گلۂ جفائے وفا نما
31 اگست 2019 2019-08-31

گیدڑ کی شامت آتی ہے تو وہ شہر کو دوڑتا ہے ۔ مودی نے اچانک، ازخود کشمیری حریت پسندی کو آگ لگا دی۔ کشمیر کا قضیۂ خود مودی کے ہاتھو ں کھل گیا۔ 370 اور 35-A کی تیلی سے جو شعلہ بھڑ کا ہے وہ بھارت کے دامن کو نہ پکڑ لے۔ یہ کہانی صرف مقبوضہ کشمیر نہیں، بھارتی 20 کروڑ مسلمانوں ، خود پاکستان اور بھارت کی دیگر اقلیتوں تک کو اپنی لپیٹ میں لینے کے امکانات کی حامل ہے ۔ جب کہ مودی اور بی جے پی، آر ایس ایس کی تڑپی پڑتی ہندو تو ا آسام کے 40 لاکھ مسلمانوں پر پہلے ہی مہاجر قرار دینے کی تلوار سونتے ہوئے ہے۔ ان کی شہریت پر سوال اٹھا کر بھارت میں پیدا ہونیو الے مسلمانوں کو غیر ملکی قرار دے کر حراستی کیمپوں کی نذر کر دینے کا منصوبہ منظر عام پر آ چکا۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ دار بھارت، ہندو توا کے خون آشام ڈریکولائی دانت لگائے بیٹھا ہے۔ اقوام ِ عالم کی توجہ اب ادھر ہوئی ہے تو فائدہ اٹھائیے۔ اسرائیل والی نسلی امتیاز نسل کشی پر مبنی عصبیت ہے، جو کشمیر پر قبضہ کو جواز دینے کے لیے ہر حد سے گزر گئی ہے۔ اقوام متحدہ کی قرار دادیں نگل کر فلسطین پر مظالم کی داستان یہاں دہرائی جا رہی ہے۔ 200 اخبارات کی بندش، دنیا سے رابطہ منقطع، 7 لاکھ فوج مسلط، بھارتی انسانی المیے کے موڑ پر پہنچی محصور، خوراک طبی سہولیات سے محروم آبادی۔ جس مذہبی جنون کا مظاہرہ مودی حکومت کر رہی ہے۔ اس کا عُشر عشیر بھی کسی مسلم ملک میں ہوتا ، تو ساری دنیا ماتم کناںہو جاتی ۔ سینہ کوبی کرتے دنیا کے چوراہے میں آ بیٹھتے۔ تاہم اب جبکہ نہ صرف یہ کٹا کھل گیا ہے ۔ بلکہ دنیا نے چاروناچار اس کا نوٹس لے بھی لیا ہے۔ اب امتحان ہے پاکستان کے عزم کا ، سفارت کاری اور قیادت کی زیر کی کا ۔ اقوام عالم کی توجہ ادھر مبذول ہوئی ہے تو آگے بڑھ کر مضبوط اقدامات کیے جائیں تاکہ 72 سالہ قرض اتارا جا سکے۔ کشمیریوں کی قربانیاں رنگ لائیں۔ مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان پر یو این تر تھلی مچا کر فیصلہ کروا سکتا ہے تو اب کشمیر کیوں نہیں۔ بھارت کی دیگر اقلیتوں میں بے چینی کا بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ اسی دوران پل میں تولہ پل میں ماشہ ٹرمپ نے بھی پریس کانفرنس میں کشمیر کو حل طلب مسئلہ کہا۔ نیز یہ کہا کہ کشمیر میں مسلمان اکثریت میں ہیں اور ہندو اقلیت میں۔ دونوں قائد اعظم کے مطابق جداگانہ مذہبی عقائد اور رسم و رواج کے حامل ہیں۔ ٹرمپ کے ان ذرّیں اقوال اور نوادرات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے ایسے وقت میں جب امریکہ کو افغانستان میں ہماری مدد درکار ہے۔ طالبان، کابل حکومت کے بر عکس مسلم کشمیر سے اخوت و ہمدردی کے حامل ہیں۔ ہم نے امریکہ کی مفت خدمت کا کیا ٹھیکہ لے رکھا ہے ۔ ہمارے سر پر ڈومور کا بگل بجانے والے کو اب کچھ تو ٰڈو کا شور ہم بھی مچا سکتے ہیں۔ تاہم اخلاص شرط ہے۔ جہاں چاہ وہاں راہ ! کشمیریوں کی فیصلہ کن مدد، اب یا کبھی نہیں( Now or Never ) کے انداز میں کرنی ہو گی ۔ المیہ تو یہ ہے کہ اس وقت پوری مشرفی ٹیم حکومت کی کابینہ اور مشاورت پر ایستادہ ہے۔ جو ایک فون پر ڈھیر ہو کر ایٹمی مملکت امریکہ کے قدموں میں ڈال چکا۔ جس نے بھارت کو لائن آف کنٹرول پر خار دار تار لگانے کی اجازت دے کر کشمیر کی تقسیم کو ہوا دی ۔ اب بھی شدید ترین آزمائشوں کے مقابل کشمیری تو کرفیو توڑنے، بھارتی فوج سے ٹکر لینے کا عزم لیے سڑکوں پر ہیں۔ کشمیر تو ’پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الااللہ‘ کے نعروں سے گونج اٹھا۔ لیکن انہوں نے ہمیں تو دیکھا ہوتا ! جو وقت غزوۂ ہند کی یاد دہانی ( جس سے مودی کی گھگھی بندھ جائے !) ، اللہ سے مدد طلب کرنے کا ہے، ایسے میں پاکستان کا منظر کیا ہے ؟ جمعتہ المبارک 23 اگست ، کراچی آرٹس کونسل کے زیر اہتمام ’شوکیس‘ گرینڈ میوزیکل نائٹ، کے عنوان سے کھچا کھچ بھرے ہال میں 19 موسیقاروں گلوکاروں نے نو جوانوں کا دل لبھایا۔ اب یہاں مفت موسیقی کی تعلیم فراہم کی جائے گی ۔ تقدیرِ امم پڑھانے والے اقبال کو یہ نیا تبدیلی مثردہ بہ زبان حال سنایا گیا ۔ میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیرِ امم کیا ہے، طائوس و رباب اول ، طائوس و رباب آخر ! خواندگی کا حشر دیدنی ہے تاہم یہاں موسیقی اب مفت بٹے گی ! مزید دیکھئے کشمیر کے تناظر میں یہاں سیون اپ ویڈنگ شو ہوا۔ دو دن میں 60 ہزار افراد نے شرکت فرمائی۔ کشمیری بیٹیاں بھارت کے ہاتھوں دائو پر لگی ہیں۔ یہاں تفریحی ویڈنگ شو میں نمائشی شادیوں کے ہنگام جاری ہیں۔ ملکی ماحول پر ادا کار، گوئیے نچیئے چھائے ہوئے ہیں۔ ایک خبر یہ بھی تھی کہ تمغٔہ فخرِ امتیاز ’ پر وقار ‘ تقریب میں گلوکارہ کو دیا گیا ۔ اب وقار ایسی جگہوں پر جا بیٹھا تو قومی وقار کے تقاضے کون جانے ! ہمیں ہر جمعے آدھ گھنٹہ ( عین صلوۃ الجمعہ کی تیاری کے اوقات میں ) دفاتر اور گھروں سے باہر نکل کر ، کام روک کر اظہار یک جہتی کرنا ہے ۔ وزیر اعظم کے اعلان میں نماز جمعہ، مساجد، خطبوں، نمازوں، دعاؤں کا تذکرہ نہیں تھا۔ قوم پرستانہ اظہار یک جہتی پر زور ہے سارا۔ قومیت ہو اسلامیت قطعاً نہ ہو۔ ( FATF منہ کالا کر دے گی ۔ ) یہی کہانی تو گلوبل چوہدریوں کی خوشنودی کو فواد چوہدری نے ڈالی تھی ۔ فرماتے ہیں ’ عیدیں ہوں یا پالیساں ، مضبوط قوم بننا ہے تو اپنی سرحدوں کو مقدس جانیں۔ اب کوئی اسلامک بلاک نہیں رہا، امۃ نہیں ، سرحدیں مقدس ہیں۔ یہی مقدس سرحدیں وزیر صاحب کے ممدوح مشرف کے دور میں مسلسل امریکی ڈرونز نے پامال کیں۔ سلالہ میں اپنے فوجی، امریکی حملے کی بھینٹ چڑھے۔ رہی عید تو پاکستان کا یہی ایک چڑھا چاند ( وزیر ) کافی ہے ۔ رہا سرحد کا تقدس تو کشمیر کی پشت میں خنجر بھی ’ آئوٹ آف باکس‘ (غیر روایتی) حل کے نام پر مشرف ہی نے گھونپا تھا۔ اسلامک بلاک ایسی ہی قیادتیں ہر جا مسلط ہونے کے نتیجے میں کمزور پڑا۔ موسیقی تھمے تو شاید سن پائیں سورۃ النساء کی پکار… جس نے فلسطین، روہنگیا ، شام کشمیر سبھی ( ان گنت) مظلوم مسلم آبادیوں کے تناظر میں یاد دہانی بار بار کروائی: ’ آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بے بس مردوں ، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پاکر دبالیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مدد گار پیدا کر دے۔ ‘ ( اگلی آیت بھی پڑھ جائیے اگر حوصلہ ہو تو ! النساء۔ 75 ) رہا یہ گھسا پٹا ارینڈ کارپوریشنی بیانیہ کہ امتِ مسلمہ کا کوئی سیاسی وجود نہیں بلکہ یہ سرا سر ایک روحانی وجود ہے۔ جسے مخصوص ذہن سازی کے لیے وزیروں، سیکولر دانش داروں کے ہاں سے بڑھاوا دیا جاتا ہے ۔ بلا شبہ بڑی محنت اور عرق ریزی سے خلافت توڑ کر امت کے حصے بخرے، کف آلود مغرب نے کیے تھے ۔ جن کی تاریخ کمزور ہو ان کا جغرافیہ بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ مشرقی پاکستان ایسے ہی ہاتھوں کھویا گیا ۔ خلافت عثمانیہ توڑنے کے بعد لارڈ کرزن نے برطانوی پارلیمنٹ میں خطاب کرتے کہا تھا کہ ہم نے بمشکل تمام مسلمانوں کی خلافت ختم کی ہے۔ ہمیں دیکھنا ہو گا کہ یہ دوبارہ کبھی یک جانہ ہو پائیں۔ ( افغانستان پر حملے کی وجہ بھی یہی خوف تھا ۔ ) تاہم یہ امت تو روحانی سطح پر بد روحوں ( مودی ، ٹرمپ اور ان کے سیکولر غلاموں) کی خبر گیری کو سداسلامت رہی۔ نیل کے ساحل سے لے کر تاجکِ کاشغر، عوام کے دل یک ساں دھڑکتے رہے۔ یہ بھی 99 فیصد اور ایک فی صد والی کہانی ہے ۔ اپنے دلوں کی ویرانی کی خبر لیجئے۔ شہر سائیں سائیں نہیں کرتا۔ عوام انڈونیشیا، بنگلہ دیش ۔ ملکوں ملکوں شرقاً غرباً ایک دوسرے سے اخوت کی تار میں بندھے قنوت ِ نازلہ پڑھا کرتے ہیں ! یہ ایک منٹ کی خاموشی اور سول سوسائٹی والا ڈالر طلب تعلق نہیں ہے ۔ گھر میں آٹا گوندھتی ملازمہ بھی بادل کڑکنے پر بے اختیار کہتی ہے۔ ’ اللہ کل مومن مسلمان دی خیر‘۔ سو یہ خون سے زیادہ قوی رشتہ بقدر ایمان ہوا کرتا ہے ! امارات، بحرین میں مودی کی آئو بھگت صرف مسلمانوں کی توہین نہیں، انسانی حقوق کے خلاف مودی جرائم میں شراکت ہے۔ جس پر سبھی اہل دل نالاں ہیں۔ اقبال تو تبصرہ کر ہی چکے: گلٔہ جفائے وفا نما کہ حرم کو اہل حرم سے ہے، کسی بت کدے میں بیاں کروں تو کہے صنم بھی ’ ہری ، ہری ‘

آزادیٔ کشمیر بھی تادیر حکومتوں کا منہ نہیں تکے گی ۔ یہ جن ایک دفعہ بوتل سے باہر تو آئے گا۔ پھر غزوۂ ہند تا قدس نقارہ تو بج کر رہے گا ! انشاء اللہ۔


ای پیپر