PML-N, Sicilian mafia, democracy, Pakistan, Justice retired Azmat Saeed
31 جنوری 2021 (12:31) 2021-01-31

پاکستان میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہوں گی۔اسی صورت میں عام آدمی کی زندگی بہتر ہو گی۔ سوال یہ پید ا ہوتا کہ پاکستان میں 72سالوں سے جمہوریت مضبوط نہیںہوسکی ہے۔ اس کی وجہ یہ  ہے کہ سرمایہ دار طبقہ اس ملک کی سیاست پر قابض رہا ہے۔دنیا میں ایسے کئی ممالک ہیں۔جہاں نہ صرف جمہوریت مستحکم ہوئی بلکہ عام آدمی کی زندگی میںبھی بہتری کا انقلاب آیا۔جمہوریت کا فروغ رکھنے والے دنیا کے 200ممالک میں سے نصف سے زائد ملکوں میں جمہوریت باقاعدہ رائج ہے۔ جمہوری نظام کی اس برتری میں سب سے پہلے نمبر پرجو ملک آتا ہے۔وہ سوئزر لینڈ ہے۔ دوسرے نمبر پر نیوزی لینڈ آتا ہے۔پھر اسی طرح ڈنمارک اور سویڈن ہیں۔ان ملکو ں کا جمہوری سسٹم  ایک ستون آزادی اور دوسرا  ستون مساوات  پر قائم ہے۔ آزادی کا مطلب کہ امیر اور غریب دونوں کو جینے کا حق ہے۔مساوات سے مراد یہ لی جاتی ہے۔وہا ں انسان فطری طور پر برابر ہیں۔ہر ایک کو آمدنی اور برتائو کا مساوی حق حاصل ہے۔اس طرح تما م شہریوں کو یکساں سیاسی حقوق بھی حاصل ہوتے ہیں۔بدقسمتی سے پاکستان میں یہی روایت دیکھی گئی ہے کہ دولت کی تقسیم کے سلسلے میںیہاںعدم مساوات ہے۔جس کے باعث ماضی بعید سے اس ملک کے سیاسی عمل میں ایسے لوگ گھس آئے ہیں۔جو دولت مند ہیں اور سرمایہ دار ہیں۔وہ نوٹوں کے بل بوتے انتخابات میں کامیابی حاصل کرلیتے ہیں۔ سیاسی حقوق کو اپنی اجارہ داری سمجھ لیتے ہیں۔اس سے ناجائز استفادہ کرتے ہیںاوردولت کی کسوٹی سے پرکھ کا کام لیتے ہیں۔یہ ہی وہ وجہ ہے جو یہاں سیاسی مساوات  کے خاتمے کا المیہ بنی ہے۔

اس حوالے سے مسٹر جسٹس عظمت سعید کے وہ ریمارکس تاریخی ہیں۔جن میں انہوں کہا تھا کہ ن لیگ سسلین مافیا ہے۔اس نے ملک میں جمہوریت کی جڑوں کو کھوکھلا کیا ہے۔مال کھائو اور مال لگائو جس کا کام تھا۔قبضہ مافیا کی پشت پناہی ان کا وطیرہ رہا۔دولت مندکو اور امیرکرتے گئے۔ غریب کو غریب تر کرتے آئے۔پچھلے دنوں وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے لاہور کے سب سے بڑے قبضہ مافیا یعنی کھوکھر وں کے ناجائز قبضوں کے خلاف آپریشن کرایا۔جو ایک میگا کاروائی تھا۔جب دْم پر پیر آتا ہے تو بلبلانے والے کی تڑپن دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔سو اسی طرح ادھر کھوکھر قبضہ گروپ 

کے خلاف ایکشن لیاگیا۔اْدھر مریم نواز اس دکھ میں مری جانے لگیں۔وہ قبضہ مافیا کے گھر پہنچ گئیں۔ان کے محلات گرائے جانے پر دکھ کا اظہا رکیا۔وہ ایسا کرنے پر مجبور تھیں۔کیونکہ کھرکھر نامی یہ وہی قبضہ مافیا ہے۔جس نے سپریم کورٹ میں نواز شریف کی ضمانت کے موقع پر 70سے 80لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرائے تھے۔جب نواز شریف اپوزیشن میں ہوتے تھے۔اس دوران ان کے خرچے اور تمام اللے تللے یہ لوگ پورا کیا کرتے تھے۔ جب وہ اقتدا رمیں آتے۔پھر وہ ان دولت مندوں اور سرمایہ داروں کوہی  حکومت میںلے کر آتے تھے۔یہ مافیا ہی تھا جو نواز دور میں تھانہ کلچر سنبھالتا اور اس کو پروان چڑھاتا۔کمشنر ،ریجنل پولیس آفیسر ،ڈپٹی کمشنر یا ڈی پی او ان کی مرضی سے لائے جاتے تھے۔جب جمہوریت اس طرز کی ہو۔جس میں ٹھیکے داروں کو ،کارپوریٹ سیکٹرز ،ہائوسنگ سوسائٹی کے مالکان اور جرائم پیشہ عناصر کوحکومت میں بڑے عہدے دیئے جائیںتو پھر جمہوری نظام کی شکل تو مسخ ہوگی۔نواز شریف پر ہی موقوف نہیں۔آصف زرداری اپنے دور میں ملک ریاض جیسے متمول ترین شخص کو ڈھونڈ لیتا ہے۔جبکہ ان کے برعکس پی ٹی آئی کا انتخاب علیم خان جیسا انسان ہوتا ہے۔نواز شریف اورآصف زرداری جیسے ملک میںحکمرانی کرتے رہے اور پھر کہا جائے کہ ملک میں جمہوریت مضبوط نہیں ہوتی یا یہاں سیاسی مساوات نہیں ہے۔ اس کے عوامل یہی تو ہیںجو ہمارے جمہوری سسٹم کو ڈستے رہے ہیں۔عدم مساوات کے سبب یہاں دولت مند پہلے سے زیادہ امیر ہوتا آیا ہے۔غریب کو غربت کی چکی میں پسنے یا کسمپرسی میںزندگی گذارنے کے سوا کچھ نہیںمل سکا ہے۔

جمہوری حکومت میں ہر شہری کو یہ سیاسی حق حاصل ہے کہ وہ حکومت کی پالیسی پر نکتہ چینی کرسکتا ہے۔حکومت کی پالیسیوں پر اپنی رائے کا اظہا رکرسکتا ہے۔اس حوالے سے پاکستان میں آئین میں ترمیم کرنے سے جمہوریت کسی خطرے کی زد میںنہیں آئے گی نہ ہی کوئی سیاسی طوفان آئے گا۔جبکہ دولت اور اقتدار کی ہوس کی پجاری پی ڈی ایم کو یہی لگتا ہے کہ ہر وہ کام جس سے ان کو فائدہ پہنچتا ہو وہ ٹھیک ہے ورنہ حکومت کا ہر عمل سیاسی طوفان سے کم نہیں ہے۔سینٹ انتخابات کے حوالے سے ماضی کی تاریخ ہارس ٹریڈنگ کی روایت کی گواہ ہے۔اب وزیر اعظم عمران خان سینٹ انتخابات میںشفافیت لانے کے خواہا ں ہیں۔تاکہ اس میںکامیاب ہونے والے دولت کے بل پرنہیں ووٹ کے ذریعے آئیں۔جس کے لیئے پی ٹی آئی سینٹ انتخابات میں ترامیم کرنے جارہی ہے۔ ماضی کی حکومتوںنے 2006میں میثاق جمہوریت پر سائن کیئے تھے۔جس کی شق نمبر23میں طے تھا کہ سینٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے ہوں گے۔ شفاف انداز میںہوں گے۔بدقسمتی سے اس کے باوجود ماضی میں ضمیر بکتے رہے اور عوام کے اعتماد کو کوڑے دان کی نذر کردیا گیا۔وزیر اعظم عمران خان سینٹ کی ترامیم کرنے جارہے ہیں۔اس سلسلے میںسب سے پہلی ترمیم آرٹیکل 59(2)کے تحت سینٹ الیکشن سنگل ٹرانسفر ووٹ کی بجائے اوپن ووٹ کا لفظ استعمال کیا جائے گا۔دوسری ترمیم آرٹیکل 226میں ایک لفظ کی ترمیم کی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ پہلے شق تھی وزیراعظم سمیت دیگر عہدوںکا الیکشن اوپن ووٹنگ سے ہوگا۔مگر اب وزیر اعظم اور سینٹ سمیت دیگر عہدوںکا الیکشن اوپن ووٹنگ سے ہوگا۔اس میںصرف ایک لفظ ایڈ کیا جارہاہے وہ سینٹ ہے۔تیسری ترمیم 61(3)ہے۔پہلے بیرون ملک رہنے والے دوہری شہریت رکھنے والے الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے تھے۔لیکن اب بیرون ملک رہنے والے یا دوہری شہریت رکھنے والے الیکشن لڑسکتے ہیں۔چاہے وہ قومی اسمبلی ،صوبائی اسمبلی یا سینٹ کا الیکشن کیوں نہ ہو۔الیکشن جیتنے کے بعد مگر حلف اٹھانے سے قبل دوہری شہریت چھوڑنی پڑے گی۔ہارنے کی صورت میںدوہری شہریت نہیں چھوڑنی پڑے گی۔یہ وہ ترامیم ہیں۔جن کو اب پارلیمنٹ اور سینٹ سے پاس کرایا جارہا ہے۔جس سے جمہوریت مضبوط ہوگی۔ 

ادھر براڈ شیٹ نے انڈے دینا شروع کردیئے ہیں۔جس میں مسٹر جسٹس عظمت سعید کی انکوائری کے خوف سے سسیلن مافیا کی چیخیں نکل رہی ہیں۔تاریخ میںپہلی بار تین جرنیلوں پرہاتھ ڈالا جارہا ہے۔جن میںجنرل منیر حفیظ ،جنرل امجد اور جنرل خالد مقبول شامل ہیں۔ اسی طرح براڈ شیٹ معاملے میں آصف علی زرداری کے سوئس بنکوں کی رقومات تفتیش بھی اس میں شامل ہے۔


ای پیپر