کورونا اور نیب
31 دسمبر 2020 2020-12-31

ایک طرف کورونا ہمارے ملک میں اموات کا سبب بن رہا ہے تو دوسری طرف نیب بھی اس پیارے وطن کے ساتھ کچھ ایسا ہی کر رہا ہے۔پچھلے دنوں گریڈ بائیس کے ایک بڑے نیک نام اور محنتی بیوروکریٹ معروف افضل کورونا کے باعث زندگی کی بازی ہار گئے تھے،اب گریڈ بائیس کے ایک اور افسر کنٹرولر جنرل اکاو¿نٹس خرم ہمایوں بارے خبر آئی ہے کہ انہوں نے خود کشی کر لی ہے ،بتایا گیا ہے کہ وہ نیب کی تحقیقات کی وجہ سے کافی پریشان تھے۔کہتے ہیں کورونا اور نیب سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے،کام کرنا ہے مگر ہمارے جیسے ملک میں کوئی ان دونوں سے کب تک لڑے گا ، کب تک کام کرے گا ، کورونا سے بچاو¿ کےلئے حفاظتی اقدامات کےلئے حکومت تیار ہے نہ قوم، ویکسین یہاں کب لگے گی کوئی پتہ نہیں،اسی طرح نیب سے بچنے کےلئے ایک ہی راستہ ہے کہ سرکاری دفاتر بند کر دیئے جائیں اور کاروبار کسی اور ملک میں جا کر کر لیا جائے،نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری ۔خواجہ آصف بھی نیب کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے ہیں ،الزام وہی گھسا پٹا ،آمدن سے زائد اثاثے۔میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ اس الزام میں آپ دودھ پیتے بچے کو بھی گرفتار کر لیں گے تو وہ بھی شاید اپنا بچاو ¿نہ کر سکے۔وہ نہیں بتا سکے گا کہ ماں کا دودھ تو تھوڑا پیا مگر زیادہ صحت مند کیسے ہو گیا۔ 

کرپشن کسی بھی ملک، ادارے کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے کرپشن زدہ ممالک میں صرف سرکاری خزانہ ہی خالی نہیں ہوتا بلکہ قومی معیشت، صنعت، زراعت، امن و امان، عدل و انصاف یہاں تک کہ سول سوسائٹی بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کی ترقی و خوشحالی کی ایک وجہ کرپشن کے سوراخ بند کرنا بھی ہے کرپشن کے خاتمہ میں سخت ترین سزائیں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں، پاکستان میں جنرل ضیاءالحق کے دور میں حکومتی سطح پر کرپشن کا آغاز ہوا ، اور اسی دور میں کرپشن کے تدارک کے لئے اقدامات شروع کئے گئے۔ ضیاءالحق نے جونیجو حکومت کو برطرف بھی کرپشن کا الزام عائد کر کے کیا تھا مگر حکومت کی برطرفی کے بعد معاملہ ٹھپ ہو گیا یہی برائی کی اصل جڑ ثابت ہو رہی ہے۔ میاں نواز شریف نے بھی احتساب کا ادارہ قائم کیا اور اسے اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کیا ، جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور اقتدار میں احتساب بیورو کے نام سے ادارہ قائم کیا مگر احتساب کا یہ قانون کرپشن کے خاتمہ یا کمی کے بجائے سیاسی انتقام کا ذریعہ بن گیا، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن نے ایک دوسرے کے خلاف اس قانون کا بے جا استعمال کیا مگر کرپشن ختم تو کیا کم بھی نہ ہوئی۔ تحریک انصاف حکومت نے کرپشن کا خاتمہ اور قومی لٹیروں کا احتساب اپنے منشور کا بنیادی جز بنایا، بڑے طمطراق سے احتسابی عمل شروع کیا ۔انکوائریاں، مقدمات، ریفرنسز، گرفتاریاں ہونے لگیں مگر نتیجہ صفر، اگرچہ نیب نے عوام سے دھوکہ دہی سے رقوم اینٹھنے اور نچلی سطح پر کرپشن کے کچھ کیسوں میں کامیابی حاصل کی ورنہ بڑے کیسوں میں نامزد افراد سے کیا برآمد ہو ا۔ 

تحریک انصاف کا نیا پاکستان شرفاءخاص طور پر بیورو کریسی کیلئے عذاب کی شکل اختیار کر چکا ہے، عمر، عہدہ، خدمات کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے صرف اس جرم میں اعلیٰ بیوروکریسی کے دیانتدار، اہل، تجربہ کار افسروں کو گرفتار کیا گیا کہ وہ سابق حکمرانوں کے بہت قریب تھے یا اہم منصوبوں میں ان کو معاونت فراہم کرتے رہے، حکومتی شخصیات سے قربت کوئی گناہ نہیں اوراگر منصوبوں میں کسی قسم کی بے ضابطگی، بدعنوانی ہوئی تو گرفتاری سے قبل انکوائری کی جاتی اور جس نے اس کا زبانی یا تحریری حکم دیا تھا اس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاتی۔

نیب حکام مگر جانے کس کو راضی کرنے کے لئے ملزم کو مجرم بناتے رہے، کئی کئی ماہ جیل میں ڈالے رکھا جسمانی ریمانڈ لیا گیا مگر اتنے طویل عرصہ کے بعدبھی ریفرنس دائر کئے نہ مقدمہ کا چالان عدالت میں پیش کیا گیا،اس کے باوجود روزانہ ایک نت نئی لسٹ نیب جاری کرتا ہے اور ان کو مجرموں کی طرح ٹریٹ کرتا ہے اور لسٹ والے شریف لوگ من چھپاتے پھرتے ہیں۔

کیا کیا مثالیں دیں سینئر بیوروکریٹ سلیما ن غنی کو ضعیف العمری کے باوجود گرفتار کیا گیا وہ ایک ناکردہ گناہ کی سزا بھگتتے رہے، عدالت سے رجوع کرنے پر نیب ان کے خلاف کوئی ثبوت اور گواہ نہ پیش کر سکا اور سلیمان غنی کو ضمانت پر رہائی مل گئی، ایسا ہی سلوک فواد حسن فواد اوراحد چیمہ کے ساتھ روا رکھا گیا ۔ دونوں کے خلاف کرپشن الزامات کے انبار لگائے گئے مگر کسی جرم کا ثبوت اور گواہ پیش نہ کیا گیا، پنجاب کی 56 کمپنیوں کا کیس ابھی ادھورا ہے مگر فواد حسین فواد اور ان کے اہل خانہ نے جو ذہنی اذیت برداشت کی اس کا ازالہ کرنے کو کوئی تیار نہیں۔احد چیمہ کو شاید تین سالوں سے قید میں رکھا ہوا ہے اور اسکی ضمانت بھی نہیں ہو نے دی جا رہی۔

ابھی تک حکومت سمیت تمام بڑی سیاسی جماعتیں احتساب قوانین پر معترض ہیں ،وزیر اعظم اس قانون میں ترمیم کو این آر او بنا دیتے ہیں۔اسی طرح ن لیگ اور پیپلزپارٹی اپنے ادوار میں نیب قانون کا غلط استعمال ایک دوسرے کے خلاف کرتے رہے تب انہیں اس قانون میں ترمیم کا خیال تک نہ آیا کہ دونوں ذہنی آسودگی اور سیاسی مفادات حاصل کرتے تھے، موجودہ حکومت نے اس حوالے سے تاجروں، بیوروکریٹس، سیاستدانوںکے اعتراضات کے بعد پہلے صدارتی آرڈی نینس کے ذریعے ترمیم کی پھر اسے واپس لے کر اسمبلی کے ذریعے قانون سازی کا عندیہ دیا۔

سپریم کورٹ بھی نیب حکام، اداروں کی کارکردگی، طریقہ کار پر سوال اٹھا چکی ہے، ہمارے ہاں سب سے بری روایت نچلی سے اوپری سطح تک یہ ہے کہ جس پر الزام عائد کیا جائے اپنی بے گناہی کے ثبوت لانا بھی اس کی ذمہ داری قرار پاتی ہے، تھانوں، کچہریوں میں بھی اسی روایت پر عمل ہوتا ہے حالانکہ الزام دہندہ کو اپنے الزام کے حق میںثبوت پیش کرنے کا ذمہ دار ہونا چاہئے، مگر یہاں الٹا پہیہ گھوم رہا ہے اور عرصہ دراز سے ایسا ہو رہا ہے۔ بیورو کریسی کسی بھی ریاست کا اہم ستون ہوتی ہے، ریاست کا اگر اس پر اعتماد نہ ہو تو ایسی بیوروکریسی کسی کام کی نہیں رہتی، بڑے بڑے دماغ، اعلیٰ تعلیم کے حامل، تربیت یافتہ افراد ناکارہ رہ جاتے ہیں جبکہ ان کو درست طور پر بروئے کار لا کر معاشرے اور قوم کے لئے گراں بہا خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں، کوئی حکومت بیوروکریسی یعنی انتظامیہ کے بغیر چند قدم آگے نہیں بڑھ سکتی اور جہاں بیوروکریسی کو ناپسندیدہ قرار دیدیا جائے،ان پر نیب کی تلوار لٹکا دے جائے وہاں ترقی و خوشحالی کا خواب دیکھنا حماقت ہو گی۔


ای پیپر