Establishment, dismantling, PDM alliance, PTI, Imran Khan
31 دسمبر 2020 (11:56) 2020-12-31

بالآخر اسٹیبلشمنٹ اپنے پرانے ہتھکنڈے آزماتے ہوئے پی ڈی ایم کی کشتی میں سوراخ کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ پی ڈی ایم کی سیاست میں پچھلے ہفتے میں اتنی اتھل پتھل ہوئی ہے کہ عمران خان کے یوٹرن بھول گئے ہیں۔ اپوزیشن اتحاد کی ہر پارٹی اپنی اپنی بولی بول رہی ہے اور ان کا ایک پیج اور ایک بیانیہ تار تار ہو چکا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کو کچھ نہیں سوجھ رہی ان کے اپنے اتحادیوں نے گھن چکر بنا دیا ہے۔ بلکہ ان کی جماعت جے یو آئی میں بھی ان کے خلاف آوازیں اٹھنے لگیں اور بات قیادت سے بغاوت تک پہنچ گئی گو کہ مولانا نے دہائیوں کے رفقا باغی اراکین کو پارٹی سے فارغ کر دیا ہے۔۔ لیکن بات یہیں نہیں رکے گی اب بھی ان کی جماعت میں ایسے لوگ ہیں جو کہ مولانا کی سیاست سے اختلاف رکھتے ہیں اور ایسی ٹوٹ پھوٹ سے سیاسی جماعتیں ہمیشہ کمزور ہوا کرتی ہیں۔

پچھلے دنوں سب سے بڑی انہونی اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے اسٹیبلشمنٹ کی حامی جماعت مسلم لیگ فنکشنل کے سیکرٹری جنرل محمد علی درانی کی جیل میں ملاقات تھی۔ ہمارے ذرائع کے مطابق یہ ملاقات شہباز شریف کی منشا کے بعد ہوئی ہے اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس ملاقات کی اطلاع مسلم لیگی قیادت کو نہ تھی۔ عموماً ایسی ملاقاتوں میں سکیورٹی اداروں کے اہلکار موجود ہوتے ہیں لیکن یہ ملاقات بالکل تخلیہ میں ہوئی۔ اس ملاقات کے حوالے سے کچھ مبہم سی باتیں سامنے آئی ہیں۔ گو کہ شاہد خاقان عباسی صاحب کچھ بھی کہتے رہیں کہ اس ملاقات سے پی ڈی ایم اور مسلم لیگ ن کی سیاست پر کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن اس ملاقات سے پی ڈی ایم کا اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ متاثر ضرور ہوا ہے۔ اب سنا جا رہا ہے کہ اس ملاقات کے بعد شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی ضمانت ہو جائے گی۔

پی ڈی ایم کی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی کال پر سب سے مؤثر آواز مسلم لیگ ن کی تھی لیکن بعض اتحادی جماعتوں کی طرف سے اس سلسلے میں مخالفانہ آوازوں اور جیل میں ”خصوصی“ ملاقاتوں کے بعد مسلم لیگ ن کے اراکین اسمبلی بھی استعفوں کے حوالے سے شش و پنج میں پڑے ہیں کہ پارٹی قیادت ماضی کی طرح انہیں اندھیرے میں رکھتے ہوئے پھر ڈیل نہ کر گزرے۔۔

پیپلز پارٹی کی سنٹرل ورکنگ کمیٹی نے اسمبلیوں سے استعفوں کو نواز شریف کی وطن واپسی سے مشروط کر دیا ہے۔ مرکزی مجلس عاملہ کے اراکین نے مولانا فضل الرحمان کی بینظیر بھٹو کی برسی میں غیر موجودگی پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے بے نظیر بھٹو کی برسی چھوڑ دی اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کے کہنے پر اسمبلیاں چھوڑ دیں ایسا نہیں ہو گا۔ پیپلز پارٹی کی سی ای سی میں تو یہ تک کہہ دیا گیا کہ پیپلزپارٹی مولانا کی ڈکٹیشن پر نہیں چل سکتی۔ وہ مزاحمتی سیاست اور لانگ مارچ کے لئے تیار ہیں لیکن پہلے پی ڈی ایم اپنی صفیں درست کرے اور میاں نواز شریف کو وطن واپس آ کر لانگ مارچ کا حصہ بننا چاہیے اور استعفوں کو میاں نواز شریف کی وطن واپسی سے مشروط کر دیا۔ مریم نواز بلاول بھٹو کو ون آن ون ملاقات میں بھی استعفوں پر قائل نہ کر سکیں۔ البتہ سیاست میں رواداری کی نئی مثال قائم کرتے ہوئے مریم نواز شریف نے گڑھی خدا بخش میں بھٹو خاندان کے مزار پر حاضری دی اور بے نظیر شہید کے مزار پر فاتحہ بھی کی۔

پی ڈی ایم سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے کی مخالف تھی لیکن پیپلز پارٹی نے ان انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر کے پی ڈی ایم کے بیانیے کو نقصان پہنچایا۔ پیپلز پارٹی کا قومی و صوبائی اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان بھی پی ڈی ایم کی قیادت کے لیے ایک جھٹکا تھا میری اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ ن کی اکثریت بھی ان انتخابات میں سیاسی وجوہات کی بنا پر حصہ لینے کی حامی ہے لیکن قیادت اس حق میں نہیں۔ ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کے حامی اراکین کا کہنا تھا کہ ان انتخابات کا بائیکاٹ کرنے سے پی ٹی آئی کو واک اوور مل جائے گا۔ جبکہ مولانا فضل الرحمان اس حکومت کے تحت ضمنی انتخابات کی مخالفت کر چکے ہیں۔ اب اتحادی جماعتوں کے اس سلسلے میں الگ موقف کی وجہ سے مولانا بھی کمزور پڑ چکے ہیں اور اس سلسلے میں حتمی فیصلہ پی ڈی ایم کے آئندہ سربراہی اجلاس میں کیا جائے گا۔ بظاہر لگ رہا ہے کہ پی ڈی ایم ضمنی اور سینیٹ انتخابات کے حق میں فیصلہ دے گی۔ اگر ایسا ہوا تو یہ حکومتی موقف کی جیت ہو گی۔ پیپلز پارٹی کے قمر زمان کائرہ دھرنے کی بھی مخالفت کر چکے ہیں۔ مسلم لیگ نواز پی ڈی ایم کے اسلام آباد مارچ کو پہلے سے طے شدہ وقت کے بجائے 23 مارچ کے بعد کرنے کی تجویز کی حامی ہے۔ یہ بھی مولانا فضل الرحمان کے لیے ایک جھٹکا ہے۔ بہر حال ان سب کا فیصلہ پی ڈی ایم کے آئندہ سربراہی اجلاس میں ہو گا۔

ایک بات تو طے ہے کہ حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن میں ڈائیلاگ دور دور تک نظر نہیں آتے دوسری طرف پی ڈی ایم میں بڑھتے ہوئے اختلافات کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ بھی شیر ہو گئی اور خواجہ آصف کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ہماری اطلاعات کے مطابق اسٹیبلشمنٹ نے اسلام آباد دھرنے سے قبل نیب اور ایف آئی اے کے ذریعے مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کے 32 سے زیادہ سرکردہ رہنماؤں کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے کسی ممکنہ ڈیل کے حوالے سے نواز شریف کی سعودی عرب روانگی کا شوشہ بھی چھوڑا گیا۔ لیکن اسحاق ڈار صاحب نے راقم کے اسرار پر میاں نواز شریف سے بات کر کے اس کی تردید کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام معاملات اب پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ہوں گے۔

بہر حال کچھ پی ڈی ایم کے اندرونی اختلافات اور کچھ اسٹیبلشمنٹ کی ریشہ دوانیوں سے فی الحال راوی عمران خان حکومت کے لیے چین ہی لکھ رہا ہے۔

قارئین اپنی رائے کا اظہار وٹس ایپ 03004741474 پر کریں۔


ای پیپر