رُوح محمد
31 دسمبر 2019 2019-12-31

قارئین کرام، جیسے کہ میں نے یہ سوچا تھا، میں کالم روایتی انداز سے لکھنے کے بجائے ان موضوعات پہ لکھوں، کہ جس پر مسلمان ہونے کے باوجود بھی ہمیں مطلوبہ معلومات تک دسترس حاصل نہیں، اس لیے میں نے روح کے بارے میں پچھلی دفعہ بھی کچھ تحریر کیا تھا، جس کا سلسلہ تاحال جاری ہے، علامہ حافظ ابن قیمؒ بتاتے ہیں کہ مطرفؒ کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ ہم موسم بہار میں سیر کے لیے نکلے، ہمارے راستے میں ایک قبرستان تھا، ہم نے خیال کیا کہ جمعے کے روز اس میں جائیں گے، بالآخر جمعے کے روز ہم قبرستان گئے، تو وہاں ایک جنازہ دیکھا، میں نے سوچا کہ میں اس جنازے میں شرکت کروں، اور پھر میں نے اس جنازے میں شرکت کی ،پھرمیں قبرکے پاس ایک کونے میں بیٹھ گیا، پھرمیں نے وہاں دورکعت نماز نوافل ادا کی دل میں تذبذب کا شکار ہوگیا کہ کیا پتہ یہ نوافل میں نے صحیح طرح سے ادا کیے ہیں یا نہیں، اتنے میں مجھے اُونگھ آگئی، خواب میں، میں نے قبر میں دفنائے گئے شخص کو دیکھا، وہ مجھے کہہ رہا تھا، کہ جونوافل تم نے ادا کیے ہیں، تمہارا خیال ہے، کہ اس کاحق ادا نہیں ہوا، میں نے جواب دیا بالکل درست ہے، آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں صاحب قبر نے کہا کہ تم عمل کرسکتے ہو، مگر حالات کی خبر نہیں رکھتے ہو، مگر ہم حالات کی خبر رکھتے ہیں، مگر عمل کرنے سے عاجز ہیں۔ اگر میں تمہاری طرح دوگانہ (دونوافل) پڑھنے پہ قادر ہوتا، تو یہ مجھے تمام دنیا کی دولت سے بھی زیادہ عزیز ہوتا۔ میں نے ان سے دریافت کیا، کہ اس قبرستان میں کون ہیں؟ تو اس نے جواب دیا کہ یہاں ہم سب مسلمان ہیں، اور تمام کے تمام صالحین ہیں، یعنی پرہیز گار ہیں، میں نے ان سے پوچھا کہ آپ سب سے زیادہ بلند مقام والا کون ہے ؟

تو انہوں نے ایک قبر کی طرف اشارہ کردیا۔

میں نے بارگاہ الٰہی میں درخواست کی، یا الٰہی مجھے اجازت دیں کہ میں ان سے بات کرسکوں، اتنے میں قبر سے وہ نوجوان نمودار ہوا، میں نے اس سے دریافت کیا، کہ تمام اہل قبور سے تم زیادہ افضل ہو، اس نے کہا کہ لوگ ایسے ہی کہتے ہیں میں نے ان سے کہا کہ تم نے کیا ایسا عمل کیا ہے، تمہاری عمر تو یہ بتاتی ہے کہ نوجوان ہونے کے لحاظ سے تم نے زیادہ نیکیاں نہیں کی ہوں گی، اور نہ ہی عمرے کیے ہوں گے، اور نہ ہی حج کیے ہوں گے، فی سبیل اللہ تمہیں جہاد کا موقعہ بھی نہیں ملا ہوگا، اور نہ ہی اور بڑے عمل کیے ہوں گے۔

اس نے کہا، میں دنیا میں مصائب میں گرفتار رہتا تھا، مگر مصائب پرصبر کرتا تھا، صبر کی وجہ سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے میرا مقام دیگر سے زیادہ بلند کردیا ۔

قارئین ، وطن عزیز میں مفلس نادار،غربائ، مساکین، فقراءمیں ڈیڑھ سال کے اندر اندر جو مصائب ومشکلات درپیش ہیں، روز محشر مظلوموں کے نوحے رنگ لائیں گے، کیونکہ فرات ودجلہ کا کتا، حکمرانوں کو جوابدہی کے لیے کٹہرے میں لاکھڑا کرے گا، مگر حرمت انسان تو حرمت کعبہ سے بھی زیادہ ہے، مظلوم کی آہ تو عرش الٰہی تک چشم زدن میں پہنچ جاتی ہے۔

بقول سید مظفرعلی شاہ نیر:

فلک لرزاں نہیں یوں ہی

کوئی نوحہ کناں ہوگا!

نہاں جس دم عیاں ہوگا

خدایا کیا سماں ہوگا!

چلونیر یقیں کرلیں

حساب اپنا وہاں ہوگا

اللہ تعالیٰ کی ذات واحدہ لاشریک پہ بھی مسلمان ہونے کے باوجود کچھ ناخلف مسلمان نے اشتراکیت کے نام پہ اور سب انسانوں کے لیے مساویانہ سہولیات زندگی کی فراہمی کے نعرے لگاکر کمیونسٹ ذہن کے دماغوں کو اتنا تبدیل کردیتے ہیں کہ وہ انسان متذبدب ہوکر خود خدا کے وجود ہی سے منکر ہونے کے قریب پہنچ جاتا ہے، اور ہمالیہ سے بلند دوستی کا بھرم رکھتے ہوئے اس کائنات و افلاک کو یہ کہتے ہیں کہ یہ گردش ایام اور لیل ونہار ایک فطری عمل ہے، جو یونہی چلتا رہے گا۔ مگر جب اسی انسان کو 104درجے کا بخار ہو، یا کان اور دانت کا درد ہو، اور اگر خدانخواستہ دل کا دورہ پڑے، تو اسی لمحے اسے خدا نہ صرف یاد آجاتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ سے چشم ترمیں دعائیں مانگنے، اور توبہ تائب ہوتے میں نے کچھ اشخاص کو دیکھا ہے۔ جو مجھے نماز کا وقت ہونے پہ کہتے تھے، کہ خانصاحب جائیں اپنی ”عادت“ پوری کرلیں، ذرا سا جھٹکا ملنے، اور جسمانی فنی خرابی ہونے پہ وہی دہریت پہ ناز کرنے والے مسجد کی پہلی صف میں نظر آتے تھے، اللہ تعالیٰ کے وجود سے یہ انکاری مجھے ایک بات سمجھائیں جو بظاہر معمولی لیکن انتہائی قابل غور ہے، قارئین ذرا آپ بھی بتائیے، کہ دنیا بھر کے کسی بھی مذہب یا مسلک میں سے مجھے اس طرح کی مثال دیں کہ مسلمان تو مردے کو یعنی میت کو قبر میں امانت کے طورپر دفن کردیتے ہیں، اور جب وہ اسے دوبارہ دفنانے کے لیے نکالتے ہیں، تو وہ لاش بالکل صحیح حالت میں ملتی ہے، اور زمین نے بجائے اسے خراب کرنے کے اس کی حفاظت کی ہوتی ہے، اس کے علاوہ اگر بارش نہ برس رہی ہو، اور قحط کا خطرہ نظر آنے لگے، تو نماز استسقا پڑھی جاتی ہے، اور حکمران وقت خواہ کسی بھی کردار کا مالک ہو، اگر یہ نماز پڑھے، تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کی برکھا ضرور برستی ہے، جیسے سابقہ صدر ممنون حسین نے نماز استسقا کی قوم سے اپیل کرکے، اور نماز پڑھ کر کراچی کو جل تھل کرادیا تھا اگر اس مثال سے بھی عقل کے اندھوں کو سمجھ نہیں آئی، تو ایک چھوٹے سے پرندے مرغ کی مثال سامنے رکھیں جو وقت تہجد شروع ہونے سے چند منٹ قبل اذان دینا شروع کردیتا ہے، اور نماز فجر تک باقاعدگی اور تواتر سے اپنا فریضہ خوش اسلوبی سے ادا کرتا ہے، دیہاتی اب بھی نماز فجر مرغ کی اذان سن کر پڑھتے ہیں، مظفر وارثی صاحب نے تو تفصیل سے خدا کے بارے میں بتایا ہے، فرماتے ہیں :

کوئی تو ہے جو نظام ہستی!

چلارہا ہے، وہی خدا ہے

جودن کو رات اور رات کو دن بنارہا ہے

وہی خدا ہے،

نظر بھی رکھیں سماعتیں بھی

وہ جان لیتا ہے ،نیتیں بھی

دکھائی بھی جو نہ دے،

نظر بھی جو آرہا ہے، وہی خدا ہے

مسلمانوں کے بارے میں روح محمد بارگاہ الٰہی میں ملتجی ہے راز شیرازہ ابترکو فاش کردے، ان شاءاللہ اگلی دفعہ ۔


ای پیپر