کہاں کہاں لیے پھرتی ہے جستجو رسول(8)
31 دسمبر 2018 2018-12-31

جیسا کہ آپ لوگ بھی جانتے ہیں، کہ اللہ تعالیٰ نے جب سے یہ دنیا تخلیق فرمائی ہے ، اور جب سے انسان اس میں بسنے اور بڑھنے شروع ہوئے ہیں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان کی رہنمائی کے لیے ، جو سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع کیا، اس کا اختتام خاتم الانبیاءحضرت محمدکی بعثت سے ہوا۔

میں نے جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں عرض کیا تھا کہ اُنہوں نے اپنے خالق ومالک سے کیا درخواست کی تھی، اس کی تفصیل بیان کرنے سے پہلے سورة المائدہ کی آیت نمبر 118میں ہے ، کہ میں نے یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا ”اُس کے سوا کچھ نہیں کہا، جس کا آپ نے حکم دیا تھا، یہ کہ اللہ کی بندگی کرو، جو میرا بھی رب ہے ، تمہارا بھی رب ہے ، میں اس وقت تک ان کا نگران تھا، جب تک ان کے درمیان تھا جب آپ نے مجھے واپس بلالیا، تو آپ ان پر نگران تھے، اور آپ تو ساری ہی چیزوں پر نگران ہیں، اب اگر آپ اُنہیں سزادیں، تو آپ کے بندے ہیں، اور اگر آپ معاف فرما دیں، تو آپ غالب ، اور دانا ہیں۔

قارئین ، اس حوالے سے ایک خاص بات جو قابل ذکر ہے ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی زندگی میں کبھی بھی اپنے پیروکاروں کا ”مسیحی“ یا عیسائی نام نہیں رکھا تھا کیونکہ وہ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان سے پہلے جو بھی انبیاءتشریف لائے ان کے دین کی تبلیغ کرتے رہے، حتیٰ کہ گوتم بدھ بھی اللہ ہی کے لیے آئے یہودی علماءتو چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں کو گمراہ فرقہ کہتے تھے، اب موجودہ عیسائی، اور مسیحی جو ہیں، اس گروہ کا موجودہ نام (CHRISTIAN)کرسچیئن یا مسیحی پہلی دفعہ 43ءیا 44ءمیں انطاکیہ کے مشرک باشندوں نے رکھاتھا اوائل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں نے اس نام پہ اعتراض کیا تھا، مگر بعد میں اس کے لیڈروں نے اس پہ غور کیا، اور یہ سوچا کہ اگر وہ ہمیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ منسوب کرتے ہیں، تو پھر ہمیں شرمانے کی کیا ضرورت ہے ۔

قرآن پاک میں بھی کبھی مسیح کے ماننے والوں کے لیے مسیحی کا نام نہیں لیا گیا بلکہ قرآن مجید میں تو ان کو یاد کرایا گیا ہے ، کہ دراصل تم تو وہ ہو کہ جن کو حضرت عیسیٰ ابن مریم نے پکارا تھا، کون ہے جو اللہ کی راہ میں میری مدد کرے اور انہوں نے جواب دیا تھا، کہ ہم اللہ کی راہ میں مددگار ہیں۔ قرآن شریف میں بتایا گیا ہے کہ بنیادی اور ابتدائی حقیقتوں کے مطابق تو یہ لوگ نصاریٰ یا انصارہیں، لیکن عیسائی مشنری اس یاددہانی پر قرآن مجید کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے الٹا شکایت پہ اُتر آتے ہیں شاید اس لیے ، بلکہ یقیناً اس لیے کہ اگر قرآن شریف کی یہ بات مان لیں تو پھر اُنہیں حضرت بی بی مریم ؓ، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق بھی احکامات الٰہی ماننے پڑیں گے۔

قارئین کرام، نبوت کا جو آغاز، جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا، حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوکر جب ہمارے جان، مال اور اولاد سے پیارے حضرت محمد مصطفیٰ تک پہنچا تو کم وبیش دس ہزار سال کا فاصلہ ہے ، جو نجانے اللہ تعالیٰ کے آسمانی وقت وساعتوں پر کتنا بنتا ہے ، میرے خیال میں تو وہ نہایت مختصر ساوقت ہے ، کیونکہ ہمارے پچاس ہزار سال تو وہاں کے شاید چند مہینے بنتے ہوں گے، یا شاید ایک دن بنتا ہے کیونکہ قیامت بھی پچاس ہزار سال کی ہوگی۔ چونکہ آج کے دور میں نہیں خاصے عرصے سے فرنگی سے مراد انگریز لیا جاتا ہے گو اس حوالے سے کالی قوموں میں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے خاصی تعداد میں موجود ہیں، مگر اس معاملے میں میری فہم اور سوچ غلط نہ ہو، تو اگر آپ مجھے اجازت دیں، تو حضرت علامہ اقبالؒ کے اس شعر میں ان کی ذہنیت، سوچ اور فکر کی استعداد واڑان نظر آتی ہے ، کہ

فساد کا ہے ، فرنگی معاشرت میں ظہور

کہ مرد سادہ ہے بیچارہ زن شناس نہیں

اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ فرنگیوں کو اگر ان کی عورتیں کلبوں اور سمندر کے کنارے پہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات کے بالکل برعکس پہنچاآئی ہیں، تو پھرصاف ظاہر ہے ، کہ ان کی اپنی سوچ وفکر دم توڑ گئی ہے ، آپ نے اکثر دیکھا ہوگا، کہ اپنا مذہب تبدیل کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا مذہب عیسائیت ہے ، اسی لیے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بقول قرآن پاک اللہ سے یہی گزارش کی، کہ اے اللہ، اگر آپ اُنہیں سزادیں، تو آپ کے بندے ہیں، اور اگر آپ اُنہیں معاف فرما دیں، تو آپ غالب، اور دانا ہیں۔

قارئین، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک دفعہ اللہ تعالیٰ سے سوال کیا، کہ اے اللہ آپ نے مجھے (موسیٰ کلیم اللہ )بنانے کا شرف کیسے عطا فرمایا ، میری کس بات یا عمل کی وجہ سے مجھے یہ اعزاز بخشا گیا، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، کہ جب آپ بکریاں چرایا کرتے تھے، واضح رہے کہ حضرت موسیٰ ؑ تقریباً دس سال تک ایک معاہدے کے تحت حضرت شعیب کی بکریاں چراتے رہے، اور وہیں ان کی بیٹی سے ان کی شادی بھی ہوئی تھی، اللہ تعالیٰ نے بتایا، کہ موسیٰ، تم ایک دفعہ جب لوگوں کی بکریاں تھوڑے سے معاوضے پہ چرایا کرتے تھے، بکری کا ایک نٹ کھٹ اور شرارتی بچہ اپنے گلے کو چھوڑ کر دوسری سمت میں بھاگنے لگا اور تم دوپہر تک اس کے پیچھے بھاگ بھاگ کر ہلکان ہوگئے، صبح سے اس کا پیچھا کرتے کرتے آخر کار جب تم نے اسے پکڑ لیا، تو بجائے اس کے کہ تم اس پر غصہ کرتے، تم نے اسے پکڑ کر اپنے گلے سے لگایا، اور اسے چومنا شروع کردیا، بس تمہارا یہ عمل مجھے اس قدر بھایا، کہ میں نے خوش ہوکر تمہیں موسیٰ کلیم اللہ بنادیا، اور خود سے کلام (بات) کرنے کی اجازت دے دی ۔

قارئین اب مجھے بالکل نہیں پتہ، کہ تحریک انصاف والوں کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی یہ بات پسند آئے گی ، کہ نہیں، کہ انہوں نے میمنے، کو سزا کیوں نہیں دی، اگر موجودہ دور میں یہ واقعہ ہوجاتا، تو جے آئی ٹی، ضرور بیٹھتی اور اس کے سربراہ شیخ رشید کے حواری، آئی جی ریلوے ہوتے ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ، خود ہماری معافیاں قبول کرنے والا معاف کردینے والا اور دوسروں کو معاف کردینے والوں کو پسند کرتا ہے ۔

قارئین ، دنیا میں کوئی ایسا پیغمبر نہیں آیا، جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں وہ شاید اس سلسلے کہ انسانوں کی طرح بکریوں میں بھی مختلف مزاج کی بکریاں پائی جاتی ہیں اور ان کی تربیت ،ان کی اصلاح، بھی ویسے ہی کی جاتی ہے ، ہمارے رسول پاک محمد مصطفیٰ کی جستجو تک تو ازل سے ابدتک اُمت کے اولیاء، انبیائ، اور مسلمان اسی طرح عشق نبی میں صاحب تاخ ونگیں سمیت، ادنیٰ غلام اور بے نام، بھی شان کریمی سے اپنے انفعال کے قطروں سے نام آور ہوجاتے ہیں۔ (جاری ہے )


ای پیپر