گرنے کی جلدی کیوں؟
31 جنوری 2019 2019-01-31

کیا حکومت گر رہی ہے۔ اگر گر رہی ہے تو اس کو کون گرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اقتدار سنبھالتے ہی مخالفین کے بارے میں یہ راگ الاپا گیا اور یہ منظم انداز سے کہا گیا یہ ڈاکو، وہ چور، یہ لٹیرا اور فلاں ٹھگ، سب جیل میں جائیں گے۔ سلوگن بدل گیا دو ماہ کے بعد کورس میں کیا گیا کیس کسی کو این آر او نہیں ملے گا۔ ایک وزیر جس نے اقتدار ملنے کے اگلے روز دوسو ارب ڈالر لانے کا قوم کو عندیہ دیا۔ اُس سے بھی کسی نے این آر او مانگ لیا حد ہوتی ہے۔ مگر نعرے جعلی اور دھوکہ تھے۔ وزیروں کی فوج کو کوئی سنجیدہ نہیں لیتا۔ ہمارے سابق چیف جسٹس صاحب جن کا اصل کام عدالتی نظام کی اصلاح کرنا تھا انہوں نے اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ مگر اُن کے فیصلوں اور ریمارکس سے ایک سیاسی جماعت کو خراب کسا گیا۔ سابق وزیروں تک کو نا اہل قرار دیا۔ اُن کی ذمہ داری تھی جو مقدمات ان کی عدالت میں تھے ان پر فیصلہ تک تبصرہ آرائی سے منع کیا جاتا۔ ایک جماعت کی کارکردگی خاب ہوئی یہ بھی تاریخ بتائے گی مگر حکمران جماعت جو مرکز اور پنجاب میں چند ووٹوں پر کھڑی ہے، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) اس حکومت کو گرانے کے حق میں نہیں۔ نہ جانے پھر کیوں گورنر پنجاب کہہ رہے ہیں حکومت اپنی مدت پوری کرے گی بسم اللہ۔۔۔ جمہوریت یہی ہے جب اکثریت نہ رہے تو حکومت کو کوئی نہیں گراتا خود گر جاتی ہے۔ جب آپ ایک ایسا وزیراعلیٰ لگائیں گے کہ جو کہے مجھے حکمرانی کا کام نہیں آتا میں سیکھ رہا ہوں۔ حکومت کب کمزور اور لڑھکتے ستوں پر کھڑی رہ سکتی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے سینیٹ کو مشکل میں ڈال رکھا ہے۔ اُن کا تازہ ٹیوٹ دلچسپی سے خالی نہیں۔ ایک کے بعد ایک دلچسپ کہانی چھیڑتے ہیں لوگ کو اُن کے فقروں سے دلچسپی کا سامان میسر آتا ہے کبھی کبھی تو اپنا ہی کافی نقصان کر بیٹھتے ہیں۔ گلوبل وارمنگ کی لپیٹ میں پوری دنیا اور امریکہ ہے اور ایسی سردی کہ بیان کے قابل نہیں۔ سردی کے ایسے ماحول نے ہی ہٹلر کو شکست پر مجبور کر دیا تھا جس نے اتحادیوں کو شکست پر مجبور کر دیا تھا۔ روس پر ہٹلر کو چڑھائی مہنگی پڑ گئی۔ روس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ نومبر اور دسمبر کے مہینے میں روس کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ آج کل امریکہ میں پڑنے والی سردی کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جو ٹویٹ کیا ہے اس میں انہوں نے کہا ہے ’’امریکہ کے خوبصورت علاقوں میں برفانی ہواؤں کا درجہ حرارت منفی 60 تک جا رہا ہے اور زیادہ سردی بڑھے گی اتنی کہ لوگ ایک منٹ کے لیے باہر نہیں نکل سکیں گے تو ’’اے گلوبل وارمنگ پلیز جلدی آجاؤ ہمیں تمہاری ضرورت ہے‘‘۔ ایسے ماحول میں ایسے چٹکے صدر ٹرمپ کی جانب سے چھوڑے جا رہے ہیں جب سینیٹ میں ان کی مخالفت بڑھ رہی ہے جن میں ان کی ری پبلیکن پارٹی کے ارکان بھی شامل ہیں۔ اب ان کے مواخذے کی بات ہو رہی جس سے امریکی صدر خاصے برہم نظر آتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ کیوں ہو گا ان کا مواخذہ انہوں نے تو امریکی معیشت کو بہتر کر دیا ہے ان کا یہ بھی دعویٰ ہے اگر ان کا مواخذہ ہوا تو ہر امریکی غریب ہو جائے گا اور مارکیٹ کرپشن کر جائے گی۔ یہی دعویٰ تو ہمارے کپتان اور ان کے بزرجمہر کر رہے ہیں۔ ہر حکومت جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے دعوے تو کرتی رہی مگر اس کے لیے زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں۔ پاکستان نے پیپلزپارٹی کی حکومت نے 18 ویں ترمیم پاس کی اس میں انہوں نے صوبہ سرحد کا نام تبدیل کیا اگر وہ چاہتی تو جنوبی پنجاب کو بھی صوبہ کی حیثیت دے سکتی تھی مگر ایسا ہوا نہیں۔ اس ہتھیار کو اس نے سیاسی سٹنٹ کے طو رپر استعمال ضرور کیا۔ سینیٹ سے جنوبی پنجاب کی قرار داد منظور ہو گی۔ پنجاب اسمبلی سے ایک قرار داد آئی۔ پیپلز پارٹی نے پورے 5 سال اس ایشو پر تماشا لگایا۔ اب عام لوگ ماضی کی طرح سادہ لوح نہیں ہیں۔ انہیں اندازہ تھا کہ جنوبی پنجاب میں بسنے والوں کے جو بھی مسائل ہیں اس سے ہو گا کیا ۔ صوبہ بننے سے پھر مخدوم، انصاری اور مزاری آجائیں گے مگر یہ ان کی ضرورت نہیں۔ صوبہ بنے یا نہ بنے یہ ٹولہ تو اقتدار میں ہے۔ پیپلزپارٹی کو معلوم تھا کہ کسی صورت صوبہ نہیں بنے گا۔ پارلیمانی کمیشن نے ایسے وقت جب ان کی حکومت کی مدت ختم ہونے میں صرف ایک ماہ باقی تھا، یکم فروری 2013ء کو کمیشن کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دی۔ اس رپورٹ کے آتے ہی شدید ہنگامہ ہوا، کسی نے تحریک استحقاق جمع کرائی اور کسی نے پارلیمانی کمیشن کی رپورٹ کو کاغذوں کا پلندہ قرار دیا اور کسی نے میاں والی کو جنوبی پنجاب میں شامل کرنے پر رپورٹ کو پھاڑ کر پرزے پرزے کر دیا۔ ہزارہ اور فاٹا کو نئے صوبوں میں شامل نہ کرنے سے واک آؤٹ بھی ہوا حتیٰ کہ حکومتی رکن سید ظفر علی شاہ نے رپورٹ کو مسترد کر دیا۔

اس طرح پارلیمانی سطح پر ہونے والی ساری پارلیمانی کارروائی منفرد ہو گئی۔ اس کھیل کا دوسرا ایکٹ اس وقت شروع ہوا جب مسلم لیگ (ن) 2018ء کے الیکشن کی تیاری کر رہی تھی اس وقت مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے ممبر قومی اسمبلی بھی اس کھیل کا حصہ بن گئے اور انہوں نے جنوبی پنجاب صوبہ بنا کر مسلم لیگ سے علیحدگی اختیار کر لی۔ پھر یہ محاذ اس وقت تحریک انصاف میں شامل ہو گیا کہ اقتدار ملتے ہی ایک ماہ کے اندر جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانے کا عمل شروع ہو جائے گا۔ تحریک انصاف سے معاہدہ کرنے والوں کو وزارتیں مل گئیں۔ اب کون لے گا نام نئے صوبے کا ۔ یہ سارا سیاست کا شرمناک کھیل تھا۔ آج جنوبی پنجاب کے جاگیرداروں کو یقین ہو کہ راجہ رنجیت سنگھ پھر اقتدار میں آنے والا ہے تو یہ ان کے سامنے کھڑے ہو کر کہہ رہے ہوں گے کہ حضور آپ کہاں چلے گئے تھے ہم تو دو صدیوں سے آپ کی یاد میں آنسو بہا رہے ہیں اور 18 ویں صدی سے ہم تو آپ کے بغیر ایک پل نہیں جی سکے۔ ویسے بھی لابنگ کرنے والے کپتان کا موازنہ قائداعظمؒ سے کرتے جا رہے ہیں موازنہ کرنے والوں کو سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیے کہ جو آپ کہہ رہے ہیں یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ اب کھیل سیاست جمع سیاست ہو چکی ہے۔ بڑی مشکل سے صوبائی خو مختاری کا دیو کوزے میں بند ہوا تھا۔ اب این ایف سی ایوارڈ کو پھر سیاست کا کھیل بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ عمران خان نے وزیراعظم کے انتخاب کے وقت جو تقریر کی اپوزیشن کا جواب بھی کرارا تھا۔ اب دوسری مرتبہ منی بجٹ پر تشریف لائے۔ اب ہو سکتا ہے کہ پرویز مشرف کی طرح پارلیمنٹ کو بے ہودہ قرار دے کر وہ ایوان میں آنا ہی چھوڑ دیں گے مگر یہ سب کچھ ناقص حکمت عملی تھی۔ سرکاری وسائل کے استعمال سے وزارت اطلاعات اور ان کے پھٹے ڈھول جو کچھ کہہ رہے تھے ا س کا ردعمل تھا۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی حکومت ایسے شخص کے ذریعے بنی گالہ سے چلائی جا رہی ہے، پنجاب کا سارا فنڈ جدھر بھی بھیجا جا رہا ہے، اس پر مسلم لیگ (ن) نے بھی ترپ کا پتا پھینکا ہے ۔ احسن اقبال، رانا تنویر، رانا ثناء اللہ کے دستخطوں سے آئینی ترمیمی بل جمع کر دیا ہے جس میں بہاولپور صوبہ بہاولپور کے انتظامی یونٹ اور جنوبی پنجاب صوبہ ملتان اور ڈی جی خان کے یونٹ پر مشتمل ہو گا۔ اہم بات یہ ہے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے جغادری میٹھی نیند کے مزے لے رہے ہیں۔ دلچسپ صورت حال تو یہ ہو گی اگر یہ بل تحریک انصاف منظو ر کرتی ہے تو پنجاب اسمبلی کی اکثریت مسلم لیگ (ن) کے پاس آئے گی۔ ملتان ڈویژن اور ڈی جی خان میں کانٹے کا مقابلہ ہو گا۔ مگر یہ بل کسی صورت میں پی ٹی آئی کو قبول نہیں کیونکہ دو صوبے بننے کے بعد تحریک انصاف کا سارا کھیل ختم ہو جائے گا اور مقامی سطح پر بننے والے صوبوں میں سیاسی جماعتوں سے ہڑ کر دھڑے بندیاں ہوں گی جس بنیاد پر صوبہ بنایا جائے گا اس کے بعد بلوچستان میں پختون علاقوں پر مشتمل صوبہ بنانے کی تحریک اور مطالبہ کئی بار اٹھا۔ کے پی کے میں ہزارہ صوبہ کی تحریک تقریباً چار دہائی پرانی ہے۔ اب ایم کیو ایم پاکستان کراچی اور حیدر آباد کو ملا کر نیا صوبہ کا مطالبہ قیادت کے دماغوں میں ابل رہا ہے۔ جس انداز سے حکومت چل رہی ہے اسے گرنے کی بھی جلدی ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا تو ہے صدارتی انتخابات جو چار بار ناکام ہو چکا اب پھر اس کو لانے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔


ای پیپر