خراسان کے گرم محاذوں سے دوحہ مذاکرات تک
31 جنوری 2019 2019-01-31

دوحہ سے حوصلہ افزاخبریں آرہی ہیں اور طویل عرصہ بعد طالبان امریکہ مذاکرات کی ’’بیل منڈھے‘‘ چڑھتی دکھائی دے رہی ہے ۔ دوسری طرف اس سارے مذاکرتی عمل میں افغان طالبان نے امریکی کٹھ پتلی کابل انتظامیہ کوجس طرح ’’درخورِ اعتنا‘‘نہیں جانااور اپنے موقف پر مضبوطی سے کاربند رہے اسے بھی طالبان کی زبردست ’’ڈپلومیسی‘‘قرار دیا جا رہاہے ۔ افغان طالبان کا دیرینہ موقف رہا ہے کہ ایک ’’طفیلی‘‘اور’’رکھیل‘‘ حکومت کی ہمارے ہاں کوئی اہمیت نہیں اور جب بھی مذاکرات ہوں گے براہ راست امریکہ سے ہی ہوں گے کہ اصل کردار وہی ہے۔ دوحہ مذاکرات میں افغان حریت پسندوں کی کامیابی پر کچھ ’’بزعم خویش دانش وروں‘‘ کی جانب سے تنقیدوتضحیک کے تیربھی برسائے جا رہے ہیں لیکن شاید انہیں اس انتہائی سادہ نکتے پر بھی غور کرنے کی فرصت نہیں کہ افغان طالبان کی یہ کامیابی انہیں پلیٹ میں رکھ کر تحفے کے طور پر پیش نہیں کی جارہی بلکہ اس کے پیچھے ان بوریا نشینوں کی اٹھارہ سالہ طویل ترین جدو جہدآزادی ہے جس کا احاطہ ان چندسطور میں قطعی طورپر نہیں کیاجا سکتا۔

بہت عرصہ پیشتر کہیں پڑھا تھا کہ افغانستان سے شکست کھاکرفرار ہونے والے آخری برطانوی فوجی ولیم برائیڈن اور’’ دریائے آمو ‘‘پار کرتے سوویت یونین کی پسپا ہوتی فوج کے آخری سپاہی کریموف نے افغان دھرتی کی جانب آخری بار دیکھتے ہوئے کہا تھا کہ :’’ یہ سرزمین طالع آزماؤں کے لیے کسی جہنم سے کم نہیں‘‘ ۔ کیسا اتفاق ہے کہ آج تاریخ ایک بارپھر خوود کو دہرانے جارہی ہے اور اپنے پیش روؤں کی یاد تازہ کرتے ہوئے امریکی بھی یہی کہہ رہے ہیں اور خراسان کے گرم محاذوں سے لے کردوحہ تک فتح وظفر کی نوید سنائی دے رہی ہے۔افغان حریت پسندوں نے افغان دھرتی پر جارحیت کاارتکاب کرنے والے چالیس سے زائد ممالک کی جدیدترین حربی ٹیکنالوجی سے لیس ناٹو اور ایساف فورسز پرایسی کاری ضر ب لگائی ہے کہ وہ اس جنگ کے زخم کئی دہائیوں تک چاٹتے رہیں گے ۔فارسی زبان کی ضرب المثل ہے کہ ’’صورت بَبِیں ، حالم مپرس‘‘ ۔ صورت ہی دیکھ لو ، میراحال نہ پوچھو ‘‘۔ آج غاصب افواج کچھ ایسی ہی کیفیت سے دوچار ہیں کہ عبرت ناک شکست ان کی پیشانیوں سے صاف ظاہر ہورہی ہے۔دوسرے لفظوں میں یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ ’’عیاں راچہ بیاں‘‘یعنی حال پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں کہ سب کچھ چہرے سے ہی عیاں ہے۔ بھرپور عسکری جدوجہد کے بعدمذاکرات کی میز پر بھی طالبان نے ثابت کر دکھایا ہے کہ وہ بیک وقت ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ کی دولت سے لیس مرد مجاہد ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ مذاکرتی عمل کے پیچ وختم کا بھی بخوبی ادراک رکھتے ہیں۔ا فغان حریت پسندوں نے طالبان کے پرچم تلے عالمی استعمار کے خلاف جو اٹھارہ سالہ طویل جنگ لڑی اور بے انتہاقربانیاں پیش کیں آج ان کی تاریخ ساز جدوجہد بار آوَراورنتیجہ خیزثابت ہو رہی ہے ۔افغان امور کے ماہرین نے افغانوں کی اسی ’’غیرت دیں‘‘ کے پیش نظر 2001ء میں کہہ دیا تھا کہ امریکہ جس دلدل میں پھنس چکا ہے ایک وقت آئے گا کہ یہ محفوظ ’’انخلاء‘‘کی بھیک مانگ رہا ہوگا۔

آج اگر ایک طرف افغان حریت پسندوں سے امریکہ اور اس کے حواری مار کھا کر اورذلت اٹھا کر بھاگ رہے ہیں تو دوسری جانب انہی طاقتوں کے گوشہ عاطفت میں پلنے والے دہشت گرد گروہوں کو افواج پا کستان کے جری جوانوں نے جس طرح ناقابل فراموش قربانیاں دے کر شکست فاش سے دوچار کیا وہ بھی اپنی جگہ انتہائی اہم ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ افواج پاکستان اور افغان حریت پسندوں کی کامیابی ایک ہی سکّے کے دو رُخ ہیں۔ ہم بجا طور کہہ سکتے ہیں کہ اسلام سے کابل تک افغانستان اور پاکستان کے ازلی دشمن خوار ہو رہے ہیں اورعساکر پاکستان ، پا کستانی قوم اور افغان حریت پسندوں کی فتح وظفر کے شادیانے بجاچاہتے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب ان ہمسایہ ملکوں میں امن کی فاختہ چہچہائے گی اور ہر سُوسلامتی اور سکھ کا ہی راج ہوگا(ان شاء اللہ)۔دراصل امریکہ اسی لیے توسنجیدہ طور پر مذاکراتی عمل کی طرف آیاہے کہ اسے دوا طراف سے شدید ناکامیوں کا سامناکرنا پڑا۔ خراسان کے محاذوں پرغیور افغانوں کے ہاتھوں اس کی بر اہ راست ’’درگت ‘‘بنتی رہی تو پاکستان میں عساکر پاکستان کے ہاتھوں اس کے پالتو اوراجرتی دہشت گردنیست و نابود ہوتے رہے۔عالمی طاغوت کی طرف سے ٹی ٹی پی جیسی دہشت گرد تنظیموں کوبھرپور طور پر منظم کر کے اور اس انداز سے اسلام اور جہاد کالبادہ پہنا کر میدان میں اتارا گیا تھا کہ شاید پاکستان کے سادہ اور دین سے محبت رکھنے والے عوام کو نفاذ اسلام کا ’’چکمہ ‘‘دے کر شکست وریخت کا شکار کر دیا جائے لیکن ’’اے بسا آرزو کہ خاک شدہ‘‘ کے مصداق پاکستان دشمنوں کی کتنی ہی ایسی آرزوئیں تھی جو خاک ہوگئیں اور دشمن ہمیشہ ذلیل وخوار ہی ٹھہرا۔

دوحہ مذاکرات میں پاک ‘قطر حکومتوں اور سینئر طالبان راہنماؤں عباس ساتکزئی اورملا عبد الغنی برادرنے جو تاریخ سازاوربصیرت افروز کردار اداکیا وہ بے حد لائق تحسین ہے وگرنہ چشم فلک نے ا یسے کئی مناظر دیکھے کہ جیتی ہوئی جنگیں مذاکرات کی میزپر ہار دی گئیں۔اس انتہائی فیصلہ کن موڑ پر کابل کی کٹھ پتلی حکومت کو چاہیے کہ وہ ہوش کے ناخن لے اور چالیس ممالک کی عبرت ناک شکست سے سبق سیکھتے ہوئے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے بازآئے۔افغان طالبان افغان معاشرے میں اور عالمی سطح پر ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کیے جا چکے ہیں ۔ اگر چالیس ممالک کی جدید ترین افواج ان کے آگے نہیں ٹھہر سکیں تو ’’افغان نیشنل آرمی ‘‘،پولیس اور ’’این ڈی ایس‘‘ان کی تاب کیسے لا سکیں گی۔ نتیجہ یہی نکلے گا کہ دونوں جانب سے مسلمانوں اورافغانوں ہی کاخون بہے گا ۔لہذا افغان حکومت کو چاہیے کہ بیرونی بیساکھیوں پر انحصار نہ کرے، (اب تووہ بیساکھیاں بھی ٹوٹتی دکھائی دے رہی ہیں)،طالبان کو طاقت کے بل بوتے پر کچلنے کی سوچ یکسرتر ک کر کے ایسے پائیدار حل پر توجہ دے جو طالبان کو بھی قبول ہو اور افغان دھرتی کے بہتراورروشن مستقبل کی امید بھی دلاتا ہو ۔


ای پیپر