ظلمتوں کے موسم سے ضمانتوں کے موسم تک
31 دسمبر 2019 2019-12-31

وطن عزیز عجیب حیرت کدہ کی صورت گری کا شاہکار ہوئے جا رہا ہے۔ رانا ثناء اللہ کی ضمانت پر رہائی کے متعلق بیگم فردوس عاشق اعوان فرماتی ہیںکہ ’’لاہور ہائی کورٹ کا انوکھا فیصلہ ہے منشیات کیس میں ضمانت دے کر نئی مثال بنائی گئی‘‘ ۔ دوسری جانب شہریار آفریدی نے فرمایا کہ یہ ضمانتوں کا موسم ہے، تفصیلی فیصلے میں عدالت نے لکھا ہے کہ سیاسی انتقام ہمارے ملک میں کھلا راز ہے۔

رہائی کے بعد رانا ثناء اللہ نے پوری پریس کانفرنس قرآن ہاتھ میں پکڑ کر کی جس سے حکومت کے باقی رہنے کا کوئی قانونی و اخلاقی جواز باقی نہیں رہتا۔ پرویز مشرف نے غداری پر سزائے موقت کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔ سزا یافتہ اور اشتہاری کو اگر سرنڈر کیے بغیر ریلیف ملتا ہے تو پھر کونسا فیصلہ انوکھا اور کس کا موسم ہو گا۔ ویسے تو عمران خان اشتہاری ہوتے ہوئے بھی منتخب وزیراعظم کے خلاف رٹ پٹیشن میں ریلیف لے کر وزیراعظم نا اہل کروا چکے ہیں۔

لال حویلی کے شیخ رشید مورت بدھو بائی والے بلاول بھٹو کہتے ہیں کہ بچے ہو تو بچے رہو اور عمران خان کو احتساب خان کا نام دے دیا جبکہ تاریخ اس احتساب کو بد ترین انتقام کا نام دے رہی ہے۔ گویا عمران خان کو بین السطور انتقام خان کا نام دیا جا رہا ہے۔ایک دیگر انتہائی اہم معاملے یعنی جناب آرمی چیف کی مدت کمانڈ میں توسیع کے لیے حکومت نے جس نا اہلی کا مظاہرہ کیا اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ’’وزیراعظم‘‘ گھر میں بیٹھ کر بد دلی سے لکھے گئے خط کے ذریعے مدت کمانڈ میں توسیع کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ تیسرے مہینے میں ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ تین سال کی توسیع دے دوں گا چلیں پہلی بار تو ناتجربہ کاری نا اہلی کی وجہ سے توسیع کے لیے لکھے گئے خط میں کمی رہ گئی مگر سپریم کورٹ میں مقدمہ کی سماعت کے دوران بابر اعوان اور فروغ نسیم کی موجودگی میں پوری کابینہ نے پورے دماغ استعمال کر کے پورے آئین اور قانون کا مشاہدہ کر کے جو بار بار خط لکھے وہ بھی ادھورے ، بے بنیاد اور بے جان تھے مگر آرمی چیف کی مدت کمانڈ میں توسیع کے حوالے سے قانون سازی کے لیے فیصل واوڈا فرماتے ہیں کہ اپوزیشن والے لیٹ کر توسیع کا قانون پاس کریں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیوں لیٹیں گے گویا حکومت کے پاس کوئی قوت ہے جو بلیک میل کرتی ہے جس میں سینیٹ کے عدم اعتماد کا بند لفافوں میں دل کے پیغام بدلنے کا بہت حوالہ دیتے ہیں۔ واوڈا کہتا ہے کہ اپوزیشن سے ہاتھ ملانا ،بات کرنا تو درکنار ہم اپوزیشن کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتے۔ دراصل ان کے رویے پارلیمانی ہیں نہ جمہوری فیاض الحسن چوہان، فردوس عاشق اعوان، شیخ رشید مورت بدھو بائی کی کوٹھی خانے والے، اسلم اقبال، واوڈا، علی زیدی، شہریار آفریدی تو اپنی زہریلی، مزاحیہ اور غیر سنجیدہ زبان و بیان کی وجہ سے عہدوں پر ہیں جبکہ فروغ نسیم قانون دان نے مسٹر جسٹس وقار سیٹھ کے متعلق جو بیان دیا وہ صریحاً توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ آرمی چیف کی کمانڈ میں توسیع کے حوالے سے آئین میں تبدیلی کے معاملے میں بے بسی اور نااہلی دیکھ کر ریویو پٹیشن دائر کر دی اور ان کیمرہ کی

درخواست بھی دے دی گئی۔ پہلے بال کی کھال پوری دنیا کے سامنے اتاری گئی اور اب ریویو پٹیشن ان کیمرہ اگر فیصلہ پہلے فیصلے سے مختلف آتا ہے تو اس کے متعلق جو تاثرات ابھریں گے وہ کیا ہوں گے اندازہ لگانا کچھ زیادہ مشکل نہیں اور اگر پہلے فیصلے کی توثیق کی جاتی ہے تو پھر مزید خاک اڑے گی اب اگر قانون سازی نہیں ہوتی تو یہ انتہائی اہم ایشو بغیر حل ہوئے آئینی تاریخ کے ماتھے پر بدنما داغ کی طرح نمایاں رہے گا۔ سپریم کورٹ نے حکومت کی بہت مدد کی ملک کے معتبر ترین ادارے کا

احترام ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اور صوابدیدی اختیارات بھرتتے ہوئے 6 ماہ کی مہلت دے دی مگر کس حکومت کو جس کی کوئی کل سیدھی نہیں ہے ۔ اتنے اہم اور حساس معاملے پر قانون سازی تو درکنار اس حکومت کو نیب کے حوالے سے بھی آرڈیننس لانا پڑا وہ بھی انتہائی بھونڈے انداز کے ساتھ چاہیے تو یہ یہ تھا کہ ساکھ تباہ ہو جانے کی وجہ سے نیب کا ا دارہ ہی توڑ دیا جاتا اور متفقہ طور پر قانون سازی کر کے آئین سے ہم آہنگ احتساب کا نیا قانون بنایا جاتا۔ مجھے تو اس دن ہی اندازہ ہو گیا تھا یہ نا اہل ہیں جس دن ایف آئی اے کو اختیارات زیادہ دینے کی بات کی تھی جبکہ نواز شریف اپنے دوسرے دور میں ایف آئی اے توڑ دینے کے در پے تھے سب سمجھتے ہیں کہ ایف آئی ختم ہو جائے تو کچھ فرق نہیں پڑے گا سوائے کرپشن کم ہونے کے یہی حالت نیب کی ہے البتہ سیاسی انتقام کے لیے پولیس کی ضرورت پڑے گی جو وفاقی حکومت کو ہر صوبہ میں میسر نہیں ہوتی۔

ایک طرف نوکریوں سے چھانٹیاں جاری ہیں،دوسری جانب حکومت سوئی گیس، بجلی کے بلوں میں اضافہ کر رہی ہے اور ایسے میں 2020ء کو ترقی اور تبدیلی کا سال قرار دینے کے دعوے ہیں اور پھر فرماتے ہیں کہ کنٹینر پر چڑھ کر جتنا بڑا چور ہے اتنا زیادہ شور مچا رہا تھا۔ شاید یہ ان دنوں کی طرف اشارہ تھا جب فرماتے تھے کہ اگر پٹرول اور ڈالر مہنگا ہو تو سمجھو آپ کا وزیراعظم چور ہے۔ بقول فیض احمد فیض:

چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے

اس رسم کو موجودہ دور میں گرفتاریوں کی رسم بھی کہہ سکتے ہیں اور جب جھوٹے مقدمات کی بھرمار ہو تو پھر ضمانتوں کے موسم بھی آتے ہیں مگر احسن اقبال اور دیگر لوگوں کے ہاں گرفتاریوں کا جبکہ ماڈل ٹاؤن لاہور میں چھاپوں کا موسم چل رہا ہے ۔ صد افسوس کہ دنیا کے معاشرے اور ملک آئین اور قانون کے تحت چلتے ہیں نہ کہ موسموں کے تحت۔ ہمارے ہاںکبھی گرفتاریوں کا موسم ہوتا ہے اور کبھی ضمانتوں ، کبھی مارشل لاؤں کا اور کبھی انتخابات کا موسم ۔ عوام تو اللہ کے شکر گزار ہیں کہ ملک میں عمران خان کی حکومت ہے ورنہ حکومتی کارکردگی پر مارشل لاء لگ جاتا اگر عمران وزیراعظم نہ بنتے تو عوام یہ بات دل میں لے کر دنیا سے چلے جاتے کہ وطن عزیز میں پٹرول دراصل 37 روپے لٹر ہونا چاہیے… اگر ڈالر مہنگا ہو تو سمجھو حکمران چور ہے… شیخ رشید چپڑاسی ہونے کے بھی لائق نہیں ہے… چوہدری پرویز الٰہی پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو ہے… زرداری سب سے بڑی بیماری ہے… اسٹیبلشمنٹ اپنی مرضی کا وزیراعظم لے کر آتی ہے وغیرہ وغیرہ… بہرحال حکومت ہے کہ ایک مزاحیہ تھیٹر ہے اور ہر کوئی اپنی اپنی جگت سنا کے آگے بڑھتا چلا جاتا ہے اور پھر لوٹ آتا ہے… جمع خاطر رکھیے گرفتاریوں کی رسمیں ہوں تو پھر ضمانتوں کے موسم کے بعد مخالفین کے اقتدار لوٹ آنے کے موسم بھی آ جایا کرتے ہیں۔


ای پیپر