺅ اور اکرم درانی کی جانب سے انتخاب کالعدم قرار دئیے جانے کو زیادہ اہمیت نہیں دی جانی چاہیے کہ ان کے نزدیک اگر وہ اسمبلی میں نہیں ہیں تو پھر اسمبلی کی ضرورت ہی نہیں ہے، اللہ جانے دیدوں کا پانی مر گیا ہے یا پانی تھا ہی نہیں کہ بسیں لوٹنے والے اور عوام کے پیسوں پر موج مارنے والے ،جس پاکستان کا کھاتے تھے اسی کے خلاف باتیں کرنے والے اپنی اوقات دکھانے پر تل گئے ہیں ، اگر کوئی نہیں ملتا تو سراج الحق اور غلام احمد بلور سے ہی عزت اور رکھ رکھاﺅ سیکھ لیں،جمہوریت صرف آپ اور آپ کے خاندان کو اسمبلی میں پہنچانے والی بس کا نام نہیں، ہار اور اسے عزت کے ساتھ تسلیم کرنا بھی جمہوری روایت ہے مگر آپ کا الیکشن میں ہار کے ساتھ ہی ہر اچھی چیز سے ایمان اٹھ گیا ہے !

یہ بھی کیا کریں کہ ہر طرف یہی حال ہے کسی نے صحافت کی بربادی کا نوحہ نما لکھنے کی کوشش کی ہے اور میرے ضمیر کو جھنجوڑکر رکھ دیا ہے،یہ ماسٹر پیس پڑھ کرعش عش کرتے ہوئے میں سوچ رہا ہوںکہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ صحافت روز قتل ہوتی رہی ہو اور اسے دفنا کر اگلے دن قتل کرنے کے لئے قبر سے نکالا بھی جاتا رہا ہو اور مجھے پتہ بھی نہ چلا ہو ،میں یہ مان بھی لوں لیکن یہ میں تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوں کہ ایسا صرف عمران خان کے مردے میں جان ڈالنے کے لئے کیا جاتا تھا ،پینتیس سال سے اور بھی شریف قسم کے مردے دفنائے جانے کے منتظر تھے لیکن ان کے اندر روح پھونکتے رہنے کے لئے جو صحافت کو سربازار برہنہ رقص پر مجبور کیا جاتا رہا وہ کیوں نظروں سے اوجھل رہا ، کیا اس لئے کہ مجھے تو کیا میرے کسی رشتہ دار کو بھی صحافت کی لاش پر پاﺅں رکھ کر سیاست کے لندن میں گھسنے کا موقع نہیں ملا ؟جب صحافی مخیر سلطان کے سامنے کلمہ ناحق کے بدلے نائب تحصیلدار اور اے ایس آئی بھرتی کرارہے تھے تو اس وقت صحافت کو ملٹی وٹامن کے انجکشن لگ رہے تھے یا اس کی تاج پوشی ہورہی تھی؟

ہوسکتا کہ چین کے مجوزہ منصوبوں سے تین ،چار تنخواہیں میرے گھر میں آنا شروع ہوجائیں تو میری آنکھیں بھی یہ سب دیکھ پائیں ،لیز پر پٹرول پمپ مل جائیں یا کہیں کوئی اور ٹھیکہ مل جائے،بیٹا بھرتی ہوجائے ،مکان یا پلاٹ الاٹ ہوجائے تو شاید میرے اندر کی روحانی قوتیں بھی بیدار ہوجائیں جس سے میری تیسری آنکھ بھی بینا ہوجائے؟

پھر خیال آیا دفع کرو اتنی لمبی بے غیرتی کون منہ پر ملے؟ ان شریف اور غیر شریف مردوں کو دفنا کر ان کی قبروں پر مزار بنا کر بھی تو کمائی کی جاسکتی ہے !


ای پیپر