پی آئی اے کی کارکردگی میں اہم پیش رفت
31 جنوری 2020 (17:43) 2020-01-31

اسلام آباد:وفاقی وزیر شہری ہوابازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ پی آئی اے کا حشرنشر کر کہ ہمارے حوالے کیا گیا، پی آئی اے کا خسارہ 32 ارب سے کم ہو کر 2019 میں 11ارب رہ گیا ، پی آئی اے میں جعلی ڈگریوں کے حامل 600افراد کو ملازمتوں سے برطرف کیا گیا ہے، تمام گراﺅنڈ کئے گئے جہازوں کو پروازوں کے لئے فعال کردیا، آٹھ بوئنگ 777طیاروں میں دوران پرواز خاطر داری کو بہتر بنانے کے حوالے سے سپریم کورٹ کے ریمارکس کی روشنی میں ٹینڈرز پر مزید پیشرفت روک کر تحقیقات کا حکم دیدیا ہے۔

جمعہ کو قومی اسمبلی میں عبدالکریم بجار کے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی جانب سے آٹھ بوئنگ 777طیاروں میں دوران پرواز خاطر داری کو بہتر بنانے کے لئے مشکوک انداز میں 70 کروڑ روپے کا ٹھیکہ دینے سے متعلق توجہ مبذول نوٹس کا جواب دیتے ہوئے غلام سرور خان نے کہا کہ 21 مئی 2019 کو ٹینڈر کئے گئے جو 15 جولائی 2019 کو کھولے گئے،دو کمپنیاں سامنے آئیں۔ان میں ایک کی وارنٹی 18 ملین ڈالر اور دوسری کی 4.5 ملین ڈالر تھی۔ ایک کمپنی کی وارنٹی مدت پانچ سال جبکہ دوسری کی ایک سال تھی۔ ابھی کسی کمپنی کو ورک آرڈر نہیں دیا گیا ہے۔ یہ معاملہ عدالت میں بھی زیر سماعت ہے۔

اس حوالے سے سپریم کورٹ کے ریمارکس بھی سامنے آئے ہیں۔ ہم نے اس تناظر میں تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ اس معاملے میں مزید کسی بھی قسم کی پیشرفت بھی روک دی گئی ہے۔توجہ دلاﺅ نوٹس پر آغا رفیع اللہ اور دیگر کے سوالات کے جواب میں وفاقی وزیر برائے شہری ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا کہ پی آئی اے کو تباہ و برباد کرکے ہماری حکومت کے سپرد کیا گیا ہے۔ اربوں روپے کا خسارہ ہمیں ورثے میں ملا ہے۔ تمام تر خرافات کے باوجود پی آئی اے کو بہتر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تمام تر گراﺅنڈ طیاروں کو فعال کردیا گیا ہے۔ خسارے میں کمی آرہی ہے۔

جعلی ڈگریوں کے حامل 600 ملازمین کو نکال دیا گیا ہے۔ پی آئی اے کا ریونیو بڑھ رہا ہے اور خرچوں میں کمی آرہی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 2017 میں پی آئی اے کا خسارہ 32 ارب 2018 میں 29 ارب اور ابھی آڈٹ کے بغیر اعداد و شمار کے مطابق 2019 کا ریونیو 146ارب ہے اور خسارہ کم ہو کر 11 ارب رہ گیا ہے۔


ای پیپر