پاکستان کی خارجہ پالیسی اور عالمی سیاست
31 دسمبر 2019 (22:19) 2019-12-31

ایران امریکہ کشیدگی، برطانوی انتخابات اور مسئلہ کشمیر عالمی توجہ کا مرکز رہے

حامد خان مشرقی

سال 2019ءملکی اور غیر ملکی سطح پر بہت زیادہ غیر معمولی حالات کا سال ثابت ہو ا اور اس میں بہت سارے واقعات اور حادثات رونما ہوئے آئیے اس سال کے اہم واقعات کا احاطہ کر تے ہیں پہلے اس سال کو پاکستان اور پاکستان سے جڑے واقعات کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ یہ سال پاکستان کے لئے بین الاقوامی امور پر سر گرمیوں سے بھر پور تھا۔ خارجہ امور کے محاذ پر وزیراعظم عمران خان نے متعدد نمایاکامیابیاںحاصل کیں۔ جنوری میں سعودی ولی عہد محمد سلمان کی پاکستان آمد اور پاکستان کے لیے بہت ساری مرعات کا اعلان اور سعودی عرب میں قید پاکستانیوں کی رہائی کا مطالبہ ماننا شامل ہے اسی طرح اس سال میں وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب کے متعدد دورے کئے اور سعودی عرب کے شاہ سلمان سمیت محمد بن سلمان اور دیگر اعلی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ جن میں پاکستان کے لئے امداد اور مرعات کا حصول شامل تھا یہی نہیں اس سال وزیر اعظم پاکستان نے جنوری میں ترکی کا دورہ کیا جس میں ترکی کے صدر طیب اردگان کے ساتھ مل کر اسلامی دنیا کی مضبوطی اور آئندہ کے لائحہ عمل پر با ت چیت کی گئی۔ جنوری میں ہی قطر دوحا کا دورہ کیا، فروری میں متحدہ عرب امارات گئے، اپریل میں ایران اور اپریل میں ہی چائنہ کا تاریخی دورہ کیا۔ اس کے علاوہ روسی ریاستوں کے دورے کے علاوہ امریکہ کے دو دورے کئے۔ ایک جولائی میں صدر ٹرمپ سے ملاقات اور کشمیر اور دوسرے امور پر پاکستان کے مو¿قف کی واضح نمائندگی کی جب کہ دوسرا دورا اسی سال ستمبر میں نیویارک کا تھا جس میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی اور بڑی تاریخی تقریر کی، اس میں کشمیریوں کے مقدمے کو اور توہین رسالت کی بات بڑے زور شور سے کی گئی جسے پوری دنیا میں بڑی پذیرائی ملی۔ اس کے علاوہ اسی سال چائنہ کے دو دورے کئے جن کا مقصد سی پیک اور دوسرے منصوبوں میں آنے والی رکاوٹوں کا جائزہ لینا اور ان پر قابو پانا تھا۔ اسی سال کی اہم ترین خبر 26 فروری سے 28 فروری تک پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والی سرحدی کشیدگی ہے جس کا آغاز بھارت نے25,26 فروری کی رات 1971ءکے بعد پہلی بار پاکستان کی فضائی خلاف ورزی کرتے ہوئے آزاد کشمیر اورKPKکے علاقوں تک دراندازی کی اور جب پاکستانی شاہینوں نے 5 منٹ کے اندر اندر دشمنوں کے 12گھس آنے والے جہازوں کو گرانے کے لیے جیسے ہی اڑان بھری دشمن جہاز نہ صرف دم دبا کر بھاگ گئے بلکہ سرپٹ دوڑتے ہوئے فالتو سازوسامان (اسلحہ )یعنی پے لوڈ بالا کوٹ کے جنگلات میں گرا کر بھاگ گئے اور بعد میںواویلا مچایا کہ400 مجاہدوں کے کیمپ کو تباہ کر دیا ہے جبکہ اصل نقصان ہمارے چند درخت تباہ کرنے کے سوا کچھ نہ تھا مگر اس ناکام حملے کا پاکستان نے تاریخی اور دندان شکن جواب دیا اور دشمن کے دو جہاز گرائے اور دشمن کے ایک پائلٹ ابھی نندن کو قیدی بنا لیا۔ جسے بعد میں(Fantastic Tea)پلا کر 3دن قید رکھ کر خیرسگالی کے جذبے کے طور پر رہا کر دیا۔ اس سال میں پاکستان سے جڑے دوسرے اہم واقعات میں اس سال کے وسط میں برطانوی ولی عہد اور شہزادہ پرنس ولیم اور شہزادی کے کیٹ میڈلٹن کے ساتھ پاکستان کا تاریخی سات روزہ دورہ تھا جس میں انہوں نے لاہور اسلام آباد اور پاکستان کے قبائلی علاقوں سمیت مختلف جگہوں پر پاکستانی رنگوں میں رنگ کر بہترین اور تاریخی وقت گزارا اور دنیا کو پاکستان کی مہمان نوازی کی پہچان کروائی۔

پاکستان کے اندرونی سیاسی حالات اس سال بھی انتہائی پیچیدہ اور کشیدہ رہے اور اس میں بہت اتار چڑھاﺅ دیکھنے میں آئے جب کہ دوسری طرف بھارت نے ظلم وبربریت سے 80 لاکھ کشمیری قیدیوں کی شکل میں نمبرد آزما ہیںاور بھارت نے پورے ہندوستان میں مسلمانوں پر زندگی تنگ کر دی ہے چاہے وہ آرٹیکل 370 اور 35Aکی معطلی سے پورے مقبوضہ کشمیر کو دنیاکی سب سے بڑ جیل میں تبدیل کر دیا ہے وہیں شہریت کے متنازع بلCBAکے نام پر پورے ہندوستان کے مسلمانوں کو انتہائی قرب اور تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور پورے بھارت میں جگہ جگہ مظاہرے جاری ہیں اور درجنوں مسلمان ہلاک ہو چکے ہیں۔

معاشی طور پریہ سال پاکستان کے لیے مشکل ترین تھا جس میں مہنگائی پورے عروج پر تھی پٹرول، بجلی گیس سمیت ہر چیز کی قیمت میں ہوش ربا اضافہ دیکھنے کو ملا ساتھ ساتھ عوام میں کاروباری حالات کو لے کر اور روز مرہ زندگی میں مشکلات کی وجہ سے اس سال بھی بہت بے چینی اور اضطراب رہا ہے۔

سب سے پہلے بات کرتے ہیں برطانیہ کی جہاں 2016,17ءسے جاری بریگزیٹ کا معاملہ 2019ءمیں بھی بہت پیچیدہ بنا رہا اور اب تک 3 وزراءاعظم کے استعفوںکا باعث بن چکا ہے۔ ٹریسامے کو بریگزیٹ ڈیل کرنے میں ناکامی ہوئی اور اسے وزرات عظمیٰ چھوڑنی پڑی جب کہ اسی سال نئے آنے والے وزیر اعظم بورس جونسن نے اپنی بریگزیٹ ڈیل میں ناکامی پر دسمبر میں نئے انتخابات کرائے اور اب ان میں بھر پور کامیابی حاصل کی ہے جس کا مطلب اب 31 جنوری2020ءتک برطانیہ کا یورپی یونین سے انخلاءیقینی ہے اسی طرح لیبر پارٹی کے سربراہ جیرمی کاربن نے انتخابات میں لیبر پارٹی کی ناکامی کی ذمہ داری لیتے ہوئے شکست تسلیم کر کے پارٹی کی صدارت سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے بریگزیٹ کے معاملے کے اتار چڑھاﺅ نے برطانوی معیشت کو بہت نقصان پہنچایا ہے اور اب جنوری میں اس کے مکمل ہونے پر نہ صرف برطانوی معیشت میں بہتری آنے کا امکان ہے بلکہ عوام میں پائی جانے والی بے چینی اور اضطراب کا بھی خاتمہ ہوگا۔ برطانیہ کے بعد یورپ میں فرانس میں پیلی جیکٹ احتجاج بھی خبروں کی زینت بن رہا ہے جس میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سمیت مختلف حکومتی پالیسییوں کے خلاف بہت بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا، سپین میں میڈرڈکی سپریم کورٹ نے کاتالونیاکے علیحدگی پسند رہنماﺅں کو جیل میں قیدوبندکی سزائیں سنائیں جن کے خلاف بارسلونا سمیت پورے کاتا لونیا میں مظاہرے ہوئے۔ اسی طرح جرمنی ،اٹلی اور فرانس سمیت پورے یورپ میں اس سال بھی افریقہ سمیت مختلف ممالک سے غیر قانونی مہاجرین اور پناہ گزین کی آمدکا سلسلہ مسلسل جاری رہا۔گو کہ گزشتہ برسوں کی نسبت اس سال پر کم ترین تھا لیکن پھر بھی مہاجرین اور پناہ گزین کا مسئلہ آج بھی یورپ کی دائیں بازو کی سیاست کا اہم ترین ہتھیار ہے اور یورپ میںانسانی بنیادوں پر مہاجرین کو پناہ دینے کا مسئلہ دائیں بازو کی جماعتوں کی طرف سے اس کے خلاف مزاحمت کے بعد گم ہوتا جا رہا ہے۔ اب بات کرتے ہیں اس سال میں مشرق وسطی میں پیدا ہونے والے حالات کی جس میں خلیج فارس میں ایران امریکہ برطانیہ نے ایک دوسرے پر الزامات لگاتے ہوئے ایک دوسرے کے بحری جہازوں کو قبضے میں لے لیا اور اسی دوران سعودی عرب میں آرام کو کے تیل کے کنوﺅں پر میزائل حملہ ہوا اور ایک موقع پر سعودی عرب اور ایران بالکل جنگ کے دہانے پر آگئے چونکہ سعودی عرب کو امریکہ کی پشت پناہی اور حمایت حاصل ہے اس لیے یہ جنگ بظاہر ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی جنگ لگنے لگی۔ پاکستان سمیت پوری دنیا میں اس ممکنہ جنگ کی سنگینی کو سمجھا گیا، اور سعودی عرب امریکہ اور ایران کی درخواست پر پاکستان نے اس میں مداخلت کی اور دونوں ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کر تے ہوئے مصالحت کرا نے کی کو شش کی۔ یہی نہیں بلکہ امریکی صدر ٹرمپ نے خو د وزیراعظم عمران خان سے ایرانی معاملہ، بحری جہا زوںکا معاملہ اور دوسرے معاملات کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان مصالحت کروانے کی درخواست کی اور پھر سربراہ افواج پاکستان جنرل قمر جا وید باجوہ وزیرخا رجہ شاہ محمود قریشی، وزیراعظم عمر ان خان اور وزارت خارجہ کی کو ششوں سے خطے کو ایک بہت بڑی جنگ سے بچا لیا گیا جس میں بظاہر جنگ تو ایران اور امریکہ کی ہونی تھی لیکن اس کے بدترین اثرات پاکستان سمیت جنوبی ایشیاءاور عالمی امن پر ہونے تھے۔ یہ سال امریکہ کی سیاست میں بھی ہل چل اور گہما گہمی کا سال رہا جس میں صدر ٹرمپ پر روس کی مدد لینے سمیت بہت سارے الزاما ت کا سلسلہ چلتا رہا لیکن اسی سال جب اپنے متوقع مخالف لیڈر جوجو بائیڈن کو ہرانے کے لیے امریکی صدر نے یوکرائن کے صدر سے بات چیت کی اور ایک ٹیلی فون کال میں جو بارڈن کے خلا ف یوکرائن میں انکوائری کرنے کے لیے دباﺅ ڈالا تو امریکہ میں کانگرس کی سربراہ نینسی پلوسی نے صدر ٹرمپ کے مواخذے کا اعلا ن کر دیا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ امریکی تاریخ کے صدر نکسن، صدر بل کلنٹن کے بعد تیسرے صدر بن گئے ہیں جو کہ مواخذے کا سامنا کر رہے ہیں۔

بظاہر صدر ٹرمپ اس مواخذے سے بچ جائیں گے لیکن بلاشبہ آئندہ ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات میںصدر ٹرمپ کو کامیا بی حاصل کرنے کے لیے بہت مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آخر میں اس سال میں ہو نے والے دوسرے اہم واقعات میں بھا رت میں ہونے والے اہم انتخابات میں انتہا پسند ہندو جما عتBJP اور مودی کی کامیابی ہے، جاپان کے بادشاہ ایکی ہیٹو کی اپنے تخت سے دست برداری، برازیل، نائیجیریا اور کیوبا میں ہونے والے انتخابات اور ان کے حیران کن نتائج بھی2019ءکے اہم واقعات میں شامل ہیں۔

ماضی کی طرح اس سال بھی عالمی ماحول کو گلو بل وارمنگ اور بڑھتی ہوئی آلودگی سمیت بہت سارے چیلنجزکا سامنا رہا اور دنیا کی تمام ماحولیاتی تنظیموں نے ایٹمی جنگ کے بعد گلوبل وارمنگ اور اس کی وجہ سے کرہ¿ ارض پر آنے والی موسمیاتی تبدیلیوں کوکرہ ارض کی بقاءکے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ ماحولیاتی آلودگی کے ذمہ دار بڑے ممالک جس میں امریکہ ، چائنہ، روس۔ یورپ اور ہندوستان شامل ہیں؛ کوئی مضبوط اور قابل عمل لائحہ عمل اختیار کریں گے تاکہ آنے والے وقت میں کرہ¿ ارض کو تباہی سے بچایا جا سکے۔

٭٭٭


ای پیپر