کابل پھر سے دہشت گردوں کے حوالے کرنے کی تیاریاں !
31 جنوری 2019 2019-01-31

داستان18 بر س پرانی ہے۔ملا محمد عمر کابل کے حکمران تھے۔ان کی سیاسی جماعت کا نام تھا ’’طالبان‘‘۔افغانستان کے صوبہ قندھار میں اس کی بنیاد رکھی گئی تھی۔دینی مدارس کے اساتذہ اور طلبا اس جماعت کے کارکن تھے۔قندھار میں طالبان کا ظہور ایک ردعمل کے طور پر ہواتھا۔سوویت یونین شکست کے بعداپنا بوریا بستر گول کرکے دریائے آمو کے اس پار جا چکا تھا۔ان کا عالمی وجود کئی ٹکڑوں میں بٹ چکا تھا ۔جاتے وقت انھوں نے افغانستان ’’مجاہدین‘‘ کے حوالے کیا۔لیکن مقدس جہاد میں حصہ لینے والے ’’مجاہد‘‘ حکمرانی کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے کے لئے تیار نہیں تھے۔مجاہدین کی آپس کی لڑائیوں اور وار لارڈز کی دشمنیوں کی وجہ سے پورے افغانستان میں جس کا بھی بس چلتا تھا اپنے علاقہ کا حکمران بنا بیٹھا تھا۔غیر اخلاقی سرگرمیاں عروج پر تھیں۔قندھار میں دو کمانڈورں کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی۔کئی روز تک علاقہ میں کاروبار بند رہا ۔کئی بے گناہ انسان مارے گئے۔حالات سے تنگ آکر ملا محمد عمر کی قیادت میں مدرسہ کے اساتذہ اور طلبا اٹھ کھڑے ہوئے۔قندہار میں منادی کروا دی گئی کہ آج کے بعد حکومت صرف طالبان کی ہو گی۔تمام فیصلے دینی مدارس کے مفتیاں کرام کر یں گے۔ملا عمر نے چند دنوں میں ہر گاوں میں باقاعدہ ’’قاضی‘‘ کا تقرر کیا،جس کا عدالت گاوں کا مسجد یا مدرسہ ہوتا تھا۔لوگ شکایت لے کر آتے تھے۔بلا معاوضہ ایک ہی دن میں فیصلہ لے کر چلے جاتے تھے۔بعد میں جب شکایت ملی کہ بعض لوگ ’’طالبان‘‘ کے فیصلوں پرعمل درآمد نہیں کرتے تو پھر ’’رضاکار ‘‘ یعنی پولیس فورس بنائی گئی۔ملا عمر اور ان کے طالبان نے تمام ’’مجاہدین‘‘ اور ’’وارلارڈز ‘‘ سے ٹکرانے کا فیصلہ کیا۔افغانستان کے لوگ خانہ جنگی سے تنگ آچکے تھے۔حقیقت یہی ہے کہ افغانستان کے ’’عوام ‘‘ نے بھی اس مر حلہ پر ملا عمر کا ساتھ دیا۔قندھار سے نکل کر انھوں نے کابل کو بھی فتح کیا۔سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور پاکستان نے ان کی حق حکمرانی کو باضابطہ طور پر تسلیم بھی کیا۔

کابل پر تخت نشین ہونے کے بعد ملا محمد عمر نے قوم سے اپیل کی کہ غیر مسلح ہو جائے۔پوری قوم نے ان کی آواز پر لبیک کہا۔انھوں نے اسلحہ طالبان کے حوالے کیا۔پوست کی کاشت افغانستان میں آمد ن کا ایک اہم اور بنیادی ذریعہ تھا۔ملا عمر نے اس پر پابندی لگادی ۔ان کے ایک حکم پر افغانستان میں پوست کی کاشت میں 90% سے زیادہ کمی ہو ئی۔اس دوران طالبان کے بارے میں مغربی ممالک خاص کر امریکا نے میڈیا میں ان کے بارے میں پروپیگنڈہ شروع کیا۔طالبان حکومت پر الزام لگا یا گیا کہ وہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملو ث ہے۔دوسرا الزام ان پر یہ لگا یا گیا کہ عورتوں پر ظلم کر رہے ہیں۔ان کو گھروں میں بند کر دیا ہے۔جس نے باہر نکلنا ہوتا ہے اس کو بھی صرف شٹل کاک بر قعہ میں نکلنے کی اجازت ہے۔تیسرا الزام ان پر یہ لگا یا گیا کہ لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔امریکا نے اس پروپیگنڈہ کو ہوا دینے کے لئے افغانستان اور پاکستان کے نام نہاد قوم پر ستوں ،لبرلز، این جی آوز اور مغربی میڈیا کو اعتماد میں لیا۔ ان تمام پر خوب سرمایہ کاری کی ۔پشتو کے عالمی ذرائع ابلاغ خاص کر ریڈیو پرطالبان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ کیا۔ان کے خلاف افغانستان اور پاکستان میں عالمی پشتو ذرائع ابلاغ (ریڈیو اور ویب سائٹس)پر رائے عامہ کو ہمور کیا۔طالبان کو معزول کرنے کے لئے امریکا نے پروپیگنڈہ کے ذریعے مکمل تیاری کی تھی کہ اتنے میں وہاں 9/11 کا سانحہ ہوا۔امریکا نے تمام تر ذمہ داری ’’القاعدہ‘‘ نامی تنظیم پر ڈالی۔9/11 سے پہلے اس تنظیم کا نام کسی نے بھی نہیں سنا تھا۔انھوں نے اسامہ بن لادن کو ذمہ دار ٹھرایا۔جو اس وقت افغانستان میں مقیم تھے۔9/11واقعہ میں ملوث افراد میں سے کسی کا تعلق بھی افغانستان سے نہیں تھا۔امریکا نے ان ممالک کو کچھ بھی نہیں کہا جن کے باشندے اس میں ملوث تھے۔لیکن انھوں نے افغانستان کے حکمرانوں ’’طالبان ‘‘ سے اسامہ بن لادن کو مانگ لیا ۔طالبان نے اسامہ بن لادن کو امریکا کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔انھوں امریکا سے مطالبہ کیا کہ ثبوت ان کو دیا جائے وہ خود ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔امریکا نے ان کا یہ مطالبہ حقارت کے ساتھ ٹھکرادیا۔طالبان نے دوبارہ امریکا سے درخواست کی کہ کسی دوسرے ملک میں اسامہ بن لادن پر مقدمہ چلا یا جائے ،لیکن جدید ٹیکنالوجی کے زعم میں مبتلا عالمی طاقت نے اس پیشکش کو بھی قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے افغانستان پر حملہ کر دیا۔

کل کے مجاہد امریکہ کی نظر میں دہشت گرد تھے۔انھوں نے پوری قوت اور تمام تر جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ افغانستان پر حملہ کیا۔طالبان چند روز تک مزاحمت کر تے رہے ،لیکن مجبور ہو کر حکومت چھوڑ دی۔ اب وہ گوریلا جنگ کی تیاری کر رہے تھے ۔ انھوں نے شہروں کو چھوڑ کر پہاڑوں کا رخ کیا۔17 سال وہ دنیاکی واحد سپر پاور کے ساتھ لڑتے رہے۔لیکن اب امریکا نے کل کہ ان دہشت گر دوں کے ساتھ براہ راست مذاکرات شروع کردئیے ہیں۔ کابل کو دوبارہ ان دہشت گردوں کے حوالے کرنے کے لئے باضابطہ طور پر تحریری معاہدہ ہو گا۔لیکن سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ کہاں گئے افغانستان اور پاکستان کے وہ نام نہاد قوم پر ست جنھوں نے 17 سال قبل امریکا کا بیانیہ قبول کیا تھا کہ طالبان دہشت گر دہیں۔کیا ان کا فرض نہیں بنتا کہ امریکا سے رسمی طور پر پوچھ ہی لے کہ جناب کل کے دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کیوں؟ کہاں گئے انسانی حقوق کے علمبردار جنھوں نے دوعشرے قبل امریکا کا ساتھ دیاتھا ۔ اس لئے کہ طالبان انسانی حقوق کا خیال نہیں رکھتے تھے۔کیا آج وہ امریکا سے پوچھ نہیں سکتے کہ ہمیں بتایا جائے کہ ان کا کل کا بیانیہ غلط تھا یا آج کا ؟کیوں سانپ سونگھ گیا ہے ان خواتین کو جو 17 برس قبل امریکا کو اس لئے طالبان کے خلاف کارروائی کرنے پر اکسا رہی تھیں کہ انھوں نے عورتوں کو گھروں تک محدود کیا ہے۔اب پوچھتے کیوں نہیں امریکا سے کہ جناب اگر طالبان دوبارہ آگئے تو افغانستان میں خواتین کا کیا بننے گا۔لڑکیوں کی تعلیم کے وہ موقع پرست اب کیوں نہیں پوچھتے امریکا سے کہ جناب اگر یہ واپس آگئے تو افغانستان میں لڑکیوں کے سکولوں کو دوبارہ تالے لگ جائیں گے ،اس لئے ان سے مذاکرات نہ کئے جائیں۔

مگر افسوس کہ یہ تما م لو گ خامو ش ہیں۔ کوئی بھی امریکا سے پوچھنے کی جرأت نہیں کر سکتا ،کہ کیوں افغانستان کو دوبارہ دہشت گردوں کے حوالے کئے جارہا ہے؟ کیوں ان لوگوں کو اقتدار دیا جارہا ہے جو انسانی حقوق سے نابلد ہیں؟ کیوں ان کو حکمران بنایا جارہا ہے جنھوں نے خواتین کو گھروں میں قید کر نا ہے؟ کیوں ان کو معزز بنایا جارہا ہے کہ جو لڑکیوں کے تعلیم کے خلاف ہیں؟اس کے بر عکس یہی تمام نام نہاد قوم پرست،انسانی اور خواتین کے حقوق کے علمبردار خوشی سے پاگل ہو رہے ہیں کہ امریکا واپس جارہا ہے۔کل یہ امریکا کے آنے پر بھنگڑے ڈال رہے تھے آج ان کے جانے پر ناچ رہے ہیں۔مطلب یہ کہ ان کی اپنی کوئی سوچ نہیں ،بس آقا کے حکم کے غلام ہیں ۔جس سمت چاہے ان کو ہانک دیتے ہیں۔


ای پیپر