ہم بھی دائرے بڑھا رہے ہیں
31 دسمبر 2019 2019-12-31

سقراط کی درس گاہ کا صرف ایک اصول تھا، اور وہ تھا برداشت، یہ لوگ ایک دوسرے کے خیالات تحمل کے ساتھ سنتے تھے، یہ بڑے سے بڑے اختلاف پر بھی ایک دوسرے سے الجھتے نہیں تھے، سقراط کی درسگاہ کا اصول تھا اس کا جو شاگرد ایک خاص حد سے اونچی آواز میں بات کرتا تھا یا پھر دوسرے کو گالی دے دیتا تھا یا دھمکی دیتا تھا یا جسمانی لڑائی کی کوشش کرتا تھا اس طالب علم کو فوراً اس درسگاہ سے نکال دیا جاتا تھا۔سقراط کا کہنا تھا برداشت سوسائٹی کی روح ہوتی ہے، سوسائٹی میں جب برداشت کم ہوجاتی ہے تو مکالمہ کم ہوجاتا ہے اور جب مکالمہ کم ہوتا ہے تو معاشرے میں وحشت بڑھ جاتی ہے۔ اس کا کہنا تھا اختلاف دلائل اور منطق پڑھے لکھے لوگوں کا کام ہے، یہ فن جب تک پڑھے لکھے عالم اور فاضل لوگوں کے پاس رہتا ہے اس وقت تک معاشرہ ترقی کرتا ہے۔ لیکن جب مکالمہ یا اختلاف جاہل لوگوں کے ہاتھ آجاتا ہے تو پھر معاشرہ انارکی کا شکار ہوجاتا ہے۔۔وہ کہتا تھا۔۔’’کوئی عالم اُس وقت تک عالم نہیں ہوسکتا جب تک اس میں برداشت نہ آجائے، وہ جب تک ہاتھ اور بات میں فرق نہ رکھے‘‘۔۔۔

یہ چند روزہ حیات کبھی بھی اور کسی بھی صورت میں حیات جاوداں نہیں ہو سکتی۔ اسپ عمر سر پٹ دوڑے جارہا ہے اور ہم حیات سمندر کے منجدہار میں ڈوبے جا رہا ہیں۔ یہاں جو بھی فیصلہ کیا جائے گا اس کا جواب دہ میدان حشر میں بھی ہونا پڑے گا۔ چیف جسٹس سےلے کر ایک عام قاضی کو بھی پوچھ گچھ کے پل صراط سے گزرنا پڑے گا۔ مشرف کو پھانسی کا فیصلہ درست بنیادوں پر ہے یا غلط… یہ سراسر دنیاوی فیصلہ ہے۔ رانا ثناء اللہ منشیات کا بانی ہے یا نہیں… اس کی گاڑی میں منشیات رکھی گئی تھی یا نہیں… اس نے رہا ہو کر وکٹری کا نقصان بنایا تھا یا نہیں… نواز شریف کرپٹ ہے یا بے گناہ شہباز شریف خادم اعلیٰ کے معیار پر پورا اترتا ہے یا نہیں… مریم بی بی عوام کی خیر خواہ ہے یا کرسی کی پجاری… شیخ رشید سیاسی مطلب پرست ہے یا وفا دار… زرداری کو ملک سے پیار ہے یا زر سے… عوام خان سلیکٹڈ وزیراعظم ہے یا الیکٹڈ … مریم اورنگ زیب ملک سے وفادار ہے یا شاہ سے زیادہ شاہ کی وفادار… ان تمام چیزوں سے کوئی فرق ملک کو کوئی فرق نہیں پڑنے والا… عوام کی حالت زار نہیں بدلنے والی… معاشرے کو ترقی کرنے کے لیے سقراط کے اصول کی ضرورت ہے اور دولت کے پجاریوں ، ایون فیلڈ کے مالکوں، منی لانڈروں، بینک بیلنس کے مالکوں، قبضہ گروپوں، منشیات فروشوں، بلیک مارکیٹروں، کلفٹن کے مالکوں، سرمایہ داروں، جاگیرداروں، منی وائٹ کرنے والوں، سمگلروں، ٹیکس چوروں، کے لیے یہی مثال اور سبق کافی ہے۔

ایک بادشاہ نے کسی بات پر خوش ہو کر ایک شخص کو یہ اختیار دیا کہ وہ سورج غروب ہونے تک جتنی زمین کا دائرہ مکمل کر لے گا، وہ زمین اس کو الاٹ کر دی جائے گی اور اگر وہ دائرہ مکمل نہ کر سکا اور سورج غروب ہو گیا تو اسے کچھ نہیں ملے گا۔ یہ سن کر وہ شخص چل پڑا۔ چلتے چلتے ظہر ہوگئی تو اسے خیال آیا کہ اب واپسی کا چکر شروع کر دینا چاہئے، مگر پھر لالچ نے غلبہ پا لیا اور سوچا کہ تھوڑا سا اور آگے سے چکر کاٹ لوں، پھر واپسی کا خیال آیا تو سامنے کے خوبصورت پہاڑ کو دیکھ کر اس نے سوچا اس کو بھی اپنی جاگیر میں شامل کر لینا چاہئے۔ الغرض واپسی کا سفر کافی دیر سے شروع کیا۔ اب واپسی میں یوں لگتا تھا جیسے سورج نے اس کے ساتھ مسابقت شروع کر دی ہے۔ وہ جتنا تیز چلتا پتہ چلتا سورج بھی اتنا جلدی ڈھل رہا ہے۔ عصر کے بعد تو سورج ڈھلنے کی بجائے لگتا تھا پِگلنا شروع ہو گیا ہے۔وہ شخص دوڑنا شروع ہو گیا کیونکہ اسے سب کچھ ہاتھ سے جاتا نظر آ رہا تھا۔ اب وہ اپنی لالچ کو کوس رہا تھا، مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔ دوڑتے دوڑتے اس کا سینہ درد سے پھٹا جا رہا تھا،مگر وہ تھا کہ بس دوڑے جا رہا تھا۔ آخر سورج غروب ہوا تو وہ شخص اس طرح گرا کہ اس کا سر اس کے سٹارٹنگ پوائنٹ کو چھو رہا تھا اور پاؤں واپسی کے دائرے کو مکمل کر رہے تھے، یوں اس کی لاش نے دائرہ مکمل کر دیا جس جگہ وہ گرا تھا اسی جگہ اس کی قبر بنائی گئی اور قبرپر کتبہ لگایا گیا، جس پر لکھا تھا…’’اس شخص کی ضرورت بس اتنی ساری جگہ تھی جتنی جگہ اس کی قبر ہے‘‘ اللہ پاک نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے:والعصر،ان الانسان لفی خسر…آج ہمارے دائرے بھی بہت بڑے ہوگئے ہیں، چلئے واپسی کی سوچ سوچتے ہیں


ای پیپر