31 دسمبر 2018 2018-12-31

ایک مشہور قول ہے کہ جس ملک میں گراﺅنڈز ہوں گی انکے ہسپتال ویران ہوں گے۔آج ہم دیکھتے ہیں کہ پلے گراﺅنڈز کم سے کم ہوتے جا رہے ہیں۔جہاں بچوں کی ذہنی گروتھ ضروری ہے وہیں جسمانی نشوونما بھی اہمیت کی حامل ہے۔

صحت مند بچہ غیر محسوس طریقے سے بہت سارے چھوٹے چھوٹے کام خود کر لیتا ہے اسکے والدین عادی ہوتے ہیں۔ وہ اس مشکل کا اندازہ نہیں کر سکتے جس سے Delayed (یعنی اپنی عمر سے پیچھے رہ جانے والے ) کے والدین گزرتے ہیں۔ جیسے اگر ہماری انگلی کو کٹ لگ جائے تو دن میں بیس بار اسی انگلی سے کچھ پکڑنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور صحیح حالت میںہم کبھی یہ نہیں سوچتے کہ یہ انگلی اتنی استعمال ہوتی ہے گھر میں سب بچے نارمل ہوں تو کبھی احساس نہیں ہو سکتا کہ ذہنی بیمار یا اپنی عمر سے پیچھے رہ جانے والے بچے کے ساتھ وقت گزارنا کس قدر مشکل کام ہے صحت مند اور نارمل بچہ اکثر کاموں میں معاونت بھی کر دیتا ہے کہ یہ پکڑا دو، وہ کام کرلو، والدین کواس معمولی معاونت پر بھی لاشعوری سکون اور خوشی ملتی ہے۔ اسکے بر عکس اپنی عمر سے پیچھے رہ جانے والا بچہ چھوٹے چھوٹے کاموں کےلئے بھی دوسروں کا محتاج ہوتا ہے،کپڑے پہننے یا اتارنے ”جرابیں پہننے‘ زپ یا بٹن بند کرنے‘ سکول جانے کیلئے بستہ تیار کرنے اور گلی میں کھیلنے یا تسمے باندھنے کیلئے اسے کسی دوسرے کی مدد چاہیئے ہوتی ہے۔ غرض یہ کہ صبح دن نکلنے کے کاموں سے لے کر رات سونے تک ان گنت کام ایسے ہوتے ہیں جن کے لیئے وہ دوسروں کے محتاج ہوتے ہیں ذہنی مریض بچے کے لئے قدرت نے ماں باپ کے دل میں خاص ہمدردی اور شفقت ڈالی ہوتی ہے اور ماں باپ اس پر مہربان رہتے ہیںیہ تو ایک مثال تھی ۔

محبت اور احساس ایک فطری جذبہ ہے جو بیمار’ بد صورت’ پاگل ’کمزور’ ہر بچے کیلئے دل میں ہوتا ہے لیکن ذمہ داری کا بوجھ ایک الگ چیز ہے۔ مسلسل بوجھ انسان میں تھکن اور چڑچڑا پن پیدا کر دیتا ہے۔ ایک بہت بڑا مسئلہ ارد گرد کے لوگوں کے ساتھ موازنہ اور مقابلہ ہے۔ اچھے خاصے با شعور اور پڑھے لکھے لوگ بھی اپنے بچے کا دوسرے کے بچے کے ساتھ موازنہ کر کے پریشان ہوتے رہتے ہیں۔ جہاں کسی کے بڑے گھر اور مہنگی کار سے لوگ اتنی کمتری محسوس نہیں کرتے جتنی اپنے بچے کے دوسرے کے بچے سے پیچھے رہ جانے کی ٹینشن لیتے ہیں اگرچہ اکثر والدین کے اپنے تو کوئی مقاصد اور نظریات نہیں ہوتے جو کہ ہونے چاہئیں لیکن معاشرے میں لگی دوڑکی وجہ سے خاندان اور محلے میں جن بچوں کو لائق سمجھتے ہیں اپنے بچوں کو انہی کے سکول’انہی کی اکیڈمی اور انہی کی فیلڈ منتخب کروا دیتے ہیں اپنے بچے کی ذہنی صلاحیت اور رجحان کو سمجھے بغیر ’ اس طرح یہ بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ ماں چاہتی ہے کہ بچہ ڈاکٹر بنے جبکہ باپ چاہتا ہے کہ بچہ انجینئربنے اور بچہ دونوں کے دباﺅ کی وجہ سے یا تو کچھ بھی نہیں بن پاتا۔ اور اگر ڈاکٹر یا انجینئر بن بھی جائے تو وہ مقابلے کا امتحان پاس کرکے سول سروسز میں چلا جاتا ہے جو کہ بالکل مختلف فیلڈ ہے ۔

ایک اور معاشرتی بیماری احساس برتری کا شکار ہونا ہے جو دراصل احساس کمتری ہے ’ یہ ایک خطرناک اور جاہلانہ رجحان ہے جو ہمارے معاشرے میں پنپ رہا ہے کہ ایسی گفتگو کی جائے جس سے دوسروں کو نیچا ’ جاہل اور اپنے سے کم عقل ظاہر کیا جائے ’ جو والدین موازنہ کے چکر میں نہیں پڑتے انکو اس آلودہ سوچ کے حامل لوگ اپنے الفاظ کے جال میں اس طرح پھنساتے ہیں کہ انکی زندگی بے سکون ہوجائے ’ اس طرح کمپلیکس کے مارے لوگ اپنی ذہنی تسکین کا سامان کرتے ہیں ۔ اس طرح معاشرے میں سادہ اور روایتی لوگ بھی کبھی کبھی مجرم نہ ہوتے ہوئے بھی خود کو مجرم سمجھنے لگتے ہیں ۔ معاشرے میں ایسے بہت سے کردار موجود ہیں جو اپنی محرومیاں الفاظ کا جادو جگا کر دوسروں میں جگاتے ہیں۔پہلے ایسا صرف عورتیں کرتی تھیں لیکن اب مرد حضرات بھی کسی نہ کسی طرح اپنی کامیابیوںکا ذکر کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔

والدین کے سامنے ایک بہت بڑا محاذیہ ہے کہ اپنے بچوں کو جذباتی حملہ آوروں سے کیسے بچایا جائے۔خاص کر اس میڈیا کے دور میںجب اشتہار بازی اور ٹی وی شوزمیں ایسی خواہشات کوجان بوجھ کر ہوا دی جاتی ہے جن کا پورا کرنابہت مشکل ہو جاتا ہے لیکن ارد گرد کے چند لوگ اشیاءتعیش صرف دوسروں کوکمتری میں مبتلا کرنے کے لئے لیتے ہیں۔یہ مرض اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ بچے فیشن سے لے کرسیگریٹ اور نشہ صرف دوسروں کو راغب کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اس وقت سب سے بڑی جنگ میڈیا سے ہونی چاہیئے جو بہت پلاننگ سے انسانیت کو روح سے جسم تک محدود کر کے شیطان کے ازلی مشن کی تکمیل کر رہا ہے۔سکول کالج اور یونیورسٹیزمیں ایسا صحتمندانہ تعلیمی ماحول ہونا چاہیئے کہ نوجوان فیشن اور بناوٹی طرز زندگی کو اپنے اعصاب پر اتنا سوار نہ کریں کہ انکی گفتگوسادہ ماحول کو آلودہ اور جس زدہ کر دے’ یاد رہے کہ دکھاوے کی گفتگو اطراف میں عار ضی لیکن گفتگو کرنے والے کے اپنے اندر مستقل گھٹن پیدا کرتی ہے۔

جس سے اجتناب برتنے کی ضرورت ہے ۔کیونکہ تعلیم اور تربیت دو مختلف چیزیں ہیں اور دونوں کے بغیر شخصیت مکمل نہیں ہوتی اور تربیت ماں کی گود سے شروع ہوتی ہے ایک پڑھا لکھا شخص جاہل ہو سکتا ہے اور ان پڑھ آدمی عقلمند ہو سکتا ہے ۔

ذرا سوچیئے اور موازنہ کیجیئے۔اگر زندگی میں سکون چاہتے ہیں تو معاشرے میں لگی اس دوڑ میں لگنے سے گریز کریں۔اس سوچ سے عوام کو بچانے کیلئے ایک لیڈر کی ضرورت ہے سیاست دان کی نہیں۔


ای پیپر