مائنس اپوزیشن فارمولا
31 دسمبر 2018 2018-12-31

ملکی خزانہ لوٹنے والوں کا بے رحمانہ احتساب ہر محب وطن شہری کا مطالبہ ہے۔ کرپشن وہ ناسور ہے جس نے ملک کی جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں۔ ملک کو بچانے اور اسے دوبارہ پاﺅں پر کھڑا کرنے کے لئے کرپٹ ٹولے کا صفایا ضروری ہے، چاہے سیاستدان ہوں یا بیوروکریٹس، وکیل ہوں یا جج، جرنیل ہوںیا تاجر، استاد ہوں یا صحافی۔ جس نے بھی ملک کو نقصان پہنچایا بلا تفریق حساب لیا جانا چاہئے۔ عدلیہ، نیب یا کوئی دیگر ادارہ احتساب کے عمل میں غیرجانبداری اور شفافیت برقرار رکھے گا تو قوم اس کے پیچھے کھڑی ہو گی لیکن اگر اس نے ڈنڈی ماری، کسی ایک طبقے، گروہ یا جماعت کو کسی دوسرے کی خوشنودی کیلئے نشانہ بنایا تو یہی قوم اس کی جواب طلبی بھی ضرور کرے گی۔ آج کل ملک میں احتساب پر بڑا زور ہے۔ کیا یہ احتساب غیر جانبدار اور شفاف ہے۔ اس سوال پر قوم تقسیم ہے۔ یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں احتساب کا ڈنڈا ہمیشہ سیاسی مخالفین کے سر کچلنے کے لئے چلایا گیا۔ ایک آمرجنرل پرویز مشرف نے نیب کا ادارہ بھی اسی مقصد کیلئے بنایا۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی نے نیب کو اس خوش فہمی میں ختم نہ کیا کہ یہ صرف ان کے مخالفین کےخلاف ہی استعمال ہو گا۔ نتیجتاً آج دونوں جماعتیں اس کے شکنجے میں بری طرح پھنس چکی ہیں۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ عمران خان نے بھی اگر وہی غلطی کی جو میاں نوازشریف اور آصف زرداری نے کی تھی تو تاریخ پھر خود کو دہرائے گی۔ آج نئے پاکستان میں بھی پرانے پاکستان کی طرح احتساب کے نام پر اپوزیشن کو دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا ہے۔ نیب نے جو عینک لگا رکھی ہے اس سے حزب اختلاف کا ہر رہنما کرپٹ اور حکومتی صفوں میں موجود سب لوگ دودھ کے دھلے نظر آتے ہیں۔ جب سے عمران خان کی حکومت آئی ہے نیب نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے کئی اہم رہنماﺅں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں لیکن پی ٹی آئی رہنماﺅں کےخلاف انکوائریوں کے باوجود گرفتاریوںسے گریز کیا جا رہا ہے۔ انگلیاں تو اٹھیں گی۔ چیئرمین نیب کے ہر دوسرے دن بلاامتیاز احتساب کے دعوے اپنی جگہ لیکن نیب کی کارروائیوں سے ٹارگٹڈ احتساب کا تاثر دن بدن بڑھ رہا ہے۔ رہی سہی کسر وزراءاپنی بیان بازی سے پوری کر دیتے ہیں۔ ایک طرف وزراءتسلسل کے ساتھ یہ کہہ رہے ہیں حکومت کا حزب اختلاف کی قیادت کے خلاف کارروائیوں سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کےخلاف مقدمات، ریفرنسز ہم نے نہیں بنائے، یہ پہلے سے ہیں۔ دوسری طرف اپوزیشن کے رہنماﺅں کی ہر گرفتاری، ہر سزا کا کریڈٹ لینا بھی فرض عین سمجھتے ہیں جس سے احتساب کا عمل سیاسی بلکہ مشکوک ہو جاتا ہے۔ حکومت کا بیانیہ ہے چوروں، ڈاکوﺅں کو نہیں چھوڑیں گے۔ احتساب کا عمل رکے گا نہ کسی کو این آر او دیں گے لیکن جب ان سے پوچھا جاتا ہے۔ بقول آپ کے، احتساب آپ نہیں بلکہ نیب اور عدلیہ کر رہے ہیں اور وہ اپنے کام میں آزاد ہیں۔ حکومت ان کے کام میں مداخلت نہیں کر رہی۔ اگر ایسا ہی ہے تو احتساب کا عمل روکنے یا جاری رکھنے کا فیصلہ حکومت نہیں اداروں نے کرنا ہے۔ اپوزیشن رہنماﺅں کے احتساب میں حکومت کا کردار ہی نہیں تو وہ این آر او کیسے دے سکتی ہے۔ اگر حکومت کے پاس اختیار ہی نہیں تو میڈیا میں بیان بازی کا کیا مقصد، حکومت کو قول وفعل کا تضاد ختم کرنا ہو گا۔

ہمارے ملک میں اقتدار کی غلام گردشوں اور سیاسی ایوانوں میں مختلف تھیوریز اور فارمولے بھی چلتے رہتے ہیں جنہیں عملی جامہ پہنانے کے لئے احتساب کا فارمولا استعمال کیا جاتا ہے۔ گزشتہ ادوار میں مائنس ون اور مائنس ٹو فارمولے بہت سنے لیکن مائنس اپوزیشن فارمولا پہلی بار دیکھنے کو مل رہا ہے۔ پوری اپوزیشن کو مائنس کر کے حکومت کے لئے میدان صاف کرنے کی سوچ سمجھ سے بالاتر ہے۔ کیا حقیقی اپوزیشن کے بغیر جو سیٹ اپ ہو گا اسے جمہوریت کہا جا سکے گا؟ اپوزیشن کے بغیر جمہوریت کا تصور بے معنی ہو گا۔

............

جنوبی پنجاب صوبے کا قیام پی ٹی آئی کے منشور کا اہم نکتہ تھا۔ عام انتخابات سے قبل جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بھی بنا جو بعد میں پی ٹی آئی میں شامل ہو گیا۔ پی ٹی آئی کی حکومت بننے کے بعد پہلے 100دنوں میں جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کہیں نظر آیا نہ اس حوالے سے کوئی ٹھوس پیش رفت ہوئی۔ ایسا محسوس ہونے لگا کہ عمران خان حکومت کی اس معاملے میں دلچسپی کم ہو رہی ہے۔اس کی تکنیکی وجہ یہ سامنے آئی کہ جنوبی پنجاب صوبہ بننے سے پنجاب میں تحریک انصاف حکومت سے محروم ہو جائے گی۔ وسطی پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی اکثریت ہے ، حکومت بھی اسی کی بنے گی۔ اس وجہ سے پی ٹی آئی نے جنوبی پنجاب صوبے کے معاملہ پر یہ کہہ کر ٹال مٹول کی کوشش کی کہ ہمارے پاس دو تہائی اکثریت نہیں ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے پچھلے اجلاس میں جنوبی پنجاب صوبے پر بل لانے کا اعلان کر کے پی ٹی آئی کی حکمت عملی ناکام بنا دی۔ شہباز شریف نے اس حوالے سے قانون سازی کیلئے مکمل تعاون کی بھی یقین دہانی کرا کر حکومت کو اس معاملہ پر فوری کارروائی پر مجبورکردیا۔ شہباز شریف کی تقریر کے اگلے روز وزیراعلیٰ پنجاب نے جنوبی پنجاب کے لئے الگ سیکرٹریٹ، الگ چیف سیکرٹری اور آئی جی کا اعلان کر دیا۔ بہاولپور میں پنجاب کابینہ کا اجلاس بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ جنوبی پنجاب میں ہونے والے اس اجلاس میں جنوبی پنجاب صوبے پرکوئی بات نہیں کی گئی۔


ای پیپر