پی پی او اور پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی
31 جنوری 2019 2019-01-31

پہلے تو پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈیننس ( پی پی او) 1960ء اور 1963ء کی رام کہانی سن لیجئے۔ تو پی پی او کو صدر ایوب کے عہد کا کالا قانون قرار دیا جاتا ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب الیکٹرونک میڈیا کا وجود تھا ہی نہیں ، یا کہہ لیجئے کہ نہ ہو نے کے بر ا بر تھا۔ گو یا میڈیاکے ادا ر ے پر صرف پرنٹ میڈیا کی حکمرانی تھی۔ گو پی پی او کا نفاذ تو 1960 ء ہی میں ہوگیا تھا، تاہم 1963ء میں اس میں مزید تبدیلیاں کی گئیں۔ پی پی او کا مقصد پرنٹ میڈیا کی خبروں کو حکومت کی مرضی کے تابع بنانا تھا۔ تو کیا پرنٹ میڈیا پہ اپنی مرضی تھوپنے کے نتیجے میں حکومت عوام کی سوچ کا دھارا بدل سکی؟ نہیں ایسا نہیں ہوا۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ 1971ء میں مشرقی پاکستان ہم سے علیحدہ ہوکر بنگلہ دیش میں تبدیل ہوگیا۔ کہنے والے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اس لخر ا ش سا نحہ کی ایک بڑی وجہ پی پی او کا نفاذ بھی تھا۔ یہ پی پی او ہی کا کیا دھرا تھا کہ پروگریسو لمیٹیڈ (PPL) کو حکومت نے اپنے قبضہ میں لے لیا۔ نتیجتاً ایوب حکومت کے خلاف باغی تحریکیں سر اٹھانے لگیں۔ پھر 1961ء میں ایسوسی ایٹ پریس آف پاکستان کو بھی معاشی ابتری کا شکار کہہ کر اس کی معاشی حالت درست کرنے کے بہانے حکومت نے اپنے قبضہ میں لے لیا۔ اور پھر 1964ء میں حکومت نے اپنی کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد نام نہاد نیشنل پریس ٹرسٹ کے قیام کا اعلان کردیا۔ کہنے کی بات یہ ہے کہ نیشنل پریس ٹرسٹ کے نام پر پرنٹ میڈیا پر حکومت نے سنسر شپ کی کڑی پابندی جاری رکھی۔ تاہم 1984ء میں عدالت عالیہ کے فیصلے کے تحت پی پی او کو منسوخ قرار دے دیا گیا۔ بعد کے آنے والے ادوار میں پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے تحت الیکٹرونک میڈیا پہ حکومت کی سنسر شپ قائم رہی ہے۔ لیکن پرنٹ میڈیا اس قسم کی پابندی سے آزاد تھا۔

حا لیہ صو ر تِ حا ل کچھ یو ں ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت میڈیا پر کنٹرول سخت کرنے کے اپنے ایجنڈے پر آگے قد م بڑھا ر ہی ہے۔چنا نچہ پچھلے ہفتے جمعرات کے روز وفاقی کابینہ نے پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (اسے پیمرا کے ساتھ نتھی نہ کیا جا ئے)کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ اس اتھارٹی کے قیام سے اب حکومت ایک ہی پلیٹ فارم سے ملک کے تمام میڈیا کو کنٹرول کرنے کے قابل ہوجائے گی۔ تحریک انصاف کی حکومت نے یہ فیصلہ میڈیا تنظیموں اور صحافیوں کی سخت مخالفت کے باوجود کیا ہے جو میڈیا کے بارے میں اس کے مخصوص مائنڈ سیٹ کوظاہر کرتا ہے۔ کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای) نے پرپنٹ میڈیا اور دیگر سے متعلق اداروں کو تحلیل کرکے ’’ میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی‘‘ کے نام سے ایک نئے ادارے کے قیام کی وفاقی کابینہ کی منظوری کو پرنٹ میڈیا کی آزادی کو سلب کرنے کی کوشش کے مترادف قرار دیا ہے۔ ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ میڈیا کی ریگولیشن کے نام پر پرنٹ میڈیا کو کنٹرول کرنے کے عزائم پر مبنی کسی بھی قانون اور اقدام کو پاکستان میں کبھی پذیرائی، مقبولیت اور حمایت نہیں ملے گی۔ سی پی این ای کا موقف ہے کہ پاکستان میں میڈیا سے متعلق قوانین کو آئینی تقاضوں اور عوامی امنگوں کے مطابق اسے مزید بہتر کرنا اگرچہ وقت کا تقاضا ہے تاہم کسی بھی فارمولے، فیصلے یا قوانین بنانے سے قبل متعلقہ فریقوں کی مشاورت انتہائی ضروری اور ناگزیر ہے۔ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کی قانون سازی اور بنیادی فیصلہ سازی کے لیے ایڈیٹروں، صحافیوں اور ناشرین سمیت متعلقہ فریقوں سے مشاورت انتہائی ضر و ری ہے۔ سی پی این ای کا موقف ہے کہ پرنٹ میڈیا کے لیے خصوصی قوانین کی کوئی ضرورت نہیں اور پرنٹ میڈیا کو عام قوانین کے تحت ہی اپنا کام کرنے دیا جائے۔ انہوں نے یاد دلایا ماضی میں بدنام زمانہ پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈیننس کی منسوخی اور پرنٹ میڈیا کی آزادی کے لیے سی پی این ای، پی ایف یو جے، جمہوریت پسند سیاسی کارکنوں اور سول سوسائٹی کی ایک طویل جدوجہد رہی ہے۔ علاوہ ازیں اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے کہ پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل سمیت میڈیا کی ہر کیٹگری کے اپنے مخصوص مسائل، نوعیت اور طریقہ کار ہوتے ہیں۔ کسی بھی ایک قانون کے تحت میڈیا کی ہر کیٹگری کو ہینڈل کرنا زمینی حقائق کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہوگا۔ سی پی این ای کے رہنماؤں نے مزید کہا ہے کہ پاکستان میں اگرچہ پرنٹ میڈیا کی آزادی کچھ زیادہ مثالی نہیں ہے تاہم موجودہ محدود آزادیاں بھی پاکستان کے عوام اور خصوصاً جمہوریت پسند سیاسی کارکنوں، سول سوسائٹی اور صحافیوں کی قربانیوں اور طویل جدوجہد کے مرہون منت ہیں اور اسی جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان کے آئین میں اظہار، آگہی اور اطلاعات تک رسائی کے حقوق کو پاکستان کے تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے آئین میں ان کی بجاآوری کی ضمانت دی گئی ہے جس کے تحت ان بنیادی حقوق کی تکمیل اور بجا آوری تمام ریاستی اور حکومتی اداروں اور ان کے اہلکاروں کا بنیادی فریضہ ہے۔

سا منے کی با ت یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کا یہ اقدام اس لیے بھی غیردانشمندانہ ہے کیونکہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا دو مختلف چیزیں ہیں اور دونوں کی اپنی الگ الگ خصوصیات ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جمہوری معاشروں میں جہاں چوبیس گھنٹے چلنے والے الیکٹرانک میڈیا کے لیے تو شاید کسی قسم کے ضابطہ اخلاق یا ضوابط کی ضرورت محسوس ہوتی ہو لیکن مسلمہ جمہوری معاشرے اخبارات کو اظہار رائے کی آزادی کے اصول کے تحت اپنے Contaents کی جانچ پڑتال خود کرنے کے لیے اپنے ضابطہ اخلاق متعین کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے حکومت کا سارے میڈیا کو ایک ہی پلیٹ فارم سے کنڑول کرنے کا فیصلہ ایک آمرانہ مائنڈ سیٹ کو ظاہر کرتا ہے جو جمہوری طور پر منتخب کردہ حکومت سیٹ اپ کے شایان شان نہیں ہوسکتا۔ جمہوریت میں میڈیا کو ریاست کا چوتھا ستون قرار دیا جاتا ہے۔ سی پی این ای، پریس کونسل آف پاکستان، اے پی این ایس اور پی ایف یو جے پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کی پہلے ہی مخالفت کرچکی ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا کہ صحافیوں کی تمام تنظیموں کو اعتماد میں لے کر یہ فیصلہ کیا گیا ہے، درست نہیں ہے۔ گزشتہ دنوں سی پی این ای کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقد ہونے والے میڈیا کنونشن میں تمام میڈیا پریکٹیشنرز نے شرکت کی تھی جس میں یہ اتفاق پایا گیا تھا کہ پرنٹ میڈیا کے لیے کسی خاص قانون اور ضابطے کی ضرورت نہیں، کیونکہ پرنٹ میڈیا میں سیلف سنسرشپ پہلے ہی خاصا مضبوط ہے لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ میڈیا کے حوالے سے کوئی ادارہ بنانے یا کوئی قوانین و ضوابط بنانے سے پہلے میڈیا انڈسٹری کے تمام سٹیک ہولڈرز سے تفصیلی مشاورت کرے اور کسی بھی یکطرفہ اقدام سے پرہیز کرے۔اگر ایسا نہیں کیا جاتا وطنِ عز یز اسی قسم کی صو ر تِ حا ل سے دو چا ہو سکتا ہے جس کا اسے سا منا 1960میں پی پی او کے نفاذ کے بعد ہو ا تھا۔


ای پیپر