تذکرہ رفقائے کار۔۔۔ ہنوز ناتمام !
31 دسمبر 2018 2018-12-31

ذکر ایف جی سرسید سیکنڈری سکول راولپنڈی کے ستر کی دہائی کے اساتذہ کا ہو رہا تھا۔ جناب ظہور چوہان اور ضیاء الحق قریشی انگلش میڈیم کے روائتی (Typical ) ٹیچرز کا نمونہ تھے ۔ دونوں انگریزی کے اُستاد تھے اور بعد میں دونوں بطور پرنسپل ریٹائرڈ ہوئے ۔ ان کے ساتھیوں میں افتخار علی شاہ مرحوم، مجید قمر مرحوم اور جناب طارق علی احمد بھی شامل تھے ان کے علاوہ منظور حسین نسیم مرحوم ، کیپٹن ایس ممتاز عنایت اللہ مرحوم ، مسعود ملک مرحوم اور سر شریف خان کا بھی گروپ تھا جو آپس میں ہم نوالہ و ہم پیالہ تھے ۔اس گروپ میں ڈرائنگ ماسٹر اے بی خان مرحوم اور پی ٹی آئی بیگ صاحب مرحوم بھی کچھ کچھ شامل تھے۔ افتخار علی شاہ کسی حد تک آزاد منش تھے اور پاکستان سٹڈیز و سوشل سٹڈیز کا مضمون پڑھاتے تھے ۔ مجید قمر مرحوم کا مضمون اُردو اور مشغلہ فوٹو گرافی تھا۔ انہوں نے سکول میں ایک فوٹو گرافک کلب بھی بنا رکھا تھا ۔ طارق علی احمد زبان و ادب پر عبور رکھنے والے اُردو کے ایک بڑے اچھے استاد تھے ۔ البتہ وہ چاک کو ہاتھ لگانا یا بلیک بورڈ پر چاک سے لکھنا اپنے لیے ممنوع سمجھتے تھے کہ اس طرح چاک کے ذرے اُن کے کسی حد تک گنجے سر کے بالوں یا سُرخ و سفید چہرے کی کچھ کچھ نیلی آنکھوں میں پڑ سکتے تھے۔ افتخار علی شاہ مرحوم اور مجید قمر مرحوم بطورِ وائس پرنسپل اور طارق علی احمد بطورِ پرنسپل ریٹائر ہوئے ۔ چند سال قبل طارق علی احمد بہاولپور میں اپنے مرحوم والد جو ایک صوفی بزرگ تھے کے سجادہ نشین بنے تو ہمارے ایک محترم دوست نے جن کی جناب طارق علی احمد سے کافی بے تکلفی چلی آ رہی تھی انہیں’’ پیرِ فرتوت‘‘کا لقب دیا۔ 

اب میں اپنے خصوصی کرم فرماؤں کی طرف آتا ہوں ۔ جناب منظور حسین نسیم مرحوم کا تعلق سرگودھا سے تھا ۔ وہ کرکٹ ٹیم کے انچارج اور خود بھی کرکٹ کے اچھے کھلاڑی تھے۔ انگریزی اور سوشل سٹڈیز کے مضامین پڑھایا کرتے تھے۔ اُن کی کم گوئی اور سنجیدگی پر جناب طارق علی احمد کا یہ تبصرہ بڑا بر محل تھا کہ منظور نسیم نے اپنی جہالت کو اپنی کم گوئی اور سنجیدگی میں چھپا رکھا ہے۔ منظور نسیم ایف جی سرسید سیکنڈری سکول کے دو بار پرنسپل رہے ۔ فیڈرل بورڈ اسلام آباد کے بورڈ آف گورنرز کے بھی ممبر رہے اور بطور پرنسپل ریٹائر ہوئے۔ دو تین سال قبل اُن کا انتقال ہوا۔ کیپٹن ایس ممتاز عنایت اللہ مرحوم کی منظور حسین نسیم سے گاڑھی چھنتی تھی ۔ ممتاز عنایت اللہ ڈرائنگ ٹیچر ہونے کے ساتھ سکول میں سکاؤٹ ماسٹر (سکاؤٹنگ کے انچارج) بھی تھے۔ سکاؤٹس کے ساتھ ٹرپس(Trips ) پر جانے کا سلسلہ چلتا رہتا جس سے اُن کی سکاؤٹ سٹوڈنٹس سے کچھ زیادہ ہی بے تکلفی تھی۔ بعد میں اسلام آباد ماڈل کالج میں اُن کا انتخاب ہو گیا۔ شاید اسی برس یا اس سے پچھلے برس اُن کا لاہور میں انتقال ہوا۔ جناب مسعود ملک کا تعلق میانوالی سے تھا ۔ وہ ریاضی کے بہت اچھے اُستاد تھے ۔ ویسپا سکوٹر رکھا ہوا تھا اور خوب ٹیوشن پڑھاتے ۔ مزاج تھوڑا سا شرارتی تھا اور میری طرح کے ساتھیوں کو زچ کر کے خوش ہوتے تھے ۔ سر شریف خان پابندِ صوم و صلوٰۃ شخصیت کے مالک بیالوجی اورکیمسٹری کے بڑے اچھے اُستاد تھے مسعود ملک سے اُن کی گاڑھی چھنتی تھی اور دونوں سر شریف کے گھر پر سٹوڈنٹس کو گروپس کی صورت میں ٹیوشن بھی پڑھایا کرتے تھے۔ سر مسعود ملک مرحوم بعد میں ترقی پا کر پرنسپل بنے اکتوبر 2001 ؁ء میں اُن کا انتقال ہوا تو وہ ایف جی پبلک سکول مری کے پرنسپل تھے ۔ سر شریف خان اسّی کی دہائی کے آخری برسوں میں پشاور چلے گئے ۔ وہاں کئی سالوں تک ایف جی پبلک سکول کے پرنسپل رہنے کے بعد نوے کی دہائی کے غالباً وسط میں ایف جی پبلک سکول (کینٹ پبلک سکول) محفوظ روڈ راولپنڈی کے پرنسپل بن کر پنڈی آگئے اور موجودہ صدی کے پہلے عشرے کے آخری برسوں میں بطور پرنسپل ایف جی سرسید سکول اُن کی ملازمت کا اختتام ہوا۔ آج کل وہ امریکہ میں اپنے بیٹے کے پاس ہوتے ہیں اور وہاں بدستور تعلیم و تدریس میں مصروف ہیں۔ سر اے بی خان مرحوم ہمہ صفت شخصیت کے مالک اور ڈرائنگ کے بہت اچھے اُستاد تھے۔ پی ٹی آئی بیگ صاحب بزرگ اور مہربان شخصیت کے مالک تھے اور اپنے ساتھیوں کے دُکھ درد میں بڑھ چڑھ کر شریک ہوتے۔ 

ایف جی سرسید سکول راولپنڈی کے ستر کی دہائی کے اساتذہ کا تذکرہ کچھ طویل ہو گیا ہے لیکن ابھی ستر کی دہائی کے شروع میں اور ستر کی دہائی کے نصف دوم کے سالوں میں یہاں تعینات ہونے والی بعض شخصیات کا تذکرہ باقی ہے۔ میں اس سے قبل عبدالحمید قریشی مرحوم، ملک غلام رسول مرحوم، صادق چغتائی مرحوم، ملک امیر داد مرحوم، محترم امیر ملک اور محترم قاضی ڈاکٹر محمد عیاض کا تذکرہ کر چکا ہوں۔ یہ مہربان شخصیات میرے ساتھ یا مجھ سے کچھ آگے پیچھے سرسید سکول جو اُس وقت سی بی سرسید کالج کہلاتا تھا میں تعینات ہوئیں۔ سر محبت خان نیازی ہم سے کچھ بعد میں آئے ۔وہ بفضلِ تعالیٰ ابھی تک چاق و چوبند ہیں ۔ پچھلے دنوں سرسید کالج کی گولڈن جوبلی ڈنر کی شاندار تقریب میں وہ اور سر سلطان شاہین دونوں موجود تھے ۔ محبت خان نیازی ، فزکس ، کیمسٹری اور ریاضی کے بہت اچھے اُستاد اور اپنے سابقہ سٹوڈنٹس میں پہلے کی طرح آج بھی بہت ہر دلعزیز ہیں ۔ جھنڈا چیچی میں اُن کا ڈیرہ ٹیوشن پڑھنے والے سٹوڈنٹس کا پسندیدہ ٹھکانہ ہوتا تھا اور شاید اب بھی ہے ۔ سر سلطان شاہین بھی فزکس کے اچھے اُستاد مانے جاتے تھے ۔ اپنی ہنس مُکھ شخصیت اور خوش لباسی کی بنا پر اپنے ساتھیوں میں ہی نہیں سٹوڈنٹس کے بعض حلقوں میں بھی مقبول رہے ہیں اب بھی وہ کافی فعال ہیں اور سرسیدین کے گولڈن جوبلی ڈنر کے انتظام و انصرام میں انہوں نے سرگرمی سے حصہ لیا ہے۔ سر ظہور ملک کا تعلق میانوالی سے تھا وہ بھی کیمسٹری کے بہت اچھے اُستاد تھے ۔ تاہم ستر کی دہائی کے آخری برسوں میں اُن کی سر گرمیاں کچھ پر اصرار ہو گئیں ۔ یہ جنرل ضیاء الحق کے دورِ حکومت کے ابتدائی سال تھے وہ حکمرانوں کو خوب گالیاں دیتے غالباً 1979 کی سردیوں کی بات ہے کہ سکول میں سی ایم اے سے آڈٹ پارٹی آئی ہوئی تھی اور پرنسپل سر اے بی ناشر مرحوم کے ساتھ میں اور ظہور ملک آڈٹ پارٹی سے کچھ معاملات پر گفتگو کررہے تھے کہ سر ظہور ملک کو پیغام ملا کہ اُن سے ملنے کے لیے کوئی صاحب آئے ہوئے ہیں۔ ظہور ملک پرنسپل سے اجازت لے کر اُن سے ملنے کے لیے سٹاف روم میں چلے گئے اور کچھ دیر کے بعد واپس آ کر بتایا کہ کوئی صاحب آئے ہوئے ہیں جو مجھے اپنے ساتھ لے کر جانا چاہتے ہیں مجھے اجازت دیجئے۔ اس طرح ظہور ملک رخصت لے کر چلے گئے اگلے دن ظہور ملک سکول میں نہ آئے اور نہ ہی گھر واپس پہنچے تو کچھ تشویش پیدا ہوئی ۔ ہم سٹاف ممبران کا اجلاس ہوا اور ہم نے اس معاملے کو اپنے اعلیٰ افسران کے ساتھ اُٹھانے کا فیصلہ کیا ۔ سر مسعود ملک مرحوم اور سر شریف خان اس میں پیش پیش تھے اُن کے بعض اعلیٰ افسران کے ساتھ مراسم بھی تھے ۔ ایک آدھ دن بعد انہیں پیغام ملا کہ وہ ظہور ملک کا تذکرہ چھوڑ دیں وہ اس وقت آئی ایس آئی کی تحویل میں ہیں اور ایک انتہائی اہم معاملے میں اُن سے تفتیش ہو رہی ہے۔ کچھ عرصے کے بعد یہ عقدہ کھلا کہ ظہور ملک لیبیا سازش کیس میں ملوث پائے گئے ۔ اس سازش کا مقصد جنرل ضیاء الحق کی حکومت کا تختہ اُلٹنا تھا۔اسی دوران غالباً جنوری 1981 ؁ء میں پی آئی اے کا طیارہ اغواء ہو گیا اور اغواء کی ذمہ داری ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے بیٹوں میر شاہ نواز بھٹو اور میر مرتضیٰ بھٹو جنہوں نے الاذوالفقار تنظیم قائم کر رکھی تھی نے قبول کی ۔ طیارہ پہلے کابل لیجایا گیا اور وہاں سے اُسے دمشق لے جایا گیا۔ طیارے کے مسافروں کی رہائی کے لیے دمشق میں اغواء کاروں کیساتھ معاہدہ طے پایا اور پاکستان میں زیرِ حراست 52 افراد جن کا تعلق الا ذوالفقار تنظیم سے بنتا تھا یا لیبیا سازش کیس میں ملوث گردانے جاتے تھے انہیں رہا کر کے دمشق پہنچا دیا گیا اُن میں ظہور ملک بھی شامل تھے۔ یہ لوگ جلا وطن رہنے کے بعد دسمبر 1988 میں محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت قائم ہوئی تو وطن واپس آگئے ۔ ظہور ملک بھی واپس آنے والوں میں شامل تھے اور پی اے ایف کالج اسلام آباد میں اُن کی تعیناتی عمل میں لائی گئی اور وہیں سے اس صدی کے اوائل میں وہ ریٹائر ہوئے۔ جناب ظہور ملک کا یہ تذکرہ اپنی جگہ ابھی پرنسپل جناب اے بھی ناشر مرحوم ، سر خالد نواز، جناب اظفر علی خان مرحوم ، جناب ارشد اقبال مرحوم ، جناب اختر چوہدری ، جناب نبی بخش ضیاء، جناب شاہد مرزا اور کچھ دوسرے احباب اور سرسید سکول و کالج سے فارغ التحصیل ہونے والے بعض ہونہار اور قابلِ شاگردوں کا تذکرہ باقی ہے جو انشاء اللہ آئندہ کبھی !


ای پیپر