مودی ایشیا اور عالمی اَمن کیلئے خطرہ!
31 دسمبر 2019 (21:57) 2019-12-31

سلامتی کونسل نے بھارتی حکمرانوں کولگام نہ دی تو خطے کا امن تباہ ہو جائیگا

امتیاز کاظم

یورپی اور مشرقی ممالک جب وارسا پیکٹ سے الگ ہوئے تو نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ”سوویت یونین کے ٹکڑے ہو گئے، مشرقی اور یورپی ممالک نیٹو سے الگ ہو گئے لیکن نیٹو کا کام ابھی ختم نہیں ہوا کیونکہ مغرب کو ابھی ”ریڈیکل اسلام“ سے خطرہ ہے اور سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد ہمیں اس سے بھی نمٹنا ہے“ اور اب دُنیا دیکھ رہی ہے کہ مشرق ہو یا مغرب، صرف مسلمانوں کو ہی نشانہ بنایا جارہا ہے۔ دہشت گردی، انتہاپسندی جیسے الزامات اور من گھڑت باتیں مسلمانوں سے منسوب کر کے اُن پر تشدد کیا جارہا ہے، اُن کو دبایا جارہا ہے۔ کیمیائی ہتھیار اور ایٹمی مواد اور ہتھیاروں سے متعلق جعلی، نقلی اور جھوٹی رپورٹیں مرتب کی گئیں۔ مذہبی منافرت پھیلائی گئی، جہادیوں کو دہشت گرد بنا کر پیش کیا گیا، کسی ملک پر پابندی لگائی تو کسی کو دھونس دھمکی لگا کر راہداری حاصل کی گئی، کہیں سے خیالی ہتھیار برآمد کیے گئے تو کسی ملک پر جنگ مسلط کردی گئی اور یہ سب کے سب مسلمان ممالک تھے یا مسلمانوںکی آبادی کو متاثر کیا گیا۔

مصر، شام، عراق، ایران، کویت، قطر، افغانستان، بھارت کس کس کا نام لیا جائے کہ جہاں مسلمانوں کومذہبی بنیادپرست کے طور پر پیش کیاگیا۔ کیا 1099ءمیں عیسائیوں کا یروشلم پر قبضہ اُن کی مذہبی بنیادپرستی نہیں۔ یہودیوں نے فلسطین میں جو کچھ کیا یا کررہے ہیں وہ بنیادپرستی نہیں۔

موشے دایان کی بیٹی نے اپنی کتاب میں جو کچھ لکھا وہ بنیادپرستی نہیں یا ہندو جو کچھ اب بھارت میں کررہے ہیں وہ اُن کی مذہبی بنیادپرستی اور منافرت نہیں۔ ہندوﺅں کی انتہاپسند تنظیمیں بھارت کا جو کٹربنیاد پرستانہ چہرہ اب دُنیا کو دکھا رہی ہیں وہ قابل مذمت نہیں۔ دُنیا کے بڑے ممالک اور UNO اب ان ظلم وستم اور کشمیریوں سے ناانصافیوں پر خاموش کیوں ہے، کیا یہ بھی ریڈیکل اسلام سے نمٹنے کا ایک طریقہ ہے کہ جہاں بھی مسلمانوں کے خلاف جوکچھ بھی ہو اُس پر خاموشی اختیار کی جائے یا محض ایک آدھ بیان داغ دیا جائے۔

بھارت کے سادھو سنت، جوگی بھگت، یوگی، لالے، ٹھاکر، گُرو اور مہاراج بھارت کا جو منفی اور کالا چہرہ دُنیا کو دکھا رہے ہیں اُس پر خاموشی سمجھ سے بالتر ہے۔ کیا یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے پروفیسر سیمول ہنگٹنگٹن کے ”کلیش آف سولائزیشنز“ یعنی ”تہذیبوں کے تصادم“ کے نظریہ کو آگے بڑھایا جارہا ہے جس میں بنیادپرستی اور انتہاپسندی کو اخذ کر کے اسے مسلمانوں پر فٹ کردیا گیا اور عالمی دہشت گردی کا ٹیگ مسلمانوںپر لگا دیا گیا جس میں نائن الیون کا واقعہ بھی شامل ہے۔ پاکستان کے حوالے سے بھارت اور کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے وہ پچھلے سترسال میں نہیں ہوا۔ بھارتی مسلمان اب پھر دو قومی نظریہ کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ پاکستان کی موجودہ حکومت کے آنے سے بھارت میں تین بڑے اہم واقعات اس قدر تیزی اور تسلسل سے ہوئے ہیں کہ دُنیا حیران ہے یعنی بابری مسجد کا فیصلہ جو ہندوﺅں کے حق میں ہوا، کشمیر میں کرفیو کا نفاذ اور اس سے متعلقہ تمام وجوہات اور متنازعہ شہریت بل 2019ءکا نفاذ جو بھارت میں ہوا اور اب تک جاری ہے، یہ تین اہم واقعات ایک ڈیڑھ سال کی پیداوار ہیں اور پاکستان مودی تیلی گجراتی قاتل کے متعلق بس یہ کہہ دیتا ہے کہ مودی آگ سے کھیل رہا ہے اور مودی ”ہندوستان ہندوﺅں کے لیے“ اور ہندوتوا کے پرچار کے لیے اپنے مشن پر کامیابی سے گامزن ہے۔ ساڑھے سات سوسال سے گیارہ سو سال تک ہندوستان پر راج کرنے والے مسلمان تعداد میں کم کیوں رہے؟ کبھی کسی نے یہ سوچا ہے؟ اور آج مودی (مودھ گھانچی/ تیلی) پانچ چھ سال کے عرصے میں جو کچھ کر گزرا ہے یہ بھی کسی نے سوچا کہ ایسا ایک دم سے کیوں ہو گیا کہ اُوپر نیچے تین بڑے فیصلے ہو گئے اور اب میرا ذاتی خیال ہے کہ چوتھا مسئلہ پانی کے متعلق ہو گا جو پاکستان کی تقدیر کا فیصلہ کُن موڑ ہو گا۔

بھارتی انتہاپسند ہندو اب ”گائے گنگارام ترنگا“ کی عملی شکل پیش کررہے ہیں۔ بھارتیہ جنتاپارٹی (BJP) میں لفظ ”جنتا“ صرف ہندوﺅں کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ اندراگاندھی کے اقتدار میں واپس آنے پر 1980ء”جنتاپارٹی“ کو توڑ کر BJP کی بنیاد رکھی گئی تھی تب بھی لفظ جنتا صرف ہندوﺅں کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ ایل کے ایڈوانی اُس وقت اپنی شہریت کے عروج پرتھا، پھر اُس نے 1990ءمیں جب مشہور ”ایودھیا رتھ یاترا“ کی تو مودی بھی اُس کے ساتھ بھرپور شریک تھا۔ پھر 1991-92ءمیں مُرلی منوہر جوشی اور مودی ایک دفعہ پھر ”ایکتا یاترا“ میں شریک سفر تھے، یہ ایک قسم کا ہندوﺅں کے ساتھ خاموش معاہدہ تھا کہ مودی اگر اقتدارمیں آیا تو اپنے سارے پُرانے وعدے معاہدے ہندوﺅں کے حق میں پورے کرے گا۔

1967ءمیں یہ گھربار چھوڑ کر ہندو آشرموں کی یاترا کرتا رہا اور اُس وقت کے شاید کیے گئے وعدے وہ اب پورے کررہا ہے۔ اب یہ دمودرداس مول چند تیلی کا تیسرا بیٹا اپنے ”ڈیجیٹل انڈیا“ شائننگ انڈیا اور ”میک اِن انڈیا“ کے نعرے بھول چکا ہے۔

انڈیا کے لوگ بھوک سے مررہے ہیں، رہنے کو جگہ نہیں، پینے کو پانی نہیں، نہانے کے لیے چوک میں لگی اکلوتی ٹونٹی پر لگی قطار اور ریلوے لائنوں کے ساتھ ساتھ ”جھاڑے بیٹھے“ لوگ مودی کا منہ چڑھا رہے ہیں اور اُس کے ”Hail Mother India“ کو ”Hell Mother India“ کہہ رہے ہیں۔ یہ ”چلاکیرہ“ کا ایٹمی شہر بسا کر افزودہ یورینیم u238 کے انبار کس لیے لگا رہا ہے کہ اپنے لوگوں کی جنتا کی حفاظت کرے۔ یہ جنتا اگر بھوک سے ہی مر جائے گی تو حفاظت کس کی کرے گا۔ (انٹرنیشنل فوڈپالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ پڑھ لیں) مودی ایسے ہی اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر کے لوگوں کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانا چاہتا ہے۔

سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادیو کا کہنا ہے کہ مودی سرکار نے مرتی ہوئی معیشت سے توجہ ہٹانے کے لیے شہریت کے متنازعہ بِل کا شوشہ چھوڑا ہے۔ واشنگٹن میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے شہریت بِل کے خلاف بھارتی سفارت خانے کے باہر احتجاج کیا۔

جمعیت علماءہند نے کہا ہے کہ اگر شہریت بِل واپس نہ لیا گیا تو بِل پیش کرنے والے امیت شا کو کولکتہ ایئرپورٹ سے باہر نہیں نکلنے دیں گے۔ صدیق اللہ چودھری (جمعیت) نے کہا ہے کہ امیت شا کو روکنے کے لیے لاکھوں کا مجمع کریں گے۔ راہول گاندھی نے کہا ہے کہ طلباءمودی اور امیت شا ملک تقسیم کرنے سے روکیں۔ واضح رہے کہ متنازعہ شہریت بِل کےخلاف بھارت کے شہر میدان جنگ بنے ہوئے ہیں۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق 26 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اتوار کے روز دہلی کے علاقے جنترمنتر اور مہدی منڈی میں ہزاروں افراد نے احتجاج کیا۔ جامعہ ملیہ کے باہر بھی طلباءنے احتجاج جاری رکھا ہوا ہے۔ میرٹھ، یوپی، تامل ناڈو، علی گڑھ کولکتہ، گوہاٹی میں مظاہرے جاری ہیں۔

راجستھان کے وزیراعلیٰ ”اشوک گیلوٹ“ کی قیادت میں 3لاکھ سے زائد افراد نے متنازعہ قانون کے خلاف ریلی نکالی۔ دوسری طرف مودی نے اپوزیشن کے مظاہروں کے جواب میں دہلی میں ریلی نکالی اور قانون کے دفاع میں اپنے لوگوں سے جھوٹ بولتا رہا۔

اُترپردیش (UP) میں رہنا ہے تو ”یوگی یوگی کہنا ہے“ کے نعرے لگوانے والا بدخصلت یوگی آدتیہ ناتھ نے یوپی میں مظاہرین کی جائیدادیں ضبط کرنے کا کام شروع کردیا ہے۔ یوگی نے دو روز پہلے دھمکی دی تھی کہ توڑپھوڑ کرنے والوں سے جرمانے لیے جائیں گے۔ ان دھمکیوں کے بعد اُترپردیش کے مختلف اضلاع میں مظاہرین کے گھروں کی نشاندہی کر کے ان کی پراپرٹیز سیل کردی گئی ہیں۔ مظفرنگر میں انتظامیہ نے مظاہروں کے دوران پراپرٹی کو نقصان پہنچانے کا الزام لگا کر 50دکانیں سیل کردی ہیں۔

دوسری طرف بھارت نے کنٹرول لائن پر اشتعال انگیز کارروائیاں تیز کردی ہیں اور خطرہ ہے کہ اپنی عوام کی توجہ متنازعہ بِل سے ہٹانے کے لیے مودی کرسمس کی چھٹیوں میں کوئی ڈرامہ نہ رچا دے۔ کوئی جھوٹی سرجیکل سٹرائیک نہ کردے۔ بھارت میں اس قانون کے خلاف تمام اقلیتیں، اپوزیشن جماعتیں، عوام اور بالخصوص مسلمان سراپا احتجاج ہیں۔ ہندو، سکھ اور دیگر مذاہب کے لوگ بھی احتجاج میں شریک ہیں۔ حکومت پاکستان نے 12دسمبر کو سلامتی کونسل کو خط لکھ کر خطرات سے آگاہ کردیا ہے۔ دُنیا کو اس مسئلے کی طرف بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ دو ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں اور بھارتی اشتعال انگیزیاں دوسری ایٹمی طاقت کو بھی اشتعال دلاسکتی ہیں، ایسے میں نقصان صرف بھارت یا پاکستان کا نہیں ہو گا بلکہ ایشیا کا پورا خطہ اور دُنیا متاثر ہو گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارتی عقل کے اندھے مودی کو دُنیا اور سلامتی کونسل لگام دے تاکہ خطے کا امن متاثر نہ ہو۔

٭٭٭


ای پیپر