National politics, International issues, standstill, PTI, PPP, PML-N, inflation
31 دسمبر 2020 (12:08) 2020-12-31

زمانہ قدیم سے ہی چاند کو خوبصورتی کا استعارہ سمجھا جاتا ہے۔ محبت اور رومانویت کا تصور چونکہ خوبصورتی سے جڑا ہوا ہے لہٰذا محبت کرنے والے اپنے محبوب کو چاند سمجھتے ہیں بلکہ چاند پر نظر پڑتے ہی انہیں اپنا محبوب یاد آجاتا ہے یا محبوب کو دیکھ کر چاند کا حسن ان کی نظر میں دھند لانے لگتا ہے ہماری اردو شاعری چاند اور محبوب کے باہمی تعلق سے بھری پڑی ہے یہ تو عاشقوں کی نفسیات کی بات ہو رہی ہے دوسری طرف مائیں اپنے عزیز از جان لخت جگر کو چاند سمجھتی ہی نہیں بلکہ چاند کہہ کر پکارتی ہیں انہیں سب سے دلکش چیز چاند ہی نظر آتی ہے مگر چاند کا سارا حسن انہیں اپنی اولاد کے سامنے ماند نظر آتا ہے کیونکہ محبت اندھی ہوتی ہے۔ یہ ساری خیالی دولت کی ریل پیل ہے جس پر کوئی پیسہ خرچ نہیں ہوتا۔ محبت اور رومانویت کا سارا تصور اس وقت پاش پاش ہو اجاتا ہے جب جھونپڑی کی اوٹ سے نکلنے والا غریب بچہ جس کے دل میں محبت کا تصور ابھی پختہ نہیں ہے وہ اپنی ماں سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اسے روٹی اور چاند کی گولائی یکساں لگتی ہیں یا وہ اپنی معصوم ذہانت کے بل بوتے پر چاند کو روٹی یا روٹی کو چاند سمجھتا ہے یہاں آ کر محبت اور رومانس بہت پیچھے رہ جاتے ہیں اور روٹی کی بھوک غالب آجاتی ہے۔ چاند کو روٹی قرار دینے والا بچہ اپنی جگہ پر اس لیے بھی درست ہے کیونکہ اسے پتہ ہے کہ چاند کسی اور دیس کاباسی ہے جس تک رسائی ممکن نہیں ہے اور جب روٹی تک رسائی دشوار ہو جائے تو وہ بھی چاند ہی لگتی ہے۔ 

ہماری قومی سیاست کبھی بڑے بڑے بین الاقوامی موضوعات کا حصہ ہواکرتی تھی اب سکڑتے سکڑتے روٹی پر آکر رک گئی ہے۔ ایک وقت تھا جب پرائمری سکول کا بچہ بھی کہتا تھا کہ کشمیر ہمارا ہے مگر کشمیر پر ملکیت کا دعویٰ اب بچے تو کیا بڑے بھی بھول چکے ہیں۔ پاکستان کے دولخت ہونے کے بعدہماری موجودہ نسل کے خون میں انتقام کا جذبہ تھا مگر وقت کے ساتھ اب وہ شدت باقی نہیں رہی۔ ہمارے ایام جوانی میں پاکستان قومی سیاست میں فلسطین کو own کیاجاتا تھا وہ روایت اب دم توڑ چکی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ فکر معاش نے خلق خدا کو اتنا جکڑ دیا ہے کہ ان کے اندر وہ سکت ہی نہیں رہی کہ روٹی سے آگے کچھ دیکھ سکیں اس افراتفری اور نفسانفسی کے دور میں حلال اور حرام یا جائز ناجائز کی تمیز بھی بھول چکی ہے جس نے کرپشن اور بدعنوانی کے نئے باب کھول دیئے ہیں۔ ذرائع پیداوار کی غیر مساوی تقسیم اور مواقع روزگار کی عدم دستیابی نے معاملات کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے جس کی وجہ سے ہماری قومی سیاست اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ لیڈر شپ کا عمومی تصور یہ ہے کہ لیڈر وہ ہوتا ہے جو آپ کو روٹی دے اگر وہ اس ون پوائنٹ ایجنڈے پر پورا اترتا ہے تو مقبول ہو جاتا ہے۔ ہماری حالیہ سیاست میں ”کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے“ جیسا نعرہ مروج ہونے کی وجہ بھی یہی ہے کہ کم از کم بھوکے کا پیٹ تو بھر سکے۔ 

اس وقت ملک کی باگ ڈور جس سیاسی پارٹی کے ہاتھ میں اور جو اس وقت قوم کے سیاہ و سفید کی مالک بنی ہوئی ہے ان کے برسر اقتدار آنے کی بڑی وجہ بھی یہی تھی کہ انہوں نے عوام الناس کو یہ باور کرانے میں کامیابی حاصل کر لی کہ وہ حکومت میں آ کر عوام کے لیے روزمرہ زندگی کی مشکلات کم کریں گے جہاں عوام کو روٹی نصیب ہو گی۔ مگر عملاً جو ہوا وہ عوامی امنگوں کے برعکس نکلا۔ روٹی سستی ہونے کے بجائے دوگنی ہو گئی بلکہ دوگنی قیمت سے بھی زیادہ ہو چکی ہے اور جسم و جان کا رشتہ قائم رکھنے کے لیے بنیادی خوراک کا حصول بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ دنیا کی تاریخ اٹھائیں تو تاریخ کے ہر دور میں بادشاہتوں کے عروج و زوال کے پیچھے روٹی کی دستیابی یا عدم دستیابی کو نمایاں دخل رہا ہے۔ 

حکومت بڑی ہنر مندی سے گزشتہ حکومت کو موجودہ مسائل کاذمہ دار قرار دے کر اس سے بریت کی خود ساختہ سند حاصل کر لیتی ہے لیکن اس جعلی سند سے بات ختم نہیں ہوتی یہاں پر حکومت کی اپنی بے حکمتی چھپائے نہیں چھپتی۔ جب کسی مسئلے کے حل کی کوشش کی جائے اور وہ کوشش اتنی غلط ہو کہ اس سے مسئلہ حل ہونے کے بجائے پہلے سے زیادہ شدت اختیارکر جائے تو اسے مذکورہ مسئلے کا Cobru Effect کہاجاتا ہے۔ یہ کوبرا ایفیکٹ دراصل انگریزوں کی من گھڑت اصطلاح ہے جو انہوں نے اپنی غلط اور ناکام پالیسی پر پردہ ڈالنے کے لیے متعارف کرائی تھی اس کی تاریخی تفصیلات بڑی دلچسپ ہیں۔ امریکہ میں مقیم ہمارے دوست ڈاکٹر افضال احمد ملہی نے اس اصطلاح پر تحقیق کی ہے جو دلچسپ بھی ہے اور عبرتناک بھی ہے۔ 

دہلی کے دو بڑے دفاع تھے، سانپ اور ساون۔ دہلی میں ساون کا مہینہ بہت سخت ہوتا تھا، مون سون شروع ہوتے ہی آسمان دریا بن جاتا تھا، یہ بارش دہلی کے مضافات کو دلدل بنا دیتی تھی اور یوں فوجی گاڑیاں اور گھوڑے مفلوج ہو کر رہ جاتے تھے، بارش کے بعد حبس اور ہیضہ دونوں حملہ آور فوج پر حملہ کر دیتے تھے، سپاہی وردی اتارنے پر مجبور ہو جاتے تھے لیکن آفت کم نہیں ہوتی تھی، اسہال اور قے اس کے بعد اگلی مصیبتیں ہوتی تھیں، یہ مصیبتیں ابھی جاری ہوتی تھیں کہ پردیسیوں پر مچھر بھی یلغار کر دیتے تھے اور یوں لشکر ملیریا میں بھی مبتلا ہو جاتا تھا، حملہ آور فوج کے جو سپاہی ملیریا سے بچ جاتے تھے وہ کوبرا سانپوں کا نشانہ بن جاتے تھے، دہلی کے مضافات میں لاکھوں کروڑوں کوبرا سانپ تھے، ہندو سانپ کو دیوتا مانتے ہیں، یہ سانپ کو مارتے نہیں تھے چنانچہ دہلی کے مضافات سانپ گھر بن چکے تھے، یہ سانپ بھی ملیریا کی طرح تخت کے محافظ تھے، یہ حملہ آوروں کی باقی ماندہ فوج کو ڈس لیتے تھے، یہ سانپ تیمور کیلئے بھی مسئلہ بنے اور جب 1857ء کی جنگ کے بعد انگریزوں نے دہلی پر قبضہ کیا تو یہ ان کیلئے بھی چیلنج بن گئے، انگریز سپاہی روز دہلی میں کسی نہ کسی کوبرے کا نشانہ بن جاتے تھے، آپ کو آج بھی دہلی کے گورا قبرستان میں ایسے سیکڑوں انگریزوں کی قبریں ملیں گی جن کی موت سانپ کے ڈسنے سے ہوئی تھی، انگریز دہلی کے سانپوں سے عاجز آ گئے لہٰذا انہوں نے ان سے نبٹنے کیلئے ایک دلچسپ سکیم بنائی، انہوں نے دہلی کے مضافات میں ”سانپ ماریں اور انعام پائیں“ کا اعلان کر دیا، انگریز اسسٹنٹ کمشنر سانپ مارنے والوں کو نقد انعام دیتے تھے،یہ انعام چند دنوں میں تجارت بن گیا، دہلی کے لوگ کوبرا مارتے، اس کی لاش ڈنڈے پر لٹکاتے اور اے سی کے دفتر کے سامنے کھڑے ہو جاتے اور اے سی کا اردلی سانپ گن کر انہیں انعام کی رقم دے 

دیتا، یہ سلسلہ چل پڑا، سیکڑوں لوگ اس کاروبار سے وابستہ ہو گئے، دہلی میں سانپ کم ہونے لگے یہاں تک کہ ایک ایسا وقت آ گیا جب سانپ کے شکاری سارا دن مارے مارے پھرتے لیکن کوئی سانپ ان کے ہتھے نہیں چڑھتا تھا، اس صورتحال نے ان لوگوں کو پریشان کر دیا، کیوں؟ کیونکہ سانپ کشی ان کا روزگار بن چکا تھا، ان لوگوں کو سانپ پکڑنے کے سوا کچھ نہیں آتا تھا اور دہلی میں سانپ ختم ہوتے جا رہے تھے، ان لوگوں نے اس کا ایک دلچسپ حل نکالا، سپیروں نے گھروں میں سانپ پالنا شروع کر دیئے، یہ گھروں میں سانپ پالتے، یہ سانپ جب ”سرکاری سائز“ کے برابر ہو جاتے تو یہ روز ایک سانپ مارتے، اس کی لاش لے کر اے سی کے دفتر پہنچتے اور انعام لے کر گھر واپس آ جاتے، سپیروں کا روزگار ایک بار پھر چل پڑا مگر یہ راز زیادہ دنوں تک راز نہ رہ سکا، انگریزوں کو اس کاروبار کی اطلاع مل گئی، وائسرائے نے میٹنگ بلائی اور اس میٹنگ میں سپیروں کو انعام دینے کی سکیم ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا، انگریز سرکار نے ہرکاروں کے ذریعے دہلی کے مضافات میں منادی کرا دی ”کل سے سانپ مارنے والے کسی شخص کو انعام نہیں ملے گا“ یہ اعلان سانپ پکڑنے اور مارنے والوں کے سر پر چٹان بن کر گرا اور وہ لوگ مایوس ہو گئے، اس وقت ان لوگوں کے قبضے میں لاکھوں سانپ تھے، ان لوگوں نے وہ تمام سانپ مایوسی کے عالم میں کھلے چھوڑ دیئے، وہ سانپ دہلی اور اس کے مضافات میں پھیل گئے، یہ سانپوں کی نسل کشی کے دن تھے، سانپوں نے انڈے بچے دیئے اور یوں دہلی میں انسان کم اور سانپ زیادہ ہو گئے، انگریزوں نے تحقیق کی، پتہ چلا یہ سانپ انعامی سکیم سے پہلے کے سانپوں سے دس گنا زیادہ ہیں، اس صورتحال سے ایک اصطلاح نے جنم لیا، وہ اصطلاح تھی ”کوبرا ایفیکٹ“ آج بھی جب کسی برائی کو مارنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس کوشش کے نتیجے میں وہ برائی دوگنی ہو جاتی ہے تو اسے ”کوبرا ایفیکٹ“ کہا جاتا ہے۔

لگتا ہے کہ ہمارے وزیراعظم کی مہنگائی ختم کرنے کی سکیم بھی انگریزوں کے دلی سے سانپ ختم کرنے جیسی ہے جس کے نتیجے میں مہنگائی ختم ہونے کے بجائے دگنی ہو چکی ہے اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔


ای پیپر