قائداعظم اور ہمارے حکمران !
31 دسمبر 2019 2019-12-31

پی ٹی آئی پنجاب کے فعال صدر چودھری اعجاز احمد نے قائداعظم ؒکی 139ویں برسی کے موقع پر ” قائداعظم ہم سب کے“ عنوان سے ایک زبردست تقریب کا اہتمام کیا، یہ تقریب لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد کی گئی جسے کامیاب بنانے کے لیے پاکستان کے ممتاز قلم کاروں سے انہوں نے ذاتی طورپر رابطہ کیا، اور ان سے اس تقریب میں شرکت کی گزارش کی، خاکسار بھی ان میں شامل 25دسمبر کو لاہور شدید ٹھنڈ کا شکار تھا، گھر سے باہر نکلنا تو دور کی بات ہے گھر کے ایک کمرے سے نکل کر دوسرے کمرے میں جانا مشکل ہورہا تھا، اِس بار کچھ زیادہ ہی سردی پڑ رہی ہے۔ یا پھر یہ ہے عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے ہماری قوت برداشت کم ہوگئی ہے، ایک بار شدید ٹھنڈ میں اپنے والد محترم (مرحوم) سے میں نے پوچھا ”ابا جی اس بار سردی کچھ زیادہ نہیں پڑ رہی ؟“.... وہ بولے ”سردی تو شاید اُتنی ہی ہے ہماری عمر چونکہ ایک سال مزید بڑھ گئی ہے تو گزشتہ برس کی نسبت ہمیں سردی زیادہ لگتی ہے“....سو اِس بار 25دسمبر کو سردی، موجودہ سرکارکی نااہلی کی طرح اپنے عروج پر تھی۔ پچھلی سردیوں میں تھوڑی بہت گیس چولہوں اور ہیٹروں میں آجاتی تھی جس سے کچھ دیر کے لیے ہیٹروں کے آگے بیٹھ کر سردی کم کرنے کا موقع مل جاتا تھا۔ اس بار گیس نہیں آتی، گیس کے صرف بل آتے ہیں۔ گیس اور بجلی کی قیمتیں اتنی بڑھ گئی ہیں ان کے بل دیکھ کر پہلے صرف غریب بلبلا اُٹھتے تھے، اب ہرکوئی چیخیں مارتا ہے، پی ٹی آئی کی حکومت یا عمران خان کو ووٹ دینے والوں یا اُس کی حمایت کرنے والے ہم جیسوں کو ”ہورچُوپو“ کے سوا کوئی کیا کہہ سکتا ہے؟۔ ....کل میرے پیٹ میں گیس تھی اور میں سوچ رہا تھا کاش اِس گیس سے میں چولہا یا ہیٹر جلا سکتا ہوتا....وزیراعظم عمران خان کو چاہیے آرمی چیف کی آشیرباد سے ایک بل پارلیمنٹ سے یہ بھی منظور کروالیں آئندہ پاکستان میں پیدا ہونے والا ہر بچہ اپنے اپنے حصے کی گیس ساتھ لے کر آیا کرے گا۔ ....بہرحال چودھری اعجاز صاحب کا حکم تھا، پھر یہ تقریب ہمارے بانی پاکستان کی 139ویں سالگرہ کی تھی باہر برف بھی پڑ رہی ہوتی اس میں شرکت ضروری تھی، بلکہ ”بروقت“ ضروری تھی، بروقت اس لیے کہ بانی پاکستان وقت کے بہت پابند تھے، اِس حوالے سے اُن کی زندگی کے کئے یادگار واقعات ہمارے لیے مشعل راہ ہیں، پر افسوس جس طرح ہم اپنی زندگی کے دوسرے معاملات میں اُن کی زندگی سے کوئی رہنمائی حاصل نہیں کرتے، سووقت کی پابندی کے معاملے میں بھی نہیں کرتے، ہم نے قائد اعظمؒکو محض اُن کے یوم پیدائش اور یوم وفات وغیرہ پر یاد کرنے کے لیے رکھا ہوا ہے۔ اِس کے علاوہ ہرحوالے سے ہم اُنہیں ”فارغ“ کرچکے ہیں، یا پھرنوٹوں پر مجبوراً اُن کی تصویر ہم چھاپ دیتے ہیں، ہمارے سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف شہرت کے جتنے متمنی تھے اُن کے دورِ اقتدار میں ہم اِس خدشہ کا شکار رہے کہیں ”پائی جان“ سے ایک ” نوٹ“ اپرووکروا کر وہ نوٹوں پر قائداعظم کے بجائے اپنی تصویر چھاپنے کا فیصلہ نہ کرلیں۔ اخبارات میں شائع ہونے والے ڈینگی کے اشتہاروں پر بھی ایک طرف ڈینگی مچھر دوسری طرف ”خادم پنجاب“ کی تصویر ہوتی تھی، ....جہاں تک بانی پاکستان کا معاملہ ہے میں اکثر سوچتا ہوں، بلکہ کئی بار اِس پر لکھ بھی چکا ہوں، آج اگر قائداعظم ؒ زندہ ہوتے اور موجودہ سیاستدانوں میں سے کسی کے مقابلے پر الیکشن لڑتے، بُری طرح ہارجاتے، خرابیوں اور بدکاریوں کے جس بدترین مقام پر جاکر معاشرہ کھڑے ہوگیا ہے وہاں صرف موجودہ سیاستدان ہی الیکشن میں بھاری اکثریت وکامیابیاں حاصل کرسکتے ہیں، ....حضرت قائداعظم ؒجس جرا¿ت مندانہ اور اصول پسندانہ کردار کے مالک تھے ممکن ہے وہ ادارہ بھی اُن کی حمایت نہ کرتا جسے صرف بدکردار وبزدل سیاستدانوں کی حمایت کرنے کی، اور اُنہیں جتوانے کی عادت پڑچکی ہے، بلکہ ممکن تھا یہ بدبخت معاشرہ اور اُس کے اُسی جیسے کچھ ادارے قائداعظم ؒکو اُن کے جرا¿ت مندانہ کردار کے باعث اُن پر کوئی الزام وغیرہ لگاکر جیل میں ڈال دیتے، .... قائداعظم نے جہاں پاکستان بناکر ہم پر بہت بڑا

احسان کیا وہاں اُن کا یہ احسان بھی کم نہیں پاکستان بنانے کے بعد زیادہ عرصے کے لیے وہ زندہ نہیں رہے، ورنہ ہم نے خود ہی اُنہیں ماردینا تھا، کیونکہ اپنے ”ہیروز“ کو مارنے کے ہنر سے جتنے ہم آشنا ہیں شاید ہی دنیا میں کوئی ہوگا، سو قائداعظم ؒ کا بے حد شکریہ طبعی موت مرکر اُنہوں نے ایک بڑی بدنامی سے ہمیں بچا لیا، .... میں لاہور کے فلیٹیز ہوٹل میں پی ٹی آئی پنجاب کے صدر چودھری اعجاز احمد کے دیئے ہوئے وقت کے عین مطابق ، بلکہ اس سے دوچار منٹ پہلے ہی پہنچ گیا، مجھے وہاں یہ دیکھ کر ذرا حیرت نہ ہوئی کہ ابھی ”میزبان“ بھی پورے تشریف نہیں لائے تھے، صرف چودھری اعجاز احمد اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ موجود تھے، اُنہوں نے مجھے اپنے برابر والی نشست پر بیٹھا لیا، آدھے گھنٹے بعد چند قلم کار اور ایک دو وزراءتشریف لائے، جنہیں اپنے تاخیر سے تشریف لانے پر ذرا شرمندگی شاید اس لیے نہیں تھی کہ یہ عمل اب ہماری ”قومی شناخت“ بن چکا ہے، موجودہ دور کے وزیروں کی اپنے مخالفین کے لیے بدزبانی کرنے، اُنہیں گالیاں وغیرہ دے کر اپنے وزیراعظم کو خوش کرنے کے علاوہ ایک شناخت اب یہ بھی ہے وہ مختلف تقریبات اور میٹنگ وغیرہ میں دیر سے تشریف لاتے ہیں، البتہ کسی تقریب میں وزیراعظم یا آرمی چیف وغیرنے آنا ہو وہاں مقررہ وقت سے دو اڑھائی گھنٹے پہلے آکر ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں ،....چند روزپہلے میں نے ایک وفاقی وزیر کو ایک فلاحی تقریب میں لے کر جانا تھا، میں ذرا وقت سے پہلے اُن کے گھر چلے گیا، ہم کچھ دیر اُن کے ڈرائنگ روم میں گپیں لگاتے رہے، پھر میں نے اُن سے کہا ”تقریب کا وقت ہوا چاہتا ہے، ہمیں اب نکلنا چاہیے، وہ فرمانے لگے ”بہتر ہے ہم آدھے گھنٹے بعد نکلیں“ ....میں نے وجہ پوچھی، کہنے لگے اصل میں، میں وہاں چیف گیسٹ ہوں تو اچھا نہیں لگتا وقت پہ وہاں پہنچ جاﺅں“ ....اب آپ خود اندازہ لگا لیں اس سوچ کے حامل وزراءملک میں یا اپنے اپنے محکموں میں کیا مثبت تبدیلیاں لاسکیں گے؟۔ جو ہلکے یا ہلکائے ہوئے لوگ خود کو تبدیل نہیں کرسکتے وہ معاشرے یا سسٹم کو تبدیل کرنے کا بھاری بیڑا کیسے اُٹھا سکتے ہیں ؟ البتہ بیڑا غرق کرنے میں کوئی ان کا ثانی نہیں ہے۔ تبدیلی کے جو دعوے وہ کرتے تھے، جو بڑھکیں وہ لگاتے تھے، اُس پر زیادہ غصہ اب اس لیے ہمیں نہیں آتا غصہ اصل میں دوسروں کی غلطیوں کی خود کو سزا دینا ہے، سو کب تک خود کو سزاہم دیتے رہیں گے ؟؟؟(جاری ہے)


ای پیپر