سال 2019ءاور پاکستانی معیشت
31 دسمبر 2019 (21:54) 2019-12-31

جہاں کرنٹ اکاو¿نٹ خسارے میں کمی ہوئی وہیں مہنگائی

کے عفریت نے غریب عوام کو شکنجے میں جکڑ لیا

رانا عبدالقدوس

2019شروع ہوتے ہی عالمی مالیاتی اداروں نے پاکستان کی معاشی حالت سے متعلق تشویش کا اظہار کیا تھا۔ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معاشی ترقی میں اضافے کی شرح کم رہے گی۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ورلڈ اکنامک آوٹ لک 2019 نامی رپورٹ میں رواں سال کے دوران پاکستانی معیشت کی مزید زبوں حالی کے علاوہ بے روزگاری میں اضافے کی پیش گوئی کی ہے۔اسی طرح ایشیائی ترقیاتی بینک نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان میں جی ڈی پی کی نمو مزید کم ہو کر 3.9فیصد رہ جائے گی۔

اسی طرح اپوزیشن نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید جاری رکھی، تا ہم اب سال کے اختتام پر حکومت کی معاشی ٹیم کا جو کہنا ہے اس کے مطابق ملک کی اقتصادی صورتحال قدرے بہتری کی طرف جا رہی ہے، مشکل وقت گزر گیا، اب اچھا وقت آنے والا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اقتصادی ٹیم نے ایک سال میں ملکی معیشت کی صورتحال تبدیل کر کے رکھ دی ہے بالخصوص ٹیم کا اشارہ کرنٹ اکاو¿نٹ خسارے میں واضح کمی اور سرمایہ کاری میں اضافے کی جانب تھا۔ اس حوالے سے وزیراعظم نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور ترسیلات زر کے ساتھ ساتھ کرنٹ اکاو¿نٹ خسارے میں واضح کمی کے کچھ گرافک اعداد و شمار ٹوئٹ کیے۔ان کا کہنا تھا کہ رواں سال میں براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری میں 111.5 فیصد جبکہ بیرونی نجی سرمایہ کاری میں 194 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔وزیراعظم کے مطابق سرمایہ کاری میں اس قدر اضافہ حکومت کی معاشی پالیسیوں پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ستمبر 2019 میں کرنٹ اکاونٹ خسارہ 41 ماہ کی کم ترین سطح پر تھا جو اس بات کا اشارہ ہے کہ معیشت درست سمت پر گامزن ہے۔خیال رہے کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی جولائی تا ستمبر میں کرنٹ اکاونٹ خسارہ گزشتہ برس کے 4 ارب 30 کروڑ ڈالر سے 64 فیصد کم ہو کر ایک ارب 50 کروڑ ڈالر کی سطح پر آگیا تھا جس کا ایک بڑا سبب درآمدات میں 21 فیصد کمی ہے۔واضع رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اقتدار سنبھالنے سے قبل پاکستان نے 18 ارب 25 کروڑ ڈالر کے سنگین کرنٹ اکاو¿نٹ خسارے کا سامنا کیا تھا۔

وزیراعظم نے اپنی سلسلہ وار ٹوئٹ میں یہ بھی بتایا کہ سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں گزشتہ ماہ 17.6 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔دوسری جانب رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران ریونیو میں اضافے اور اخراجات میں کمی کی بدولت مالیاتی خسارے یعنی حکومت کی آمدن اور اخراجات میں فرق بھی 36 فیصد کم ہوا۔

کرنٹ اکاو¿نٹ خسارے میں 2 ارب 74 کروڑ ڈالر کی کمی

اسٹیٹ بینک کے دستاویزات کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں کرنٹ اکاو¿نٹ خسارے میں 2 ارب 74 کروڑ ڈالر کمی ریکارڈ کی گئی۔رواں سال اگست کے مقابلہ میں ستمبر میں کرنٹ اکاو¿نٹ خسارہ 35 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کم ہوا۔مالی سال 20-2019 کے پہلے 3 ماہ، جولائی تا ستمبر کے دوران کرنٹ اکاو¿نٹ خسارہ ایک ارب 54 کروڑ اسی لاکھ ڈالر رہا جبکہ گزشتہ سال اس ہی عرصے میں کرنٹ اکاو¿نٹ خسارہ 4 ارب 28 کروڑ ستر لاکھ ڈالر تھا۔اسٹیٹ بینک کے دستاویزات کے مطابق مہینے کے حساب سے دیکھا جائے تو ستمبر 2019 میں کرنٹ اکاو¿نٹ خسارہ 25 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہا جبکہ گزشتہ سال اس ہی ماہ میں خسارہ 1 ارب 27 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تھا۔ستمبر 2018 کے مقابلے میں ستمبر 2019 میں کرنٹ اکاو¿نٹ خسارہ 1 ارب 19 لاکھ ڈالر کم ہوا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کو درست سمت گامزن قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ برآمدات کو بڑھا کر کرنٹ اکاو¿نٹ خسارے میں 73 فیصد کمی لائی گئی ہے۔

3 ماہ کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری میں 137 فیصد اضافہ

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 20-2019 کے پہلے 3 ماہ کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری میں 137 فیصد اضافہ ہوا ہے۔جولائی سے ستمبر 2019 تک کل غیر ملکی سرمایہ کاری 88 کروڑ 66 لاکھ ڈالر رہی جو گزشتہ سال ان ہی ماہ کے دوران 37 کروڑ 41 لاکھ ڈالر تھی جو 51 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ماہانہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو رواں سال ستمبر میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں 392 فیصد اضافہ ہوا جو گزشتہ سال 12 کروڑ 64 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 62 کروڑ 26 لاکھ ڈالر رہی۔ستمبر 2019 میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 38 کروڑ 53 لاکھ ڈالر رہی جبکہ گزشتہ سال اس ہی مہینے میں 18 کروڑ 21 لاکھ ڈالر تھی جو 20 کروڑ 32 لاکھ ڈالر کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔تاہم جولائی تا ستمبر 2019 میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 54 کروڑ 21 لاکھ ڈالر رہی جبکہ گزشتہ سال اس ہی عرصے میں 55 کروڑ 94 لاکھ ڈالر تھی جو 3 فیصد، ایک کروڑ 73 لاکھ ڈالر کی کمی ظاہر کرتی ہے۔ماہانہ بنیادوں پر کل غیر ملکی سرمایہ کاری ستمبر 2019 کے دوران 62 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہی جو ستمبر 2018 میں 12 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تھی۔رواں مالی سال کے پہلے 3 ماہ کے دوران غیر ملکی نجی سرمایہ کاری میں 51 فیصد اجافہ ہوا جو 56 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہی جبکہ گزشتہ سال ان ہی ماہ کے دوران 34 کروڑ 40 لاکھ تھی۔

پاکستان میں بڑھتی مہنگائی

دوسری پاکستان میں مہنگائی کی شرح 5سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اوگرا نے اکتوبر کیلئے پٹرول، ہائی اسپیڈ ڈیزل، لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں کمی جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافے کی سفارش کی تھی جس پر وزارت خزانہ کی جانب سے اعلامیہ میں بتایا گیا تھاکہ حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے رحجان کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ماہ اکتوبر کیلئے پٹرولیم قیمتوں کو ماہ ستمبر کی سطح پر ہی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم ماہ اکتوبر کیلئے ایل پی جی کی قیمت 12روپے فی کلو بڑھانے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ،جس کے بعد گھریلو سلنڈر کی 140روپے اور کمرشل سلنڈر 540روپے تک مہنگا ہو گیا ۔ مہنگائی کی اِسی لہر کو بہانہ بنا کر سرکاری نرخ ناموں پر عملدرآمد کے برعکس سبزیاں کئی گنا مہنگی فروخت ہونے لگی ہیں۔ مارکیٹ کمیٹی سبزی منڈی کی جانب سے روزانہ سبزیوں کے پرچون نرخ نامے جاری کئے جاتے ہیں لیکن ان ریٹس پر سبزیاں کہیں بھی دستیاب نہیں ہیں۔پٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ہمیں مہنگائی پر اِس قدر حیرانی نہیں ہونی چاہئے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں اشیائے ضروریہ اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں کا تعین پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مدِ نظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔ پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے جبکہ اس کی قیمتوں میں کمی کے بعد باقی اشیا کی قیمتوں میں اس تناسب سے کمی نہیں کی جاتی۔حکومت کو چاہئے کہ جیسے عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے پر ملک میں فوراً اِنکی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں ویسے ہی عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہونے پر پاکستان میں بھی قیمتوں میں کمی کی جائے تاکہ مہنگائی کی چکی میں پستے عوام کو کسی قدر ریلیف مل سکے۔

اس سال زرعی شعبہ بھی ایک فیصد کمی کے ساتھ زوال کا شکار رہا۔ کرنسی کی زبردست بے قدری کی وجہ سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 160 روپے تک گر گئی۔ نون لیگ میں ایک ڈالر 116 روپے تک کا تھا۔ کئی دہائیوں کے دوران یہ زبردست بے قدری ہے جس میں معیشت نمایاں حد تک زوال کا شکار ہے۔ نتیجتاً مہنگائی بڑھ گئی، عام پاکستانی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ایک سال میں 45 لاکھ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں جبکہ 15 لاکھ لوگ بیروزگار ہو چکے ہیں۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق، جی ڈی پی میں افزائش کی شرح 2.4 فیصد رہے گی جبکہ مہنگائی کی شرح 13 سے 15 فیصد کے درمیان رہے گی۔ ڈسکاﺅنٹ ریٹ میں مزید اضافے کا امکان ہے اور یہ 15 اور 16 فیصد تک رہے گا۔

نتیجتاً مزید 50 لاکھ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے جائیں گے،دوسری جانب وزیراعظم نے عوام کو ریلیف پہنچانے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو گندم، چینی، خوردنی تیل، پھل اور سبزیوں کی قیمتوں میں کمی کرنے کی ہدایت کی، مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سرکاری اداروں کو اس حوالے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ وزیر اعظم نے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریکٹ ڈاو¿ن کا بھی حکم دیا اور صوبائی حکومتوں کو اس بات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی کہ کاشتکار اور کسانوں کا استحصال نہ ہو اور آڑھتی ناجائز منافع خوری نہ کرے۔ مگر حکومتی اقدامات کسی کام نہ آسکے اور مہنگائی روز بروز بڑھ رہی ہے۔

٭٭٭


ای پیپر