کوئی پوچھنے والا ہے نہ جواب دینے والا
31 اگست 2019 2019-08-31

خارجہ پالیسی کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار محض اصولی مؤقف کے پرچار یا مظلومیت کی دہائیاں دینے پر نہیں بلکہ ایک ملک کے اندر پائے جانے والے سیاسی استحکام اور خود کفالت پر مبنی پائیدار معاشی ترقی پر ہوتا ہے … یہ وہ اندرونی طاقت ہے جس کی بنا پر بیرونی دنیا میں آپ کی آواز سنی جاتی ہے اور اسے پذیرائی حاصل ہوتی ہے … صرف زور خطابت سے کام نہیں چلتا … پاکستان خارجہ پالیسی کے میدان میں اس وقت بھارت کے مقابلے میں سخت قسم کی سفارتی تنہائی کا شکار ہے اور نتائج اس کے مظلوم و مقہور کشمیری عوام بھگت رہے ہیں… نہ صرف قابض فوج کے ہاتھوں ریاست جموں و کشمیر کے ڈیڑھ کروڑ سے زائد مسلمان اکثریت والی آبادی کی زندگیاں جہنم زار میں تبدیل ہو چکی ہیں بلکہ تنازع کشمیر پر ہمارا اور کشمیری عوام کا اصولی اور جاندار مؤقف بھی آج کی دنیا میں ماسوائے ایک دو کسی دارالحکومت میں شنوائی حاصل نہیں کر پا رہا، وجہ اس کی ظاہر و باہر ہے … ملک ہمارا اور اس کے عوام کئی دہائیوں سے سیاسی عدم استحکام کا شکار چلے آ رہے ہیں… آئین مملکت کو یا اکھاڑ کر دور پھینک دیا جاتا ہے یا اس کی حیثیت کاغذ کے چیتھڑے سے زیادہ نہیں رہنے دی جاتی… نتیجے کے طور پر کوئی حکومت اپنی مدت پوری نہیں کر پاتی اور دنیا کی نظروں میں اس کی ساکھ نہیں قائم ہوتی… 21 توپوں کی سلامی انہیں ملتی ہے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے پاکستان اقتدار کے اصل مالک ہیں اور انہی کے ذریعے کام نکالا جا سکتا ہے … دوسری جانب معیشت کا پائیدار ہونا اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر ترقی کی منازل طے کرنا تو دور کی بات ہے ، ہمارے حکمران کشکول لیے ملک ملک پھرتے ہیں… اس عالم میں بیرونی حکومتیں اپنے وقتی مفادات کی خاطر ہماری جھولیوں میں امداد یا قرضے کی خیرات ڈالیں گی یا بھارت جیسے مستحکم آئینی سیاسی نظام کے حامل اور مضبوط معیشت کے مالک ملک جس کی سیاست اور معیشت دونوں سے ان کے مفادات جڑے ہوئے ہیں کو نظر انداز کر کے ہمارے اصولی مؤقف پر کان دھریں گی… اس وقت مسئلہ کشمیر پر اپنا مؤقف منوانے کے لیے ہمارے پاس کوئی سفارتی آپشن باقی نہیں رہا… سلامتی کونسل کا بند کمرے میں ایک اجلاس ہوا وہ لاحاصل رہا… امریکی صدر نے افغانستان میں اپنا الو سیدھا کرنے کی خاطر تنازع کشمیر پر ثالثی کا جھانسہ دیا تھا… وہ کھوکھلا ثابت ہوا… وزیراعظم عمران خان نے اپنے عوام کو تنازع بین الاقوامی عدالت انصاف میں لے جانے کا مژدہ سنایا… جلد اوقات سامنے آ گئی… اسے فریق ثانی کی مرضی کے بغیر وہاں زیر بحث نہیں لایا جا سکتا… خان بہادر اس معمولی سی حقیقت سے لاعلم تھے یا عوام کو فریب میں مبتلا رکھنا چاہتے تھے… اس کے بعد جنرل اسمبلی کا اجلاس رہ جاتا ہے جہاں 27 ستمبر کو موصوف قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک پرزور تقریر کریں گے… دنیا بھر سے آئے ہوئے حکومتی نمائندوں کو بھارت کے غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات نیز اس کی جانب سے وادی کی عوام پر ڈھائے جانے والے بے پناہ مظالم سے آگاہ کریںگے… لیکن یہ کام پاکستان کا کوئی بھی سربراۂ مملکت یا حکومت پہلی مرتبہ نہیں کرے گا… نیو یارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر کے اندر جنرل اسمبلی کا اجلاس ہر سال کے موسم خزاں میں ہوتا ہے … دنیا کے ہر ملک کا ریاستی یا حکومتی سربراہ وہاں پہنچ کر تازہ ترین حالات کے تناظر میں اپنا مؤقف بیان کرتا ہے … گزشتہ 70 سالوں سے ہمارے صدور یا وزرائے اعظم بھی اس پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر کشمیر اوراس کے عوام کی حالت زار بتاتے چلے آ رہے ہیں… 2016ء میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے اسی موضوع پر خاصی مفصل تقریر کی تھی… دنیا بھر کی توجہ کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم کو انسانی حقوق کی پامالی کی جانب دلائی گئی تھی… تب برہان الدین وانی کی نئی نئی شہادت واقع ہوئی تھی تب بھی کشمیر کے عوام کئی مہینوں کے کرفیو کی جکڑ بندیوں کا شکار رہے تھے… لہٰذا عمران خان کی تقریر بھی کوئی نئی بات نہیں ہو گی… نہ جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کی کوکھ سے ایسی تقریروں کے ذریعے خواہ کتنی مدلل ہوں آج تک کوئی نتیجہ برآمد ہوا ہے … ہم اہل پاکستان کا مسئلہ یہ ہے پچھلی کئی نسلوں سے محض تقریریں سنتے چلے آ رہے ہیں اور انہی پر جھوم جھوم جاتے ہیں۔

اگلا اور ٹھوس یا نتیجہ خیز قدم کیا ہو گا … کشمیریوں پر جو آفت آئی ہوئی ہے اور تنازع کشمیر پر ہمارے مؤقف کو نہایت درجہ اصولی ہونے کے باوجود قوموں کی سیاست میں جس پسپائی کا سامنا ہے ، اس کا علاج یا تدارک ہمارے پاس کیا ہے … وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بی بی سی کو تازہ ترین انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ بھارت اگر تین شرائط منظور کر لے تو اس کے ساتھ مذاکرات کیے جا سکتے ہیں… یعنی کہ کشمیری لیڈروں کو رہا کر دے، کرفیو اٹھا لے اور وہاں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کے عمل کو بند کر دے… بس یہی ہیں کیاہماری شرائط… کیا ان سے اصل تنازع حل ہو جائے گا… اول تو بھارت ہمارے ساتھ مذاکرات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے … ان کی رٹ ہم نے مسلسل لگا رکھی ہے … وہاں سے جب سے عمران خان کی حکومت آئی ہے ایک مثبت جواب نہیں ملا… دوم کرفیو کا تو ایک دن خاتمہ ہونا ہی ہے اور کشمیری لیڈروں کو رہا بھی کرنا پڑے گا… یہ معاملہ بھارتی سپریم کورٹ میں زیر بحث ہے … وہاں سے کوئی نہ کوئی حکم صادر ہو جائے گا لیکن اصل قضیہ یہ ہے بھارت نے 5 اگست کو اپنے آئین سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی ذیلی دفعہ ختم کر کے کشمیر کی متنازع ریاست کو اپنے اندر جو ضم کر لیا ہے … اس ناجائز عمل کے خاتمے کی پاکستان کے پاس کیا تدبیر ہے …ہماری حکومت اور اس کے پشتیبانوں کے پاس اٹھتے بیٹھتے ایک فقرہ دہرانے کے علاوہ کچھ نہیں اگر تم نے آزاد کشمیر پر حملہ کیا تو جبڑے توڑ کر رکھ دیں گے… گویا بنیادی فکر یا پالیسی آزاد کشمیر کو بچانے کی ہے … باقی جو اصل ریاست جموں و کشمیر ہے ، اسے بھارت نے ہڑپ کر لیا ہے … اسے اس کے پنجۂ استبداد سے چھیننے کا کوئی جنگی یا غیر جنگی اور مؤثر سفارتی حل ہمارے پاس نہیں ہے … دوسرے الفاظ میں بھارت نے کشمیر کی جنگ لڑے بغیر جیت لی ہے … ہم جتنا مرضی کہتے رہیں جنگ کوئی آپشن نہیں… ارے بھائی اگر اس نے جنگ کیے بغیر وہ کچھ کر لیا ہے جسے ہم اسے برابر کی ایٹمی قوت رکھنے کے باوجود روک نہیں سکے تو وہ خواہ مخواہ اپنے فوجی کیوں مروائے گا اور قیمتی اسلحہ ضائع کرے گا… یہ ہے وہ مقام جہاں پر آج ہماری کشمیر پالیسی کھڑی ہے … بھارت کا فوری ہدف شاید آزاد کشمیر نہیں اس کی نظریں بلوچستان میں گڑ بڑ کو فروغ دینے پر ہیں… نریندر مودی نے آج سے کوئی تین سال قبل لال قلعے پر کھڑے ہو کر کہا تھا کہ وہ کشمیر کی تحریک آزادی کا بدلہ بلوچستان سے لے گا… وہ یہ بدلہ لے سکتا ہے یا نہیں… تاہم اس کی نگاہ وہاں پر ٹکی ہوئی ہے … ہمارے اس صوبے کے علیحدگی پسند عناصر خواہ ملک کے اندر ہیں یا یورپ وغیرہ میں اُن کے ساتھ اس کے ظاہری اور خفیہ دونوں طرح کے روابط ہیں… انہیں خلیجی پانیوں اور افغانستان کے زمینی راستوں کے ذریعے مالی امداد اور اسلحہ فراہم کرتا ہے اس کے علاوہ جس پاکستان دشمن ایجنڈے پر بھارت، امریکہ اور اسرائیل تینوں کا ہدف ایک ہے … وہ ہیں ہماری ایٹمی تنصیبات… جنہیں غیر مؤثر بنانے یا اچک لینے کی خاطر ان کا اشتراک عمل وجود میں آ سکتا ہے … ہمیں ان کی فکر لاحق ہونی چاہیے… کشمیر پہلا قدم ہے … دوسرے اور تیسرے کے بعد پاکستان کو خدا نخواستہ نیپال، اور بھوٹان وغیرہ کی اس سطح پر لے آنا ان کی آخری منزل ہے … کیا ہمارے پالیسی سازوں کو اس کا ادراک ہے … اگر جواب اثبات میں ہے تو حفظ ماتقدم کے طو رپر کیا تیاری کی جا رہی ہے … اصل حکمرانوں کو شاید اس کا کچھ علم ہو مگر جن کے ذریعے اس ملک کی کھوکھلی حکومت چلائی جا رہی ہے ، انہیں اور عوام کو کوئی علم نہیں… شاید اسی لیے وزیراعظم بہادر عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے پاس خالی خولی احتجاجی تقریریں کرنے کے علاوہ کچھ باقی نہیں رہا… بھارت کو اور کیا چاہیے… یہ ہے وہ مقام جس پر ہمیں لا کھڑا کر دیا گیا ہےکوئی پوچھنے والا ہے نہ جواب دینے والا … شاید ان باتوں کی کسی کو فکر بھی لاحق نہیں…


ای پیپر