’’رہائی ‘‘والی بات پر نواز شریف کا دلچسپ تبصرہ
کیپشن:   Image Source : File Photo
31 جنوری 2019 (20:15) 2019-01-31

لاہور:سابق وزیراعظم اور قائد پاکستان مسلم لیگ (ن) میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ہسپتال جانے کی بجائے رہائی والی بات دل کو لگی ہے‘تاریخ میں پہلی بار سابق صدر ممنون حسین کیساتھ ناروا سلوک ہو تا دیکھا ‘ڈاکٹر کہتے ہیں میرا دل بڑھا ہوا ہے ،میں نے کہا میں کھلے دل کا انسان ہوں ‘پارلیمنٹ کے اندر اور باہر عوام کے حق میں آواز بلند کی جائے‘حوصلہ بلند ہے ‘جلد عوام کے درمیان ہوں گا ۔

تفصیلات کے مطابق جمعرات کا دن سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف جو کہ قومی احتساب بیورو(نیب) کی جانب سے العزیزیہ ریفرنس میں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں ،سے ان کے اہلخانہ ‘پارٹی رہنماوں اور دیگر کیلئے ملاقات کا دن مختص ہو تا ہے ۔اس ضمن میں میاں محمد نواز شریف سے ان کی والدہ ،بیٹی مریم نواز اور دیگر اہل خانہ سمیت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنماوں نے ملاقات کی ۔ملاقات کرنے والوں میں ان کی صاحبزادی مریم نواز ،بھتیجے حمزہ شہباز سمیت پارٹی رہنما شاہد خاقان عباسی، ایاز صادق، مشاہد حسین سید اور سائرہ افضل تارڑ ،سابق صدر ممنون حسین،سابق گورنر سندھ محمد زبیر ،سابق وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری ،سینیٹر پرویز رشید، آصف کرمانی، دانیال عزیز، احسن اقبال، خواجہ حسان اور ملک سیف الملوک کھوکھر سمیت دیگر رہنما شامل تھے ۔ اس موقع پر (ن) لیگی کارکنوں کی بھی بڑی تعداد جیل کے باہر پہنچی جو نواز شریف کے حق میں نعرے بازی کررہے تھے۔

مریم نوازاپنے والد کی پسند کا کھانا ساتھ لائیں، نواز شریف کیلئے شوگر فری گاجر کا حلوہ خصوصی طور پر لایا گیا، کھانے میں ماش کی دال اور پودینے کی چٹنی بھی تھی۔سابق صدر ممنون حسین نواز شریف سے ملاقات کے لیے کوٹ لکھپت جیل پہنچے ‘جہاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم میاں نواز شریف سے عقیدت کا اظہار کررہے ہیں، ہمارا نواز شریف سے تعلق ہے، ان کی صحت اتنی اچھی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ میاں صاحب کو اللہ کی طرف سے انصاف ملے گا، عمران خان ملک ٹھیک نہیں چلا رہے وہ سب سے پہلے معیشت ٹھیک کریں۔

دوسری جانب کوٹ لکھپت جیل میں ملنے کے لیے آنے والے پارٹی رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے میاں نوازشریف نے کہا کہ پاکستان میں سابق وزرائے اعظم کیساتھ تو ناروا سلوک ہوتا رہا لیکن سابق صدر کیساتھ ایسا سلوک پہلی بار ہوا، آج بھی سابق صدر کو جگہ جگہ روک کر تلاشی لی گئی، ممنون حسین بزرگ ہیں، انہیں گاڑی سے اتار کر جیل تک پیدل بھیجا گیا، کسی ملک میں سابق صدر کے ساتھ ایسا سلوک نہیں ہوتا۔اس موقع پر پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ صحت کے پیش نظر آپ کو اسپتال داخل یا رہائی ملنی چاہیے۔

اس پر نوازشریف نے جواب دیا کہ اسپتال جانے کے بجائے رہائی والی بات دل کو لگی ہے۔پارٹی رہنماؤں نے سابق وزیراعظم سے ان کے صحت کے بارے میں استفسار کیا کہ میڈیکل بورڈ نے چیک اپ کیا، ڈاکٹرز نے آپ کی صحت کے بارے میں کیا کہا؟۔نوازشریف نے جواباً کہا کہ ڈاکٹرز کہتے ہیں میاں صاحب آپ کا دل بڑھا ہوا ہے، میں نے ڈاکٹروں سے کہا میرا دل تو ویسے ہی بڑا ہے،کھلے دل کا انسان ہوں۔انہوں نے کہا کہ میرا حوصلہ بلند ہے اور جلد عوام کے درمیان ہوں گا ۔ میاں نواز شریف نے اس موقع پر میاں محمد بخش کا کلام بھی سنا۔ نواز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میری عدم موجودگی میں آپ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر عوام کے حق میں آواز اٹھائیں، میرا حوصلہ بلند ہے جلد عوام میں ہوں گا۔

نواز شریف نے اسپتال اور طبی سہولیات سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ جیل میں بھی قید ہوں اور اسپتال میں بھی قیدی جیسی ہی صورتحال ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے حالات دیکھ کر افسوس ہوتا ہے، معیشت کی ابتر حالت کے بارے سن کر دل دکھتا ہے۔سابق وزیراعظم نے ساتھ ہی ساتھ کارکنوں کو ثابت قدم رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا اچھا وقت جلد آئے گا۔ کوٹ لکھپت جیل کے باہر اپنے قائد سے اظہار یکجہتی کیلئے ن لیگی کارکنوں کی بڑی تعداد موجود رہی۔ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کیلئے ترجمان پاکستان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگزیب جمعرات کی صبح کوٹ لکھپت جیل پہنچیں لیکن رش زیادہ ہونے کی وجہ سے گاڑیوں کو جیل کے باہر ہی روک لیا گیا۔سینیئر سیاسی رہنما جاوید ہاشمی موٹر سائیکل پر روانہ ہوئے جبکہ سابق وفاقی وزیر اور ن لیگی ترجمان مریم اورنگزیب کو رکشے میں سوار ہونا پڑا۔بعض رہنما 15منٹ کی ملاقات کیلئے دس منٹ پیدل چل کر نوازشریف سے ملنے جیل گئے۔اس موقع پر لیگی رہنما حنا پرویز بٹ نے کہا کہ موسم ہی ایسا ہے تھوڑا پیدل بھی چل لیا تو مسئلہ نہیں جبکہ طلال چوہدری نے جیل تک پیدل جانے کا الزام وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارپر لگایا۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد زبیر نے وزیراعظم کی جانب سے عثمان بزدار کو وسیم اکرم قرار دینا سابق کرکٹر کیساتھ زیادتی قرار دے دی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پی ٹی آئی سندھ میں بہت خطرناک کھیل کھیل رہی ہے، اس طرح کے اقدامات کے نتائج بہت خطرناک ہوتے ہیں، ان کے لیڈرز کہتے ہیں وہ مراد علی شاہ کو اندر کردیں گے۔انہوں نے کہا کہ جو کہتے تھے ہم ایک کروڑ نوکریاں دیں گے، وہ مائنس میں چل رہے ہیں، جو بھی پرفارمنس ہوتی ہے وہ پوری ٹیم کی ہوتی ہے، جب اوپر کپتان ہی جعلی ہو تو ٹیم کی پرفارمنس کیا ہوگی۔محمد زبیر نے وزیراعظم کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب کو عثمان بزدار قرار دینے پر کہا کہ یہ وسیم اکرم سے زیادتی ہے۔

سابق وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کہتی ہے وزیر خزانہ دال کھارہے ہیں، انہوں نے غریب سے دال بھی چھین لی، یہ ڈرامے بازی کرتے ہیں اور اب تک انہوں نے کچھ نہیں کیا، ہر ماہ کسی ملک سے قرضہ ملتا ہے یا علیمہ باجی کی جائیداد ملتی ہے۔طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ کہتے ہیں سلیکٹڈ وزیراعظم کی عزت ہو، جب الیکٹڈ وزیراعظم کو آپ جیل میں ڈالیں گے تو سلیکٹڈ وزیراعظم کی عزت نہیں ہوگی۔لیگی رہنما نے پشاور میٹرو منصوبے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اگر آپ میں عقل نہیں تو وہ شہباز شریف سے لے لیتے، جتنے دن شہباز شریف کو جیل میں رکھا اتنے دن پشاور میں رکھتے تو میٹرو بن جاتی۔

اس موقع پر سابق گورنر محمد زبیر نے کہاکہ پی ٹی آئی سندھ میں بہت خطرناک کھیل کھیل رہی ہے، اس طرح کے اقدامات کے نتائج بہت خطرناک ہوتے ہیں، ان کے لیڈرز کہتے ہیں وہ مراد علی شاہ کو اندر کردیں گے۔انہوں نے کہا کہ جو کہتے تھے ہم ایک کروڑ نوکریاں دیں گے، وہ مائنس میں چل رہے ہیں، جو بھی پرفارمنس ہوتی ہے وہ پوری ٹیم کی ہوتی ہے، جب اوپر کپتان ہی جعلی ہو تو ٹیم کی پرفارمنس کیا ہوگی۔محمد زبیر نے وزیراعظم کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب کو عثمان بزدار قرار دینے پر کہا کہ یہ وسیم اکرم سے زیادتی ہے۔


ای پیپر