پاکستان کا ایک دفعہ پھر امریکہ کو ’’کرارا‘‘جواب
کیپشن:   Image Source : Facebook
31 جنوری 2019 (17:25) 2019-01-31

اسلام آباد: پاکستان نے امریکی انٹیلی جنس ادارے کی ملک میں دہشتگردوں کے ٹھکانے ہونے کے الزامات کو ایک مرتبہ پھر مسترد کردیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے الزامات نقصان کا سبب بنتے ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر داعش کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’بھارت افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں ملوث ہے۔ڈاکٹر محمد فیصل نے واضح کیا کہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان جو بھی متنازع معاملات ہیں وہ ان کا اپنا معاملہ ہے اور امید ظاہر کی کہ دونوں فریقین مل کر باہمی مسائل حل کرلیں گے۔

انہوں نے وزیر اعظم کی جانب سے 24 گھنٹے طور خم سرحد کھولنے کے اعلان پر بتایا کہ یہ اقدام باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نے سپریم کورٹ سے رہائی پانے والی آسیہ بی بی کے حوالے سے بتایا کہ وہ پاکستان میں ہیں تاہم اگر وہ بیرونِ ملک جانا چاہتی ہیں تو جاسکتی ہیں‘اس معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کیا جائیگا۔ترکی میں انتقال کر جانے والی ماضی کی مشہور اداکارہ روحی بانو کے بارے میں دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ انقرہ سے روحی بانو کی میت وطن لانے کے لیے پاکستانی سفارت خانہ ان کے اہلخانہ کیساتھ رابطے میں ہے۔

واضح رہے کہ امریکی نیشنل انٹیلی جنس ڈائریکٹر نے اپنی رپورٹ میں یہ پیش گوئی کی تھی کہ آنے والے سالوں میں’ پاکستان میں موجود مسلح گروہ اپنی محفوظ پناہ گاہوں میں رہنے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پڑوسی ممالک میں حملے جاری رکھیں گے‘۔ڈینیئل کوٹس کی رپورٹ میں پاکستان کو دہشتگردی کی حمایت کرنے اور انہیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ پاکستان میں وہ بھارت اور افغانستان میں کیے جانے والے حملوں اور امریکی مفادات کے مخالف اقدامات کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔واضح رہے کہ روحی بانو کی امانتاً ترکی میں ہی تدفین کردی گئی تھی تاہم ان کی ہمشیرہ نے ان کا جسدِ خاکی وطن واپس لا کر بیٹے کی قبر کے ساتھ تدفین کرنے کے لیے حکومت سے تعاون کی درخواست کی تھی۔علاوہ ازیں دفتر خارجہ نے پاکستان کے دورے پرا ٓنے والے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورے کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دے کر جلد اس کی تفصیلات فراہم کرنے کا عندیہ بھی دیا۔


ای پیپر