سمیٹتے ہیں جو خزینوں کو اپنے دامن میں!
31 دسمبر 2019 2019-12-31

’’حقائق سے پردہ اٹھاؤ تو کہا جاتا ہے یہ مایوسی ہے‘‘۔

پھر کیا یہی کہا جائے کہ یہ جو برے دن ہیں ختم ہو جائیں گے گلشن میں بہار آ جائے گی خزاں کا نام و نشان تک باقی نہیں رہے گا۔ انصاف عام ہو گا۔ امن چین کی بانسریاں ہر سمت بجتی ہوئی سنائی دیں گی غربت نہیں رہے گی، ملاوٹ، مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کا دور ایسے غائب ہو گا جیسے گدھے کے سر سے سینگ، باہمی اختلافات گفتگو سے دور کیے جائیں گے۔ ایک دوسرے کی دل آزاری نہیں کی جائے گی، برداشت کی فضا قائم ہو گی۔ آپس میں مل جل کر سب رہیں گے۔ منافقت بھی نہیں رہے گی۔ شفاف ذہن ہوں گے اس طرح کی اور خوبصورت باتیں کی جا سکتی ہیں مگر سوال یہ ہے کہ بہتّر برس سے ہمارے عقلمند دانا و بینا اور حکمران بھی تو یہی کہتے چلے آ رہے ہیں مگر ابھی تک ایسا منظر نہیں دیکھنے کو مل سکا؟

ہر آنے والا دن غموں اور آنسوؤں کی جھڑی لے کر آتا ہے!

اس کے باوجود بھی تقاضا کیا جاتا ہے کہ بس سب اچھا کی گردان کی جانی چاہیے اب اس سے کچھ حاصل نہیں ہو گا کہ جب دل جلنے لگیں اور چناروں کو آگ لگ جائے تو اسے کونپلوں کے لمس سے تشبیہ نہیں دی جا سکتی۔

پت جھڑ کو پت جھڑ ہی کہا جائے گا۔

تاریکی کو روشنی کا متبادل نہیں کہا جا سکتا۔

مفلسی کو امیری نہیں اور منافقت کو مصلحت نہیں کہتے!

عجیب دور آیا ہے کہ ہمیں اب بھی چپ کرایا جا رہا ہے اور خواہش کی جاتی ہے کہ کوئی لب نہ کھولے… حالت موجود پر اکتفا کیا جائے اسی کے آگے سر تسلیم خم کیا جائے۔

ا ب یہ مشکل ہے لب ہلیں گے زبان بولے گی!

مگر اس کا فائدہ بھی تو کچھ نہیں کون سنتا ہے کون اس پر اپنا سر گھماتا ہے ایسا لگتا ہے کہ سبھی نے متفقہ فیصلہ کر لیا ہے کہ کوئی روتا ہے کوئی تڑپتا ہے اور کوئی رسوا ہوتا ہے اُسے نہ دیکھا جائے نہ سنا جائے؟

محسوس ہوتا ہے کہ ہر طاقتور کا یہی فیصلہ ہے یہی سوچتا ہے کیونکہ وہ وسائل پر قابض رہتے ہوئے اس قدر اپنے گوداموں اور تجوریوں میں مال لے جا چکا ہے کہ اب اس کے پاس دوسروں کو دینے کے لیے ہی کچھ نہیں اور وہ شاید دنیا بھی چاہیے تو نہیں دے سکے گا کیونکہ وہ سکوں کی جھنکار سے محظوظ ہونے کا عادی ہو چکا ہے۔ ذخیرہ کی گئی اجناس نے اسے پتھر سا بنا دیا ہے جنہیں وہ ہر وقت تکتا رہتا ہے اور سانسیں لیتا ہے!

لگتا ہے ہم ایک بہت بڑی تبدیلی کی طرف بڑھ رہے ہیں ایک بڑے مگر ہولناک منظر کو ابھرتا ہوا دیکھنے کے قریب تر ہو رہے ہیں جس میں خوشیاں نہیں غم ہوں گے افراتفری ہو گی اور آپا دھاپی ہو گی؟

آپا دھاپی کچھ اب بھی ہے مگر اس حد تک نہیں کہ زندگی ٹوٹ کر گر پڑے۔ آؤ کچھ ہونے سے پہلے نفرتوں اور کدورتوں سے نجات حاصل کر لیں جینے کا ایک نیا رخ اختیار کر لیں کیونکہ تمام سینہ زور اور دولت مند ایک ہو چکے ہیں وہ خزانوں کو دونوں ہاتھوں سے اپنے اپنے دامن میں سمیٹ رہے ہیں۔ یہ جو کچھ دیکھ رہے ہیں اور جو سن رہے ہیں وہ لفاظی ہے۔ طفل تسلیاں ہیں اور مصنوعی دلاسے ہیں۔

ریت ان کی مٹھی سے پھیل رہی ہے

پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا!

کیوں نہ ہم جو کر سکتے ہیں وہ کریں!

مگر مجبوری بھی ہے کچھ لوگوں کے لیے کہ وہ ان سیاسی اور معاشی ’’داناؤں‘‘ سے کچھ حاصل کر رہے ہیں جو ان کی جسمانی حرکت کے لیے ضروری ہے۔

چلیے ، جو ان سے وابستہ نہیں وہ تواپنا کردار ادا کریں انہیں ایسا سوچنا بھی ہو گا کیونکہ حوصلے سرد ہوتے جا رہے ہیں۔ برف کی مانند۔

اس سے پہلے کہ وہ منجمد ہو جائیں ہمیں کسی ایسی راہ پر چلنا ہو گا جو بہتے چشموں، ندیوں اور آبشاروں کی طرف لے جاتی ہے۔

محبت ، پیار اور امن کا علم اٹھانا ہو گا کہ جو ہمارے مستقبل کو روشن بنا سکتا ہے وگرنہ سچ یہی ہے کہ ہم آہیں بھریں گے بیتے دنوں کو یاد کر کے آنسو بہائیں گے۔ ہر کسی کو اپنی پڑی ہو گی یعنی ایک ہجوم ہو گا جو کسی کی نہیں سنے گا۔ وسائل کم پڑ جائیں گے اور ان سے مستفید ہونے والے چند لوگ ہوں گے جو بہت طاقتور ہوں گے اور ہجوم انہیں دیکھتا رہ جائے گا!

دانشور دہائی دیں گے کہ لوگو! تم کیا کر رہے ہو کدھر جا رہے ہو انسانیت کی جانب لوٹ آؤ مگر ان کی صدائیں بے سود ثابت ہوں گی کہ وہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہوں گے ایسے میں عقل کا خانہ خالی رہتا ہے اور زندگی کے محسوسات غالب آ جاتے ہیں۔

ہاں مگر ویرانے میں بیٹھا درویش مطمئن ہو گا!

اُسے کوئی فکر نہیں ہو گی کسی قسم کا غم نہیں ہو گا

وہ بہت پہلے سے جانتا تھا کہ یہ سب ہونے جا رہا ہے لہٰذا وہ تو طمع و لالچ کو خیر باد کہہ کہ گوشہ نشین ہو گیا تھا اور اطمینان بھری سانسیں لے رہا ہو گا۔

حیف صد حیف!

انسان، انسانوں کے خاتمے کے در پے ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ تفکرات سے آزاد زندگی بسر کرے گا۔ یہ نہیں ہو سکتا آخر کار اس کا ضمیر بھی تو ہے جو اسے ٹہوکے لگاتا ہے لہٰذا آج جو لوگوں کی زندگیوں کو زہر آلود کر رہے ہیں کل وہ ضرور پچھتائیں گے اور اُن کے اندر خوف، حزن اور ملال کی لہریں بھی اٹھیں گی۔ اُن کی آخری لمحات اس قدر تکلیف دہ ہوں گے کہ وہ انہیں سہ نہیں سکیں گے۔ جینا چاہیں گے تو جی نہیں سکیں گے۔ ان کی طرف ہمدردی اور غمگساری کی نگاہیں نہیں اٹھیں گی… ذرا دیکھیے اس وقت کچھ کردار ہمارے سامنے ہیں جو خود کو طاقتور ترین اور عقل کل تصور کرتے تھے اب سسک رہے ہیں ان کی قوت گوئی تک جاتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ کوئی مفلوج ہے تو کسی کی حرکت سست و اذیت ناک!

انجام جب ایسا بھی ہو سکتا ہے تو یہ ’’دور اندیش‘‘ کیوں غور و فکر نہیں کرتے اپنے ہم نفسوں کے کیوں دل نہیں جیتتے اُن سے کیوں اصلیت و حقیقت چھپاتے ہیں جبکہ بقول خلیل جبران ’’ہر وہ کام جو رات کی تاریکی میں کیا جائے دن کا اجالا اسے عیاں کر دیتا ہے‘‘۔

کاش! ہم ایک ہو جائیں ایک ہی طرح کے جیون سے آشنا ہو جائیں یہ سوچ ہر کسی کے دل و دماغ پر چھا جائے اور پھر سارے گلے شکوے جاتے رہیں!


ای پیپر