PDM, PPP, PML-N, Jamiat Ulema-e-Islam, Senate elections
31 دسمبر 2020 (12:21) 2020-12-31

پاکستان پیپلز پارٹی کی سنٹرل ورکنگ کمیٹی کے دونوں شریک چیئرمینوں کی مشترکہ صدارت میں منگل کے روز منعقد ہونے والے اجلاس میں سینیٹ کی خالی ہونے والی نصف کے قریب نشستوں پر انتخابات اور اسمبلیوں کے ضمنی انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا اعلان کیا گیا۔ استعفوں کے آپشن کو قطعی طور پر مسترد نہیں کیا گیا لیکن اسے متاخر کر دیا گیا ہے…… دوسرے الفاظ میں اس نے پی ڈی ایم کی بقیہ دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علماء اسلام سے علیحدگی اختیار نہ کرنے کے باوجود ان کی مجوزہ راہ عمل سے انحراف کا راستہ اختیار کر لیا ہے…… ان کا کہنا ہے عمران خان کی سلکیٹڈ حکومت کو گھر بھجوانے کے لئے وفاق اور پنجاب دونوں مقامات پر اس کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ کی پالیسی کو بروئے کار لایا جائے گا…… اب زرداری صاحب اور ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو حزب اختلاف کی جماعت کا بھرم بھی قائم رکھنے کی کوشش کریں گے اور اس کے ساتھ اس نظام کو بھی برقرار رکھنے میں اپنا حصہ ڈالیں گے جس کے انہدام کے لیے میاں نوازشریف اور مولانا فضل الرحمن متمنی ہیں۔ جس کی خاطر وہ جلوسوں اور جلسوں کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ اس حد تک انہیں پی پی پی کا اشتراک بھی حاصل رہا ہے…… اگلے قدم کے طور پر ان کی پُرجوش تجویز تھی اور ہے کہ لانگ مارچ کے بعد اسلام آباد میں زبردست اور غیرمعینہ عرصہ کے لیے دھرنا دیا جائے تاآنکہ وزیراعظم عمران خان کو استعفے پر مجبور کر دیا جائے۔ اگر وہ اس کے باوجود ڈٹے رہتے ہیں تو پی ڈی ایم کی جماعتوں کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی تمام نشستوں سے مشترکہ طور پر استعفے دے کر 2018ء کے انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والے حکومتی نظام کی عمارت گرا دیں …… تب ازسرنو قومی انتخابات کا انعقاد لازمی ہو جائے گا…… اس صورت میں اگر ممکن ہوا تو تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے ہر طرح کی مداخلت سے پاک عام انتخابات ممکن بنانے کے لیے ایسا نظام وضع کیا جائے گا جس کے نتیجے میں چناؤ کے وہ نتائج سامنے آئیں گے جن پر پوری قوم اور تمام شریک جماعتوں اور امیدواروں کو اتفاق ہو گا…… یوں صحیح معنوں میں اگلی مدت کے لیے عوام کی پسند کی حکومت برسراقتدار لائی جا سکے گی جو ہرگز متنازع نہ ہو گی…… جیسا کہ دنیا بھر کی کامیاب جمہوریتوں میں ہوتا ہے…… یوں اگر مسلم لیگ (ن) اور مولانا فضل الرحمن کے پیش کردہ پروگرام پر عمل درآمد ہو جائے تو اس کا نشانہ بیک وقت اسٹیبلشمنٹ اور اس کی ان کے بقول مسلط کردہ عمران حکومت بنتے ہیں …… اس کے مقابلے میں زرداری جمع بلاول بھٹو کا ہدف عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے صرف عمران حکومت کو گرانا رہ گیا ہے وہ بھی اگر ممکن ہوا…… مگر پیپلز پارٹی اور اس کی قیادت مجموعی استعفوں کے ذریعے صوبہ سندھ میں اپنی حکومت کی قربانی نہیں دینا چاہتی…… نہ وہ آئندہ گیارہ مارچ سے پہلے انعقاد پذیر ہونے والے سینیٹ کے درمیانی مدت کے انتخابات کا مقاطع کر کے ایوان بالا میں اپنی ایک دو نشستوں کے اضافے کے امکان کو ختم کر کے رکھ دینا چاہتی ہے…… یعنی وہ اس اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ براہ راست ٹکر لینے کی راہ پر چلنے پر آمادہ نہیں جو اس کے اور پی ڈی ایم کی بقیہ بڑی چھوٹی جماعتوں کے نزدیک 2018ء کے چناؤ پر غیرمعمولی طور پر اثرانداز ہو کر موجودہ حکومتی نظام کو وجود میں لانے کا باعث بنی……

عمران حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے بظاہر نظر نہ آنے والے مقتدر ترین عناصر دونوں پی پی پی کی اس علانیہ پالیسی پر مسرور و مطمئن دکھائی دیتے ہیں …… زرداری صاحب اقتدار کا کھیل کھیلنا خوب جانتے ہیں …… انہوں نے 2015 میں ایک مرتبہ درودیوار ہلا کر رکھ دینے والی تقریر کر کے مقتدر قوتوں کو للکارا تھا…… میاں نوازشریف اس وقت وزیراعظم تھے…… وہ اپنے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ساتھ بگاڑ پیدا نہیں کرنا چاہتے تھے…… لہٰذا انہوں نے ساتھ نہ دیا…… پی پی پی کا سربراہ چھ ماہ کے لیے دبئی میں جا بیٹھا…… جس کی وطن سے غیر حاضری کے دوران ملک خداداد کے اندر حقیقی اقتدار کے مالکوں نے ان کے قریب ترین دوست اور کراچی میں ضیاء الدین ہسپتال کے کرتا دھرتا ڈاکٹر عاصم پر دہشت گردوں کے علاج کی آڑ میں اور دیگر 

ذرائع سے حاصل کردہ ساڑھے چار سو ارب کی ناجائز رقم کے حصول کا الزام لگا کر ان کا کباڑہ نکال کر رکھ دیا…… زرداری صاحب واپس آئے…… مفاہمت کی خاموش پالیسی اپنائی…… ڈاکٹر عاصم کو کچھ اطمینان نصیب ہوا…… زرداری صاحب درمیانی راہ پر چل نکلے…… عملاً اسٹیبلشمنٹ کو پاکستانی ریاست و سیاست کی بالادست قوت کے طور پر تسلیم کر لیا…… اسی پالیسی پر عمل پیرا ہیں …… 2018 کے چناؤ میں ان کی جماعت وفاق میں اکثریت تو حاصل نہ کر سکی لیکن صوبہ سندھ میں انہیں 2013ء کے چناؤ کے مقابلے میں زیادہ مستحکم پوزیشن ملی…… اس مرتبہ وہ اپنی جماعت کی مضبوط تر صوبائی حکومت کا قیام عمل میں لے آئے…… واقفان درون مے خانہ کی رائے ہے…… پی پی پی کو صوبہ سندھ میں اتنی مؤثر کامیابی دلانے میں کچھ ہاتھ خفیہ قوتوں کا بھی تھا…… اب وہ ان سے مکمل طور پر منہ تو نہیں موڑیں گے اور ’ناشکری‘ کا رویہ نہیں اختیار کریں گے…… اگرچہ عمران خان کو سلیکٹڈ وزیراعظم کا برملا طعنہ یا خطاب بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی کے ایوان میں کھڑے ہو کر دیا تھا…… جو ان کے نام کے ساتھ چپک سا گیا ہے…… اسے لانے والوں کو سلیکٹر بھی غالباً سب سے پہلے ان کی جانب سے کہا گیا…… لیکن باپ بیٹا اور ان کی جماعت اس حد سے آگے نہیں بڑھنا چاہتے…… اس بات کی خواہش تو رکھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے وفاق اور پنجاب میں جن پارلیمانی بیساکھیوں پر عمران خان کی حکومتیں کھڑی کی ہوئی ہیں انہیں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے گرا دیا جائے چھوٹی پارلیمانی پارٹیوں کو اس پر آمادہ کیا جائے…… مگر اسٹیبلشمنٹ کے 2018 کے قائم کردہ عمومی نظام کو چلنے دیا جائے…… اس صورت میں اس کا قوی امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے کہ عمرانی حکومت کے گر جانے کے بعد اسی قومی اسمبلی میں بلاول بھٹو یا پی پی پی کے کسی سینئر پارلیمانی لیڈر کے وزیراعظم بننے کے امکان روشن ہو جائیں …… ان حالات میں زرداری صاحب سامنے نظر آنے والی سویلین حکومت کے انہدام پر تو تیار ہو سکتے ہیں …… لیکن اسٹیبلشمنٹ یا پاکستانی اقتدار کے حقیقی مالکوں کے ساتھ مکمل بگاڑ مول لینے پر مکمل آمادہ نہیں ہو سکتے خواہ ان مقتدر قوتوں کی امور ریاست و حکومت پر بالادستی کتنی غیرآئینی اور غیرجمہوری ہو…… لہٰذا اپنے اعلان کے مطابق عمرانی حکومت کا بوریا بستر لپیٹنے کے اسی طریق کار (عدم اعتماد کا ووٹ) کو لے کر بلاول بھٹو پی ایم ڈی کی دوسری دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) یعنی مریم نواز اور جمعیت علماء اسلام یا مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ازسرنو مذاکرات کا ڈول ڈالیں گے……

فیصلہ ان دونوں جماعتوں کی جانب سے مولانا فضل الرحمن کے علاوہ حقیقی طور پر لندن میں علاج کے لیے مقیم میاں نوازشریف نے کرنا ہے…… کیا وہ محض عمران خان کی حکومت گرانے کی آپشن پر راضی ہو جائیں گے اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ آئین سے بالا بالا سمجھوتہ ہو جائے گا…… بظاہر ایسا معلوم نہیں ہوتا کیونکہ تین مرتبہ منتخب وزیراعظم نے اپنی اس فکر اور پالیسی کو چھپا کر نہیں رکھا ہوا کہ قائداعظمؒ کے بنائے ہوئے اور خالصتاً جمہوری عمل کے ذریعے وجود میں آئی ہوئی مملکت پاکستان میں آئین کی مکمل سربلندی اور جمہوریت کی حقیقی بحالی کی راہ میں وہی قوتیں حائل ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کے پردے پیچھے چھپی بیٹھی تاریں ہلاتی ہیں …… جب چاہے مرضی کے انتخابات کے عمل کے ذریعے کسی کو برسراقتدار لے آتی ہیں اور جب دل بھر جاتا ہے اور ان کا لایا ہوا سول حکمران توقعات پر پورا نہیں اترتا تو اسے کسی غیرآئینی یا نام نہاد پارلیمانی عمل یہاں تک مرضی کے عدالتی فیصلے کے ذریعے اٹھا باہر پھینکتی ہیں …… نوازشریف اور ان کے ہم خیال سیاسی رفقاء کا خیال ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے مقتدر عناصر کو سیاسی مداخلت سے باز رکھے بغیر ملک کو آگے لے کر نہیں چلا جا سکتا…… لہٰذا عمران خان کی حکومت کے ساتھ ان کی بالادستی کو بھی عملاً ختم کر کے رکھ دیا جائے…… بظاہر اسی مقصد کی خاطر 20 ستمبر کو پی ڈی ایم کی تشکیل عمل میں لائی گئی…… پی پی پی اس کی اہم جماعت تھی…… اس نے تین ماہ سے زائد عرصے تک تادم آخر ساتھ دینے کا خوب جھانسہ دیا…… جی بھر کر مشترکہ جلسے کئے…… آخری مرحلے کا وقت قریب آیا تو پی پی پی نے عملاً نوازشریف اور مولانا فضل الرحمن کی مجوزہ راہ عمل سے جدائی اختیار کر لی ہے…… میاں نوازشریف اور مولانا فضل الرحمن دونوں کے لیے اسے ہضم کرنا مشکل ہو گا…… نوازشریف کی رائے ہے عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے آپ انہی چھوٹی چھوٹی پارلیمانی پارٹیوں کو زیادہ مضبوط کریں گے جو ہر فیصلہ کن قدم مقتدر قوتوں کے اشارے پر اٹھاتی ہیں …… یعنی انہوں نے عمرانی حکومت کو گرانے میں ساتھ دے بھی دیا تو یہ عملاً ”اوپر“ والوں کی اشیرباد پر اور ان کی کامیابی ہو گی…… پاکستانی سیاست کی طنابیں مسلسل ان کے لیے ہاتھوں میں رہیں گی…… لہٰذا ان کے لیے پی پی پی کی تجویز کے ساتھ اتفاق کرنا خاصا مشکل ثابت ہو گا…… مقتدر حلقے بھی اپنا سب سے بڑا مخالف نوازشریف اور ان کہے ساتھیوں کو سمجھتے ہیں …… جنہیں کم از کم پنجاب کی حد تک سیاسی غلبہ حاصل ہے…… بلوچستان کے نمایاں لیڈر بھی ان کے ساتھ کھڑے ہو سکتے ہیں …… یہ سب نوازشریف کی طاقت ہے…… اسی کے انہدام کی خاطر اسٹیبلشمنٹ کے مقتدر عناصر اپنا تمام تر اثرورسوخ بروئے کار لانے میں لگے ہوئے ہیں …… پی پی پی کی سنٹرل ورکنگ کمیٹی کے عملاً جداگانہ راستہ اختیار کرنے کے اعلامیہ کے فوراً بعد خواجہ آصف کی گرفتاری بالادست قوتوں کی اسی سوچ و عمل کی غمازی کرتی ہے…… خواجہ آصف نے بھی اپنی گرفتاری کے بعد بیان میں کہا ہے کہ ان پر مسلسل دباؤ تھا…… ”نوازشریف کا ساتھ چھوڑ دو…… ہماری جماعت میں تفریق پیدا کرنے اور اسے توڑنے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں“…… لہٰذا واضح ہو گیا ایک دوسرے کے ساتھ برسرپیکار اصل قوتیں دو ہیں ایک نوازشریف اور ان کی جماعت اور دوسری طرف جانی پہچانی مقتدر قوتیں …… مولانا فضل الرحمن بھی میاں نواز کے اتحادی بن کر کھڑے ہیں کیونکہ ان کی رائے کے مطابق گزشتہ انتخابات میں انہی قوتوں نے انہیں ایوان سے باہر رکھا تھا…… اب سوال یہ ہے پی پی پی کی پیداکردہ نئی صورت حال میں نوازشریف اور مولانا فضل الرحمن اپنے اہداف تک پہنچنے کی خاطر کون سا راستہ اختیار کرتے ہیں …… یہ بات چند روز میں واضح ہو جائے گی…… بصورت دیگر سخت ابہام پیدا ہو گا جس کا فائدہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان دونوں اٹھائیں گے۔


ای پیپر