بھارت میں شہریت بل میں ترمیم، مسلمانوں کے لئے خطرہ
31 دسمبر 2019 2019-12-31

بھارتی جنتا پارٹی نے راجیو سبھا میں شہریت بل منظور کروا لیا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف بھارتی مسلمانوں کے حقوق کا استحصال ہوا ہے بلکہ حزب اختلاف میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔یہ کون نہیں جانتا کہ بی جے پی ،آرایس آیس کی پروردہ جماعت ہے۔راشٹریہ سیوم سوک سنگھ سوم ایک انتہا پسند ہندو تنظیم ہے۔جس کے مقاصد میں اولین مقصد مسلمانوں کی نسل کشی کرنا، ان کی حیثیت کو ختم کرنااورمسلمانوں کو اس قدر تنگ کرنا کہ وہ خود ہی ہندودھرم میں شامل ہو جائیں۔یا اس دیس یعنی بھارت سے نکل جائیں۔کشمیر میں ہونے والے مظالم میں آرایس ایس پیش پیش ہے۔کشمیر میں 143دن تک کرفیو اور مسلمانوں پر مظالم کے بعد بھارت میں بھی مسلمانوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والی اس جماعت نے اب کھلے بندوں اعلان کردیا ہے کہ مسلمانوں کیلئے ہندوستان میں کوئی جگہ نہیں۔راجیو سبھا میں متنازع شہریت بل آخر پاس کروایاگیا۔اس بل کا بظاہر مقصد ہندوستان میں آنیوالے وہ ہندو ہیں جو کہ31دسمبر 2014 سے پہلے ہندوستان میں آباد ہوئے۔ان کی رجسٹریشن مقصود ہے۔بھارتی وزیر خارجہ امت شاہ نے بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان،بنگلہ دیش،اور پاکستان جیسے مالک میں اذیت زدہ ہندوؤں کیلئے شہریت کابل ہے جو ان مالک سے آئے تھے اور اب ہندوستان میں آباد ہیں۔

اس بل میں کسی طور بھی مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا۔نیشنل رجسٹریشن بل دراصل ایک بھارتی شہریت بل ہے جو1955بھارتی ایکٹ کی ترمیمی صورت ہے۔سال2013 میں اس ایکٹ میں ترمیم ہوئی۔ ترمیم کے بعد اس قانون کا نفاذ بھارتی صوبہ آسام میں کیا گیا۔بھارتی حکومت کا دیرینہ منصوبہ تھاکہ سال 2021تک اس قانون کو پورے ملک میں نافذ کردیں گے۔اور اس کے نفاذ کیلئے آرایس آیس تنظیم کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی۔یہ وہی آر آیس آیس ہے حس میں گاندھی بھی شامل رہا۔شدھی اور سنگٹھن تحریک کامقصد مسلمانوں کو ہندو بناناتھا۔ اسی نظریہ کی حامل تنظیم نے اس کھیل کو کھیلنے کا پھر سے عزم کیا اور بھارت میں شدھ ہندو کا نعرہ لگایا۔

وزیر اعظم عمران خان نے متنازع بھارتی شہریت بل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے اس اقدام نے نازی حکومت کی یاد تازہ کی۔ بھارت نازی اقدام کی طرح عمل کرنے جارہاہے۔ہٹلر نے جنگ عظیم دوم کے دوران جرمن فوجوں کو حکم دیکر ہولوکاسٹ کا آغاز کیا تھا حس میں یہودیوں کو چن چن کر قتل کیا گیاتھا۔اور اس طرح مذہب اور نسل پرستی کی بنیاد پر جنگ چھڑگئی۔

اسی مثال کو بھارت دوبارہ سے دہرانا چاہتا ہے۔ کشمیریوں پر ہونے والے مظالم سے لیکر آسام میں Detention Campتک تمام اقدام محض مسلم مخالف ایجنڈے کا حصہ ہیں۔آرایس آیس نے کشمیریوں کی نسل کشی کا منصوبہ بنایا۔عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق کسی قوم کی نسل کشی کے دس مراحل ہوتے ہیں اور اسی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت کشمیریوں کیخلاف نو مراحل طے کر چکا ہے۔ اب بھارت وزیر خارجہ امت شاہ نے بل پیش کرتے ہوئے کہاکہ بنگلہ دیش۔ پاکستان اور افغانستان جیسے مسلم ممالک میں چونکہ مسلم آبادی زیادہ ہے اس لئے ان مالک کے مسلمانوں کو بل ایکٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔امت شاہ نے کہا کہ اس بل سے دیگر مالک سے ہندوستان میں آئے ہندوؤں کی شہریت کو یقینی بناناہے۔آل انڈیامجلس اتحاد بین المسلمین کے صدراسد الدین اویسی نے اس بل کی سخت الفاظ میں مخالفت کی ہے اورکہاکہ متنازع ترمیمی شہریت بلNRC سابقہ NPR(نیشنل پاپولیشن رجسٹریشن کا اگلاقدم ہے۔26 نومبر2014کو بی جے پی وزیر کرن راجیہو نے خود کہا تھاکہ NPR قانون نیشنل رجسٹریشن سٹیزنشپ کا پہلا قدم ہے اور NRC کا نفاذ ضرور ہوگا"۔

بھارتی آر آیس آیس ہندو دھرم کا پرچار چاہتی ہے۔لیکن بھارتی جنتا پارٹی پر سخت تنقید ہو رہی ہے۔ پورے ملک میں احتجاجی ریلیاں نکالی جا رہی ہیں ۔دلی سمیت بھارت کے دیگر شہروں میں مسلمان طلبہ وطالبات سراپا احتجاج ہیں۔ اس فساد میں لگ بھگ 18 مظاہرین شہید ہو چکے ہیں اور ایک ہزار مظاہرین کو جیلوں میں ڈال دیا گیاہے بھارتی پولیس ہے۔مظاہرین پر گولیاں برسائیں ۔ حیدرآباد میں طلبہ نیحکومت مخالف نعرے لگائے۔کانگرس کی رہنما راہول گاندھی اور پرانکا گاندھی جب شہید مظاہرین کے لواحقین کے گھر جارہی تھیں تو انھیں میرٹھ جانے سے روکا گیا۔

بھارتی حکومت ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔اور شہریت بل کو زبردستی مسلط کرنا چاہتی ہے۔نرندرمودی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ بھارت تمام ہندوستانیوں کا دیس ہے۔یہاں کوئی ڈیٹنشن کیمپ نہیں بنایا گیا۔یہاں مسلمان بھی رہ رہے ہیں یہ ان کا بھی دیس ہے۔جبکہ مودی کا یہ بیان سوائے جھوٹ کے پلندے کے کچھ بھی نہیں۔کیونکہ آسام میں کیمپ موجودہیں جہاں لوگوں کو حراست میں رکھا گیا ہے اور ان کی زندگیاں شہریت کا کیس لڑتے ہوئے گزررہی ہیں ان لوگوں کے پاس اپنی بھارتی شہریت ثابت کرنے کیلئے نامکمل ڈاکیو منٹس ہیں یا پھر سپیلنگ کی غلطی سے نام میں ابہام پایا گیا ہے۔آسام میں لگ بھگ 26 لاکھ افراد ہیں جن میں ہندوؤں کی نصف سے زیادہ ہے۔جب نیشنل رجسٹریشن کا عمل شروع ہوگا تو ہندو باشندے تو رجسٹرڈ ہوسکیں گے جبکہ مسلمان خاندان پھر سے اس عتاب کا شکار ہوں گے کہ وہ غیر قانونی تارکین وطن ہیں۔ اور اس طرح یا تو ان قیدی کیمپوں میں رہیں یا ملک بدر کردیئے جائیں۔بنگال کی وزیر اعظم ممتا بینر جی نے احتجاج کے دوران کہا کہ بنگال میں NRC کا نفاذ ہر گز نہیں ہونے دیں گے اور اگر یہ کوشش کی گئی تو میری لاش پر سے گزرنا پڑیگا۔ جب تک CABواپس نہیں لیں گے احتجاج جاری رہے گا۔

عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی ترمیمی بل کئی مخالفت کئی ہے اور اسے ایک مخصوص سوچ کا حامل بل قرار دیاہے۔اور بھارت کاسیکولرریاست کا دعوی کہاں ہے۔ ایکٹ بھارتی آئین کے آرٹیکل14 کی سنگین خلاف ورزی پر مبنی ہے۔آرٹیکل میں درج ہے کہ تمام شہریوں کو رہنے۔کا حق ہے۔۔مساوی حقوق حاصل ہیں۔اور اقلیتوں سمیت تمام باشندوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔ آرٹیکل15 میں تمام باشندوں کو بغیر کسی نسلی امتیاز،رنگ ذات پات،صنف،جگہ،یا مذہب کئی بنیاد پر بلاتفریق حقوق حاصل ہوں گے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ بھارت سیکولرریاست کا نعرہ لگانے والے اس ملک میں مسلمانوں کو نشانہ بنا کر تیسری جنگ عظیم کا آغاز کرنا چاہتا ہے…؟


ای پیپر