osman kavala,tayyab erdogan,human rights activist,court,illegally,detained
31 دسمبر 2020 (13:35) 2020-12-31

انقرہ :ترک صدر طیب اردوان کی مخالفت کرنے پر تین سال سے جرم ثابت کئے بغیر غیر قانونی حراست کا شکار ہونے والے انسانی حقوق کے کارکن عثمان کاوالا کو قید میں رکھنے کو ترک عدالت نے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی حراست کو غیر قانونی قرار دیدیا لیکن حیران کن طور پر ان کی رہائی کے احکامات جاری نہیں کئے۔

تفصیلات کے مطابق ترکی کے ممتاز سماجی کارکن عثمان کاوالا گزشتہ تین سال سے ریاستی تحویل میں ہیں اور اس دوران ان پر کوئی بھی جرم ثابت نہیں ہوا۔ انہیں تین سال قبل طیب اردوان کی حکومت کیخلاف مظاہرے کرنے اور بیانات دینے پر گرفتار کیا گیا تھا ۔ طیب اردوان حکومت نے ان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ غیر ملک کیلئے جاسوسی کرنے اور ملک سے غداری کرنے جیسے الزامات کے مرتکب ہوئے ہیں۔

ترکی کی دستوری عدالت نے 63 سالہ عثمان کاوالا کی طرف سے اپیل کی سماعت کرتے ہوئے ان کی تین سال تک حراست کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حراست بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے لیکن اس موقع پر حیران کن طور پر جب ترک عدالت نے ان کی حراست کو غیر قانونی تسلیم کیا لیکن ان کو رہا کرنے کے احکامات جاری نہیں کئے بلکہ عثمان کاوالا کی رہائی کی اپیل مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قید ان کی آزادی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آتی۔ 

غیر ملکی میڈیا کا عدالت کی اس توجیہہ پر کہنا ہے کہ عثمان کاوالا کی غیر قانونی حراست کے باوجود عدالت نے اس کو رہا کرنے کا حکم دبائو کے زیر اثر نہیں دیا ہے۔


ای پیپر