این ایف سی ایوارڈ
31 جنوری 2019 2019-01-31

مالیاتی ایوارڈ اور وفاق کی جانب سے صوبوں کو گرانٹس پاکستان میں موضوع بحث رہی ہیں۔صوبے خود کو وفاق کے رحم و کرم پر سمجھتے رہے۔اس صورتحال میں ساتویں مالیاتی ایوارڈ کے بعد ایک حد تک توازن پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔جب مجموعی طور پر صوبوں کا حصہ بڑھایا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس ایوارڈ کو آئینی تحفظ بھی دیا گیا کہ کہ صوبوں کا حصہ آئین میں ترمیم کے بغیر کم نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ایوارڈ اگرچہ پیپلزپارٹی کے دور حکومتیں دیا گیا تھا لیکن اس وقت ملک کی دوسری بڑی پارٹی نواز لیگ اپوزیشن میں اور پنجاب میں حکومت میں تھی۔لہٰذا یہ ایوارڈ پوری چھان پھٹک کے بعد منظور کیا گیا تھا۔ اس ایوارڈ کے آنے کے بعد آئی ایم ایف اور سیکیورٹی اسٹبلشمنٹ صوبوں سے اتنی بڑی رقومات کی صوبوں کو منتقلی پر سوالیہ نشان ڈالتی رہی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے نے گزشتہ سال این ایف سی ایوارڈ میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کے لئے کہا تھا تاکہ وفاقی حکومت کے اخراجات کو پورا کیا جا سکے۔

2009 میں پیپلزپارٹی کی حکومت نے ساتواں این ایف سی ایوارڈ دیا تھا جس میں صوبوں کا حصہ بڑھا دیا گیا تھا۔ تب سے وفاق اپنے اخراجات حدود میں رہ کر کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس ضمن میںآئی ایم ایف کے تین بڑے مشورے ہیں۱) مشترکہ مفادات کی کونسل کے ماتحت ٹیکنوکریٹس کی کی ایک مالیاتی کمیٹی تشکیل دی جائے۔ ۲) وفاق اور صوبوں کے مشترکہ نگرانی میں مستقل کانٹیجنسی فنڈ قائم کیا جائے۔ ۳) صوبوں اور وفاق کے مشترکہ دائرہ اختیار میں ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لئے نیشنل ٹیکس کمیشن قائم کیا جائے۔ آئی ایم ایف پاکستان کی مالی صورت حال پر اس لئے بھی نظر رکھے ہوئے ہے کہ پاکستان اس کا گاہک ہے۔ ابھی بھی اس کا مقروض ہے اورآئندہ بھی قرضہ دینے کا خواہشمند ہے۔ اس کو پاکستان کے عوام یا صوبوں سے زیادہ اپنے قرضے اور منافع کی فکر زیادہ رہتی ہے۔

موجودہ این ایف سی ایوارڈ جس کو صوبوں کے حق میں زیادہ سمجھا جاتا ہے اس کا جھکاؤ بھی چھوٹے صوبوں کی طرف کم ہے۔ وفاق اور صبوں کے درمیان تقسیم کے بعد جو رقم بچ جاتی ہے وہ قابل تقسیم پول کہلاتا ہے۔قابل تقسیم پول میں سے پانچ فیصد روینیو جمع کرنے 10.3 فیصد غربت پر،2.7 فیصد آبادی کا دباؤ کم کرنے پر خرچ ہوتا ہے جبکہ باقی 82 فیصد آبادی کی بنیاد پر تقسیم کیا جاتا ہے۔ قومی مالیاتی کمیشن کا اجلاس چھ فروری کو اسلام آباد میں منعقد ہو رہا ہے۔ملک کی موجودہ مالی صورتحال اور بعض حلقوں کی جانب سے ساتویں ایوارڈ پر تحفظات کے اظہارکرتے رہنے کی وجہ سے اس اجلاس کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ایک طرف اس اندیشے کا اظہار کیا جارہا ہے کہ ساتویں ایوارڈ اور اٹھارویں ترمیم کے ذریعے جومالی اور سیاسی توازن قائم ہوا ہے اس میں کوئی بگاڑ نہ آجائے۔دو سری طرف ایک دوسرے کے مقابل دلائل ہیں۔اس ضمن میں سندھ کا رول زیادہ ابھرا ہوا نظر آتا ہے۔کیونکہ سندھ میں ایسی جماعت کی حکومت ہے جووفاق میں اپوزیشن میں ہے۔ دوسرے یہ کہ سندھ قدرتی گیس، تیل کی پیداوار زیادہ دیتا ہے اور سیلز ٹیکس کی وصولی بھی یہاں سے دوسرے صوبوں کے مقابے میں زیادہ ہے۔ تحریک انصاف کی مرکز اور دو صوبوں میں حکومت ہے۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کی اور بلوچستان میں مخلوط حکومت ہے۔ چھوٹے صوبوں کے حق میں اقتدار کا جھکاؤ نہیں ہے۔

سندھ کا شروع سے یہ موقف رہا ہے کہ وفاقی محاصل کی تقسیم آبادی کی بنیاد پر کرنے کے بجائے صوبوں کی بنیاد پر کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ آمدنی بڑھانے پر متعلقہ صوبے کو زیادہ حصہ دیا جائے۔ اگرچہ ہول سیل اور رٹیل سیلز خدمات کے دائرے میں آتے ہیں، لیکن وفاقی روینیو بورڈ سیلز ٹیکس وصول کرتا ہے۔ سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کام سندھ روینیو بورڈ زیادہ بہتر طور پر کر سکتا ہے۔ سندھ یہ بھی تجویز رکھتا ہے کہ سیلز ٹیکس اگر صوبوں کو نہ دیا جائے تو یہ کام کم از کم سندھ میں صوبائی روینیو بورڈ وفاق کی جانب سے کر سکتا ہے۔ وصولی پراٹھنے والے اخراجات منہا کر کے باقی رقم وفاق کو دی جاسکتی ہے۔ اسی طرح سے وفاقی حکومت غیر منقولہ جائداد پر کیپٹل گین ٹیکس وصول کرتا ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد یہ ٹیکس صوبائی دارے میں آتا ہے۔ گیس انفرا اسٹرکچر ڈولپمنٹ سیس بھی صوبوں کو منتقل کیا جائے کیونکہ یہ بھی صوبائی دارے کا اسم ہے۔ سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ سندھ کو اس ضمن میں وصول کی جانے والے ٹیکس میں سے کبھی بھی اس کا جائز حصہ نہیں ملا ہے۔ سندھ یہ بھی چاہتا ہے کہ قدرتی گیس پر ایکسائیز ڈیوٹی میں اضافہ کیا جائے۔

خام تیل اور قدرتی گیس پر رائلٹی وفاق وصول کرتا ہے اور اس کے لئے دو فیصد رقم وصولی کی مد میں اپنے پاس رکھتا ہے۔ یہ رائلٹی وصول کرنے کا اختیار بھی صبوں کو دیا جائے۔ آکٹرائے اور ضلع ٹیکس تصرف کا ٹیکس ہے جس میں سندھ کا حصہ 46 فیصد بنتا ہے۔ لیکن وفاقی حکومت کے پاس اس کی تقسیم جانے کے بعد اس کو کم رقم دی جاتی ہے۔ اس مقصد کے لئے وفاقی حکومت نے سیلز ٹیکس کی شرح 12.5 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کی تھی۔ سندھ کا یہ موقف ہے کہ 2010 میں اس اس مد میں رقم کی تقسیم کو بھی این ایف سی ایوارڈ کے تناسب سے دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس سے سندھ کو نقصان پہنچا ہے۔ سندھ چاہتا ہے کہ اس مد میں سندھ کے حصہ میں دو فیصد اضافہ کیا جائے۔ این ایف سی ایوارڈ طویل عرصے تک التوا کا شکار رہا۔ نواز لیگ حکومت کی پالیسیوں کی ناکامی میں سے ایک یہ بھی ہے۔ اب سخت معاشی دباؤ کی وجہ سے حکومت این ایف سی ایوارڈ کی طرف جارہی ہے۔

اب آئینی طور پرسوشل سیکٹر صوبوں کا دائرہ اختیار ہے۔ لہٰذا زیادہ وسائل مرکز سے صوبوں کو جانے چاہئیں۔ ان کو اپنے پسماندہ علاقوں کو ترقی دلانے ہے غربت کے خاتمے کے اقدامات کرنے ہیں۔ اس کے لیے بھی وسائل کی ضرورت ہے۔ سندھ اور بلوچستان کو یہ شکایت بھی موجود ہے کہ اٹھارویں ترمیم پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے صوبائی خود مختاری ایک خالی کاغذی تحریر بن گئی ہے۔ بعض محکمے اور ان کے اثاثے صوبوں کو منتقل نہیں ہوئے ہیں۔ بلوچستان کے لئے صوبے کی صلاحیت کا مسئلہ ہو سکتا ہے جس کا عموماً ذکر بھی کیا جاتا ہے لیکن سندھ اور دیگر صوبوں کے لئے صلاحیت کا مسئلہ نہیں ہے۔ اس لئے سندھ اختیارات کی اٹھارویں ترمیم کے مطابق مکمل منتقلی چاہتا ہے۔

این ایف سی کے آئندہ اجلاس میں سندھ نے مذکورہ بالا نکات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئین کسی طرح بھی صوبوں کو اس منتقلی میں کمی کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ تحریک انصاف کی حکومت آئینی بندشوں کی موجودگی میں ایوارڈ کیسے تبدیل کر پائے گی؟ جبکہ حکمران جماعت کی اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں کے ساتھ شدید سیاسی کشیدگی چل رہی ہے۔ یہ ایک سیاسی سوال ہے۔ تاہم اگر کوئی اور مکینزم بھی بنایا جاتا ہے تو بھی نیا ایوارڈ ایسا ہو کہ صوبوں کو زیادہ ترغیب ملے کہ وہ اپنے سوشل سیکٹر کو بہتر بنائیں۔


ای پیپر