بچوں کا ادب تخلیق کرنے والے چار روشن ستارے ۔۔۔؟
31 دسمبر 2018 2018-12-31

اظہر عباس عجب سادہ مزاج فلسفی قسم کا بندہ ہے کوئٹہ سے آمد ہوئی اور میں نے ایک تڑپ سی اس انسان میں محسوس کی جب ہماری اِس سے بالمشافہ ملاقات اِس ’’ادبی جن‘‘ کے گھرپر ہوئی ۔۔۔ 2014 ء کی بات ہے۔ وہاں بہت سے بچوں کے ادب سے وابستہ لکھاری شریک ہوئے چھوٹی موٹی گروہ بندی کے باوجود اظہر عباس کی متاثر کن شخصیت نے سب لکھنے والوں کو اِک مدت کے بعد اِک ’’پلیٹ‘‘ سوری پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔ اِس عظیم انسان کا بس چلتا تو یہ ہمیں اِک پلیٹ میں کھانا کھلاتا لیکن اِس مخلص انسان کو ڈر تھا کہ کہیں’’ جس تھالی میں کھائیں گے اُس میں چھید ہی نہ کر ڈالیں یا ایک آدھ تھالی کا بیگن اپنا منفی کردار ہی ادا نہ کر ڈالے‘‘ ۔۔۔؟ بہر حال اُس نے ہمیں ایک پلیٹ میں ہماری اوقات سے زیادہ ’’قورمہ‘‘ ڈال دیا اور ہمیں ’’کھاتا‘‘ ہوا دیکھنے لگا ۔۔۔ محظوظ ہونے لگا ۔۔۔ 

ہم اگر اِس موضوع سے ہٹ کر بات کریں تو اِس وقت پاکستان کی سیاست میں ہماری تجارت کی طرح ’’جھوٹ‘‘ کو معیوب شئے نہیں سمجھا جاتا ۔۔۔ یعنی لوگ جھوٹ بولتے ہیں پھر معنی خیز مسکراہٹ بکھیرتے ہیں اور پھر اپنی ہی کہی بات کی نفی کر ڈالتے ہیں ہنسی ہنسی میں ۔۔۔؟! (شرمندہ شرمندہ) ۔۔۔

اِن حالات میں ہم ’’کس باغ کی گاجر ہیں‘‘ ۔۔۔ ؟؟!! 

حالانکہ نہ گاجر باغ میں پیدا ہوتی ہے نہ ہی مُولی باغ میں اُگتی ہے ۔۔۔؟! لیکن پرانی ادبی ہستیوں نے یہ محاورے بنائے ہوئے ہیں ۔۔۔ نہ جانے کیوں اِن اہم باتوں کا خیال نہیں رکھا۔ ویسے شکر ہے ہمارے سینئرز یہ ہزار دو ہزار محاورے ایجاد تو کر گئے ورنہ ہم ’’فیس بک‘‘ والے دانشور نہ جانے ادب کے ساتھ کیسی کیسی بے ادبی کر ڈالتے ۔۔۔؟؟ اور محاورے ایجاد کرتے وقت مشہور سیاستدان جناب شیخ رشید آف لال حویلی اور جناب رانا ثناء اللہ سے مشاورت کرتے اور من کی مراد پاتے ۔۔۔؟

سو بات ہو رہی تھی اظہر عباس کی ۔۔۔ اِس شخص جو بچوں کے ادب سے کافی دیر سے وابستہ ہے۔اور دعویٰ اکیڈمی کی تقریب میں 1993-94 میں ہی کمال ’’بہادری‘‘ سے شریک ہوتارہا ہے ۔۔۔ جب نذیر انبالوی جیسے ’’ بزرگ لکھاری‘‘ ہی وہاں نوجوانون ادیب کے طور پر لیکچر دیا کرتے تھے (یہ اِک الگ کہانی ہے یہ اِک الگ دلچسپ قصہ ہے جو الگ سے بیان ہوگا ورنہ نہ تو آپ انجوائے کریں گے نہ ہی ہمارے پیارے نذیر انبالوی کو ’’ مزہ‘‘ آئے گا ۔۔۔ ؟؟) ندیم اختر، عبداللہ نظامی، محمد ناصر زیدی، عبدالصمد مظفر اور وسیم کھوکھر بھی اس کشتی کے سوار تھے ۔۔۔

گویا باتوں باتوں میں آپ نے اظہر عباس جیسے بچوں کے لکھاری کی عمر کا ہی اندازہ لگالیا ۔۔۔ لیکن یاد رکھیں جو عمر چھپانے میں ماہر ہوتے ہیں وہ ’’جُل‘‘ دے جاتے ہیں اور لوگ سوچتے ہی رہ جاتے ہیں ۔۔۔؟؟!! جیسے اس وقت ملکی سیاست کس سمت چل رہی ہے ۔۔۔کوئی بتائے تو مانوں ۔۔۔؟!!!

2014ء کے بعد پھر دو تین سال کے وقفے سے ہماری ملاقات اظہر عباس سے ہوئی لیکن ہمیں آج 2018ء کے آخر میں پتہ چلا کہ یہ شخص چالاک نہیں ہوشیار نہیں یہ جو ہماری دوستی کے درمیان اتنا زیادہ وقفہ (نہ چاہتے ہوئے ہی آ گیا) اِس کی وجہ اِس اظہر عباس کا شرمیلا پن تھا ۔۔۔ اور ہمارا شکی مزاج ہونا ۔۔۔ ؟؟!!

کچھ لوگ شرمیلے ہوتے ہیں کچھ شکی مزاج اور کچھ شاطر لیکن اِن ’’خوبیوں‘‘ کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ اِن تینوں ’’صفات‘‘ کو منفی انداز میں بھی لیا جاسکتا ہے اور ہلکی ہلکی شہبات پہلو میں بھی دیکھا جا سکتا ہے ۔۔۔؟!! 

چند سال پہلے ہمیں جناب عطاء الحق قاسمی صاحب کی طرف سے دعوت ملی کہ آج سہ پہر آپ واپڈا ہاؤس تشریف لائیں ۔۔۔؟!! طبیعت میں کچھ کھلبلی سی مچ گئی ۔۔۔ واپڈا ہاؤس لاہور اور انار کلی بازار یہ دیکھنے کی خواہش ہر نوجوان کو ہوتی ہے ۔۔۔ جو لاہور سے باہر ہیں وہ (خاص طور پر ’’پینڈ‘‘ کا رہنے والا) اور جو کہ لاہور یاترا کو آئے اُس کا دل چاہے گا کہ مال روڈ آئے ۔۔۔ اور واپڈا ہاؤس کا نظارہ ضرور کرے اور ’’پینڈ‘‘ کا رہنے والا لاہورآئے تو سوچے گا کہ انار کلی جانے کا موقع ملے تو مزہ آجائے گا ۔۔۔؟!!

’’لو جناب‘‘ ہم نے شام تک خود کو کیسے سنبھالا یہ مت پوچھئے ۔۔۔ ہم نے کیسے کیسے خواب دیکھے ۔۔۔ کیسی کیسی خوابوں کی تعمیر ۔۔۔ مت سوچیں نہ پوچھیں ۔۔۔ اب دل میں خواہش ہے کہ ۔۔۔ کاش وہ تقریب ہو جائے جس کے لئے ہمیں ’’واپڈا ہاؤس‘‘ لاہور کی پر شکوہ عمارت میں جانے کا عندیہ دیا گیا ہو ۔۔۔؟!! ہم سوچ رہے ہیں کہ دفتری کام یا دوسرے معاملات کے سلسلہ میں تو ہم چار بار واپڈا ہاؤس ۔۔۔ ؟!! ۔۔۔ پھر خوابوں میں گم ۔۔۔ خیالوں میں گم ۔۔۔؟!!

لوجی ۔۔۔ شام ہو گئی ۔۔۔ ہم VIP انداز میں واپڈا ہاؤس کی دلکش اور بلند و بالا بلڈنگ داخل ہوئے ۔۔۔ باوردی عملہ ہمارے آگے پیچھے تھا ۔۔۔ عطاء صاحب نے ہمیں لفٹ کی طرف جانے کا حکم دیا ۔۔۔ یہ عجب منظر تھا ۔۔۔ ہم جونیئر لکھاری پہلے لفٹ میں چڑھے اور جب ہم واپڈا ہاؤس کی چھت پر پہنچے تو VIP قسم کی تقریب کا انتظام تھا۔ اِک جاہ وجلال والی تقریب ہم چھوٹے بچے کی طرح واپڈا ہاؤس کی آسمان سے باتیں کرتی بلڈنگ سے پورے لاہور کا نظارہ کر رہے تھے ۔۔۔ حافظ عزیز احمد نے مجھے بتایا وہ دیکھو سامنے چڑیا گھر ہے جس میں شہر بلی لگ رہا ہے۔’’ اتنی بلندی سے شہر بلی جیسا ہی لگے گا ۔۔۔ ؟؟! میں نے وضاحت کی اور محبت سے پوچھا ۔۔’’حافظ عزیز صاحب یہ آپ کی تقریب سے پہلے چڑیا گھر پر نظر کیوں پڑی‘‘ ۔۔۔ جائیں میں آپ سے ناراض ہوں‘‘ ۔۔۔ اُنہوں نے غصے سے گھورتے ہوئے کہا ’’ارے یہ کیا ۔۔۔ چیئرمین واپڈا جناب ظفر صاحب کے ساتھ بہت سے مہمان واپڈا ہاؤس کی چھت پر نمودار ہوئے ۔۔۔؟!

سب سے پہلے آگے افسانے کی دنیا کے بادشاہ پاکستان کے نامور صحافی اور ادیب جناب اانتظار حسین کے ۔۔۔ پھر جناب منو بھائی جو اپنی سچائی، اپنے بے لاگ تبصروں اور جرأت مندانہ تحریروں کے باعث عوامی لکھاری کے طور پر جانے جاتے ہیں ۔۔۔ ہمارے لئے یہ خوشی اور عزت کا مقام تھا عطاء صاحب نہایت ادب کے ساتھ ہاتھ باندھے اِن سینئر اور بزرگ لکھاریوں کے ساتھ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے انھیں نہایت عقیدت و محبت سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔

یہی وجہ تھی اظہر عباس بھائی جس کے باعث میں عطاء الحق قاسمی کا دل سے احترام کرتا ہوں کیونکہ وہ خود ہی ستر سال سے زیادہ کے ہیں لیکن میں نے انہیں ہمیشہ تقریب میں جناب انتظار حسین، جناب عبداللہ حسین، جناب مشتاق یوسفی، جناب منو بھائی، محترمہ بانو قدوسیہ اور ایسے ہی سینئر لکھاریوں کی عزت کرتے دیکھا ۔۔۔ انھیں ہمیشہ ان بڑے لکھاریوں کے آگے سر جھکائے دیکھا۔

مجھے ایم عادل گلزار نے ایک دن جب پوچھا کی تم عطاء صاحب کا اِس قدر احترام کیوں کرتے ہو ۔۔۔؟!! تو میں نے بتایا کہ یہ شخص اپنے سے بڑے علم والے کو ہمیشہ عزت و احترام اور محبت سے دیکھتا ہے ۔۔۔ سر جھکا کے ملتا ہے۔ آج E لائبریری قذافی اسٹیڈیم میں اظہر عباس نے کاروانِ ادب اطفال کے تحت ’’چہار درویش‘‘ کی تقریب میں بچوں کے سینئر لکھاریوں کو عزت سے، احترام سے، محبت سے اور عقیدت سے بلوایا تو مجھے عطاء صاحب کا عمل یاد آ گیا جب چار آسمان ادب کے چمکتے ستاروں کو انہوں نے محبت و عقیدت پیش کیا۔’’ چار درویش‘‘ میں آج جناب شریف شیوا، جناب اُفق دہلوی جناب امتیاز عارف اور جناب امان اللہ نےئر شوکت شامل تھے جنہوں نے پچاس سال تک بچوں کا ادب تخلیق کیا گویا ساری زندگی اسی خدمت میں بسر کی ۔۔۔ 

ہیں نا یہ بچوں کے چار ادیب عزت و تکریم کے قابل اور ہیں نہ اظہر عباس کا یہ عمل لائق تحسین کہ جس نے ان بزرگ لکھاریوں کو سب سے اہم مسند پر ہماری موجودگی میں بٹھایا ۔۔۔ !!!


ای پیپر