مت سمجھو ہم نے بُھلا دیا!
31 دسمبر 2020 2020-12-31

گزشتہ کالم میں، میں نے دسمبر میں دنیا کو خیرآباد کہنے والی عظیم شخصیات بے نظیر بھٹو، منیر نیازی اور پروین شاکر کا ذکر کیا تھا، میں ابھی تک سوچ رہا ہوں، میں ملکہ ترنم نورجہاں کو کیسے بھول گیا ؟ اُنہوں نے بھی دسمبر میں ہی دنیا چھوڑی تھی.... 1994ءمیں میری شادی ہوئی، میری خواہش تھی وہ اِس میں شریک ہوں، میں شادی کارڈ لے کر اُن کی خدمت میں حاضر ہوا، دلدار پرویز بھٹی اور خواجہ پرویز کو بھی بطور ”سفارشی“ ساتھ لے گیا، اُس روز میڈم کے گھر ایسی محفل جمی ہمارا وہاں سے اُٹھنے کو جی ہی نہیں چاہ رہا تھا، نہ میڈم کا جی چاہ رہا تھا ہم اُٹھ کر جائیں، ہم نے دوبار اجازت لی، دونوں بار اُنہوں نے ہمیں جانے نہیں دیا، اُن دِنوں شاید اداکارہ انجمن کی نئی نئی شادی ہوئی تھی، میڈم نورجہاں نے دلدار بھٹی سے پوچھا ” انجمن کا شوہر کیا کرتا ہے؟“،دلداربولا ”میڈم جی اوہ انکم ٹیکس افسراے“.... میڈم جی نے ایک قہقہہ لگایا اور کہنے لگیں”یہ تو بڑا مسئلہ ہوگیا، پہلے وہ ٹیکس سالانہ دیتی تھی اب روزانہ دے گی“ .... اُس روز میڈم بڑے موڈ میں تھیں، اُنہوں نے اپنی جوانی کے دور میں کچھ مشہور شخصیات کے ساتھ اپنے خصوصی مراسم کی داستانیں بھی ہمیں سنائیں، خواجہ پرویز نے میڈم سے کہا کوئی گانا سنائیں، گانا کیا سنانا تھا، اُس سے پہلے میڈم نے ہمیں ایک قصہ سنادیا، فرمانے لگیں ”میری جب ہارٹ سرجری ہوئی تو ڈاکٹرز میرا دِل بہلا رہے تھے، میں بھی اُن سے خوشگوار موڈ میں باتیں کرکے اُنہیں یہ پیغام دے رہی تھی میں اِس سرجری سے گھبرانے والی نہیں ہوں، اِس موقع پر میں اُنہیں بتارہی تھی فلاں گانا میں نے ان دنوں گایا جب ہما میرے پیٹ میں تھی، فلاں گانا میں نے اُن دنوں گایا جب حِنا میرے پیٹ میں تھی، فلاں گانا میں نے اُن دِنوں گایا جب ہارون میرے پیٹ میں تھا۔ ایک بڑا مسخرہ سا ڈاکٹر میرے قریب کھڑا تھا، وہ کہنے لگا ”میڈم جی ہمیں کوئی ایسا گانا سنائیں جو آپ نے ”خالی پیٹ “ گایا تھا .... یہ قصہ سُن کر دلدار پرویز بھٹی نے میڈم کی طرف معنی خیز نظروں سے دیکھا اور کہنے لگا ”میڈم جی اِس کا مطلب ہے آپ نے پھر ڈاکٹرز کو کوئی گانا نہیں سنایا ہوگا“ .... دلدار بھٹی کے اِس جُملے پر سب کھلکھلاکر ہنس پڑے، ہم نے پھر اجازت چاہی میڈم نے کہا ”میں آپ کو کھانا کھلائے بغیر نہیں جانے دوں گی“ ،....آج میں نے خود کھانا بنایا ہے ....”بہت سی ڈشز تھیں پر دال چاولوں کا اپنا ہی مزہ تھا، خواجہ پرویز (مرحوم) بولے ”میڈم جی ساہڈا خیال سی تُسی صرف اُلو بہت اچھا بنادے او، تُسی تے دال وی بہت اچھی بنالیندے او“ .... میڈم بولی ” خواجہ صاحب میں کدوں تہانوں بنایا اے“ .... یعنی اُنہوں نے خواجہ پرویز کو ”اُلو“ بنادیا،.... ہم جب رخصت ہونے لگے میڈم نے شادی کارڈ کھولا، اُس پر شادی کی تاریخیں پڑھ کر کہنے لگیں ”اٹھارہ اور اُنیس فروری کو میں کراچی میں ہوں، میری ریکارڈنگ ہے، اِس لیے میں حاضر نہیں ہوسکوں گی“ .... میں نے گزارش کی میڈم سترہ فروی کو میری رسم تیل مہندی ہے، آپ اُس میں آجائیے گا“ .... اُنہوں نے وعدہ کرلیا، پھر فرمانے لگیں ”مجھے اپنے گھر کا راستہ سمجھاﺅ“.... میں دیرتک اُنہیں راستہ سمجھاتا رہا، وہ بڑے توجہ سے سمجھتی بھی رہیں، پھر بولیں ” بٹ جی آپ نے مجھے اتنا سمجھایا ہے میرے پلے ککھ نہیں پڑا، میں سوچتی ہوں اِس عمر میں میری یادداشت کا یہ حال ہے میں جب بوڑھی ہوں گی میرا کیا بنے گا ؟“.... (میڈم جی کی عمر اُس وقت ستر برس تھی) ستر برسوں میں میڈم جی خود کو جوان بلکہ ”بچی“ سمجھ رہی تھیں، اُنہیں جوان رہنے اور جوان دیکھائی دینے کا جنون تھا، شاید اِسی لیے وہ جوانوں کو اپنے بڑھاپے تک پسندکرتی رہیں.... ہاں یاد آیا میرا چھوٹا بھائی بھی میرے ساتھ تھا، وہ بہت خوبصورت ہے، اُن دِنوں باڈی شاڈی بھی اُس نے بڑی بنائی ہوئی تھی، میڈم نے اُس کی طرف دیکھا اور مجھ سے کہنے لگیں ” تے بٹ جی تسی ایناں نوں بھیج دینا مینوں آکے لے جان گے“ ....دلدار بولا ” میڈم جی اے اجے بوہت چھوٹا اے ایدے کولوں ایڈی مشقت نئیں ہونی“ .... دلدار پرویز بھٹی اور میڈم جی کی بڑی بے تکلفی تھی، دونوں ایک دوسرے کو کمال کی جگتیں مارا کرتے تھے، کبھی کبھی میڈم جب ہار مان لیتیں تو دلدار سے کہتیں ”گل سُن توں صرف جگتاں ای مار سکناں ایں“ .... ایک بار دلدار نے میڈم سے کہا ” میڈم جی تُسی گان لگیاں ایڈا وڈا منہ کھول دے جے تہاڈے کول کھڑے یا بیٹھے لوک، خود میں وی ڈرجاناتسی کدھر ساہنوں کھا نہ جاﺅ“ .... میڈم نے بے ساختہ جواب دیا ” وے بھٹی میں کاں (کوے) نئیں کھاندی“.... یاد رہے دلدار بھٹی کارنگ کالا تھا، پر یہ کالا رنگ اُس پر ویسے ہی سجا ہوا تھا جیسے میڈم پر سفید رنگ سجا ہوا تھا۔ دلدار بھٹی اکثر کہتا تھا میڈم نے یہ گانا صرف میر ے لیے گایا ہے”وے کالا سیاہ کالا میرا کالا اے دلدار تے گوریاں نوں پراں کرو“ .... ایک بار اُس نے میڈم سے کہا ”میڈم جی میں وی بٹ آں“.... میڈم بولیں ”جاوے، بٹ ایڈے کالے نئیں ہوندے“.... وہ بولا ” میڈم جی میں اصل وچ افریقہ دا بٹ آں“.... خوبصورتی کے لحاظ سے ”بٹ برادری“ میڈم کو اتنی پسند تھی ایک بٹ صاحب سے اُنہوں نے باقاعدہ شادی کرلی تھی، بعد میں طلاق شاید اِس لیے ہوگئی ہوگی اکثر بٹ رات کو کھانا کھانے کے فوراً بعد سوجاتے ہیں“.... دلدار بھٹی میڈم کا احترام بھی بہت کرتا تھا، وہ اکثر میڈم کے آگے یا اُن کے پیچھے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوجاتا تھا جس پر میڈم کو ہمیشہ بڑا اعتراض ہوتا،.... ایک بار میڈم، دلدار بھٹی سے باقاعدہ ناراض ہوگئیں، ہوا یہ نصف شب کو ایک شو ختم ہوا تو میڈم نے دلدار سے کہا ” مجھے میرے گھر چھوڑ آﺅ“....اور دلدار اُنہیں واقعی اُن کے گھر کے گیٹ پر چھوڑ کر آگیا....آواری ہوٹل لاہور کے خورشید محل ہال میں ایک شوتھا، یہ ہال ہوٹل کے فسٹ فلور پر واقع ہے۔ میڈم اِس شومیں شرکت کے لیے آئیں تو اچانک ہوٹل کی لفٹ خراب ہوگئی، میڈم کو سیڑھیوں کے ذریعے اُوپر جانا پڑا، دلدار بھٹی اور گلوکار اے نیر آہستہ آہستہ اُنہیں اُوپر لے جارہے تھے، آخری سیڑھی پر پہنچ کر وہ رُک گئیں‘ گہرے گہرے سانس لیتے ہوئے اپنا ہاتھ دلدار بھٹی کے کندھے پر رکھتے ہوئے بولیں” وے بھٹی مینوں تے ساہ ای چڑھ گیا اے“....دلدار بولا ”میڈم جی ساہڈے نالوں تے ساہ ای چنگا ہویا“ .... میڈم کا دِل بھی بہت بڑا تھا، اُن کی وفات پر اپنے کالم میں، میں نے لکھا تھا ”روز قیامت جب اللہ کے سامنے وہ پیش ہوں گی اور اللہ نے اُن سے پوچھا ” میں نے تمہیں دنیا میں اِس لیے بھیجا تھا تم جاکر گانے گاﺅ؟“.... وہ اپنے روایتی معصومانہ انداز میں اللہ سے پوچھے گی ” اے میرے مالک پہلے تُو بتا تُونے مجھے اتنی خوبصورت آواز کیوں بخشی تھی؟“....اُن کی زندگی کے آخری لمحات میں، میں اور ملک معراج خالد (نگران وزیراعظم) اُن کی عیادت کے لیے کراچی آغا خان ہسپتال گئے، اُن کے پورے جسم پر چادر تھی، وہ اتنی کمزور ہو گئی تھیں ہمیں لگا اُن کا نوے فی صد جسم پہلے ہی اللہ کے پاس جاچکا ہے، اُن کی آنکھیں بھی تیزی سے بجھتی ہوئی محسوس ہورہی تھیں، ماحول بڑا سوگوار تھا، سوگواری کچھ کم کرنے کے لیے ملک معراج خالد نے اُن سے پوچھا ”میڈم جی کچھ یاد ہے آج تک کتنے گانے گائے ؟“....دوموٹے موٹے آنسواُن کی آنکھوں سے بہے، بڑی آہستگی سے بولیں ”ملک صاحب میتھوں گانیاں داتے گناہواں دا حساب نہ پوچھو“.... اللہ اکبر.... بہت یادیں ہیں پر میں مزید نہیں لکھوں گا، مجھے وہ لمحات یاد آگئے جب اُنہوں نے یہ جملہ بولا .... اُن کی وصیت کے مطابق اُن کے آخری دیدار کی اجازت نہیں دی گئی۔ وہ چاہتیں تھیں اُن کا خوبصورت چہرہ ہی لوگوں کو یاد رہے....”سب کہاں کچھ لالہ وگل میں نمایاں ہوگئیں.... خاک میں کیا کیا صورتیں ہوں گی جو پنہاں ہوگئیں“!!


ای پیپر