Education, health, essential parts, society, management, economics
31 دسمبر 2020 (11:47) 2020-12-31

تعلیم اور صحت معاشرے کی لازمی جزئیات میں سے ہیں۔ ہر دو شعبوں کی افادیت بیان کرنے لگیں تو ہزاروں صفحات لکھے جاسکتے ہیں۔ ہمارے یہاں ایک تو ریاستی سطح پر صحت اور تعلیم کو وہ ترجیح نہیں دی گئی جس کا تقاضا ہمارے سماجی حالات کرتے ہیں۔ دوسرا نجی شعبوں نے صحت اور تعلیم کے نام پر عوام کے ساتھ جو کھیل کھیلا ہے وہ قابل تعذیر بھی ہے اور شرمناک بھی۔سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ابھی تک ریاست، حکومت اور ہم عوام خود ان شعبوں کو اپنے سماجی حالات اور تقاضوں کے مطابق کرنے پر تیار نہیں ہیں۔”نسلوں کا روشن مستقبل“،”کل کے معمار“، ”سب سے پہلے صحت“  جیسے نعرے صرف حکومتی اور ریاستی افراد کی تقاریر کی زینت ہیں جو ہمیں وقتاً فوقتاً سننے کو ملا کرتی ہیں۔تعلیم اور صحت کے حوالے سے دو واقعات آپ کے سامنے پیش کروں گا جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انسان دولت کی حرص میں کہا ں تک جا سکتا ہے۔

راقم کی عادت کے اخبار بینی ہو یا مطالعہ کتب، شاعری ہو یا موسیقی، کوشش ہوتی ہے کہ اپنے بچوں اور دیگر احباب کو بھی ان کے ذوق کے مطابق  اپنے ساتھ شریک کروں۔ سمارٹ فون نے تو اس عادت کے لئے نہایت آسانی فراہم کردی ہے۔ایک کثیر سرکولیشن اخبار کے ”سنڈے میگزین“ میں آدھے صفحے پر بذریعہ خط و کتابت کم و بیش چار درجن کورسز کاایک اشتہار شائع ہوا۔ اشتہار شائع کرنے والے ادارے کے نام کی مماثلت اسلام آباد کی ایک بڑی یونیورسٹی کے نام سے تھی۔ حسبِ عادت اپنی بڑی بیٹی کی توجہ اس اشتہار کی جانب دلائی اور ترغیب دی کی کہ اپنی دلچسپی کے کسی ایک کورس میں داخلہ لے لیں۔ بیٹی جس نے  حال ہی میں انٹر میڈیٹ کا امتحان دیا ہے، اس کی خواہش تھی کہ فراغت کے دنوں میں تعلیمی استعداد میں اضافے کے لیے استعمال کر لے۔بیٹی نے پہلے انٹیرئیر  ڈیزائنگ  کے کورس میں دلچسپی ظاہر کی مگر بعد میں بزنس مینجمنٹ کے کورس کو ترجیح دی۔چند دن بعد محکمہ ڈاک سے ڈاک بابو کا فون آیا کہ کتابوں کا پارسل آیا ہے جس کے لیے 3500 روپے دینا ہونگے۔ میں نے کہا کہ ضرور لے آیئے۔ بیٹی نے رقم دی اور کتابیں 

وصول کیں اور میرے گھر پہنچنے پر بڑے شوق سے دکھائیں۔ جس شوق سے بیٹی نے کتابیں دکھائیں اسے زیادہ جھٹکا مجھے کتابیں دیکھ کر لگا۔ کتابیں کیا تھیں  فوٹو کاپی  پر مشتمل چالیس پچاس صفحات کا چیتھڑا نما پلندہ تھا۔ ان کے مندرجات کو دیکھا توتیس سال قبل جو معاشیات میں نے انٹرمیڈیٹ میں پڑھی تھی اس کی فوٹو کاپی تھی ۔بھیجنے والا Economics  اور Managment  کے فرق سے بھی نابلد تھا۔ خیر میں نے فوراً ہی کتابوں پر درج نمبر پر فون کیا تو مجھے ایک اور نمبر دیا گیا جو ”یونیورسٹی“ کے چانسلر صاحب کا تھا۔ میں نے سلام کے بعد اپنا تعارف کراتے ہوئے انہیں بتایا کہ جو اوراق انہوں نے بھیجے ہیں اول تو وہ اردو میں ہیں اور بچی انگریزی میڈیم کی ہے۔ دوئم کہ جو مندرجات ہیں وہ تو تیس سال قبل ہم نے پڑھے تھے آج تیس سال بعد تو بہت جدت آچکی آپ کون سے عہد میں جی رہے ہیں؟ تیسرا یہ کہ کورس تو بزنس مینجمنٹ کا تھا آپ نے گیارویں بارہویں جماعت کی معاشیات  سے آدم اسمتھ کے نظریات فوٹو کاپی کرکے بھیج دیئے۔ آخر میں ان سے درخواست کی کہ ازراہ کرم کتابیں واپس لیں اور رقم لوٹا دیں۔ انہوں نے جواب میں کہا کہ اول تو میں دیکھتا ہوں کہ انگریزی کا کوئی پلندہ کہیں رکھا ہو تو وہ بھیج دیتا ہوں لیکن اگر آپ کو رقم واپس چاہیے تو آپ کتابیں حوالہ ڈاک کردیں چند روز بعد رقم آپ کو بذریعہ منی آڈر بھیج دی جائے گی۔ میں نے جواب میں عرض کی کہ میں خود کتابیں لے کر آپ کے آفس آجاتا ہوں آپ کتابیں لے کر رقم مجھے واپس کردیجئے گا۔ انہوں نے حامی بھر لی۔ میں اگلے روزاسلام آبا دکے آئی ٹین سیکٹر کے مرکز پہنچ گیا۔ بتائے گئے پلازہ پر نظریں دوڑاتا رہا کہ یونیورسٹی کا بورڈ نظر آئے لیکن بورڈ ہوتا تو نظر آتا۔ دفتر فون کیا تو بتایا گیا کہ فلاں ہوٹل کے سامنے کی عمارت میں سیڑھیاں چڑھ کر فلاں نمبر کمرے میں آجائیں۔ عمارت میں داخل ہوا تو سیڑھیوں پر اس قدر کچرا اور گند کہ بدبو کے مارے برا حال، صاف لگ رہا تھا کہ سال سے کسی نے صفائی کی زحمت نہیں کی ہے۔ بتائے گئے کمرے پر پہنچا تو وہاں دفتر کیا تھا  چھ x  دس کا ایک دڑبہ نما نیم تاریک کمرہ تھا جسے لکڑی کا تختہ لگا کر دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ایک میلا سا صوفہ سیٹ رکھا تھا اور ایک صاحب تشریف فرما تھے جنہوں نے میرا نام پوچھ کر کتابیں وصول کیں اور مجھے رقم واپس کردی۔ یہ تھی وہ یونیورسٹی جس کا ہرہفتے اشتہار شائع ہوتا اور نہ جانے کتنے افراد حصول تعلیم کے شوق میں باپ کی خون پسینے کی کمائی معاشرے کے ان ناسوروں کے حوالے کرتے ہوں گے۔ میں تو اسی شہر میں تھا جا پہنچا۔ کسی نے جھنگ سے پیسے بھیجے ہوں گے تو کسی نے شکار پور سے، کسی نے شیخوپورہ سے تو کسی نے بنوں سے۔ کتنے ہوں گے جو ان ”تحقیقی تخلیقات“  سے مستفید ہو کر اپنی تعلیمی قابلیت میں اضافہ کرتے ہوں گے یا پھر کچھ فہم رکھتے ہوں گے تو واپسی کا تردد کرتے ہوں گے؟  

اخبار میں اس طرح کے اشتہارات کے لیے متعلقہ سرکاری محکمے کا اجازت نامہ لازمی قرار دیا جانا چاہیے اور متعلقہ اداروں کی بھی یہ ذمہ داری ہونی چاہیے کہ ایسے نام نہاد اداروں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں تاکہ غریب کی جیب کم از کم ایک ڈاکے سے تو بچ سکے۔  

اسی طرح ایک انگریزی اخبار میں ایک رپورٹ شائع ہوئی کہ سینے کے درد انجائنا کے لیے ملٹی نیشنل دوا ساز کمپنی کی تیار کردہ دوا مارکیٹ میں کم یاب ہے۔0.5 ملی گرام کی یہ واحد دوا ہے جو ایمرجنسی میں فوری طور پر مریض کوزبان تلے رکھنے کو دی جاتی ہے تاکہ زندگی کو لاحق خطرے کو روکا جا سکے۔ کم یابی کی وجہ یہ بتائی گئی کہ اس کی قیمت کم ہے لہٰذا ڈسٹری بیوٹرز اور دوکانداروں نے اس کو مارکیٹ سے غائب کر دیا ہے۔ اس حوالے سے ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ اس ملٹی نیشنل کمپنی نے ناگزیر وجوہات کی بنیاد پر اس کی پیداوار کم کردی ہے۔ متعلقہ محکمے کے مطابق اس دوا کی تیاری میں استعمال ہونے والے اجزاء کوویڈ 19 کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں جس کی وجہ سے اس کی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔ اس دوا کا متبادل ایک اسپرے ہے اور وہ بھی آسانی سے دستیاب نہیں۔ مذکورہ دوا دل کے ستر فیصد مریضوں کو تجویز کی جاتی ہے۔ اور یہ دوا دستیاب نہیں۔ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی سیاسی جماعتوں کے بیان پڑھ لیں، ٹی وی چینل پر ان کی گفتگو سن لیں تو آپ کو سب  کچھ ملے گا سوائے عوامی مسائل کے فوری اور پائیدار حل کے۔  اب تو ہی بتا تیرا مسلمان کدھر جائے؟


ای پیپر