ڈینگی سے بچائو کیسے ممکن ہے
31 اگست 2019 2019-08-31

ڈینگی وائرس بڑی تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے جس سے سینکڑوں لوگ متاثر ہوئے ہیں ۔عوام ڈینگی سے بچائو کے حوالے سے احتیاطی تدابیر سے آگاہ نہیں ہیں جس کی وجہ سے ڈینگی پھیل رہا ہے ۔حکومت کو ڈینگی سے بچائو کے بارے میں جنگی بنیادوں پر اقدامات اٹھانا چاہئیں اور غفلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے ۔ ڈینگی وائرس سے سینکڑوں قیمتی جانیں ضائع ہو سکتی ہیں ۔صوبہ خیبرپختونخوا میں ڈینگی وائرس پھیل رہا ہے ۔پشاور،سوات سمیت مختلف قبائلی اضلاع بھی ڈینگی وائرس کی لپیٹ میں آچکے ہیں ۔عوام کو ڈینگی سے متعلق آگاہی حاصل نہیں جبکہ حکومت کی جانب سے بھی اس طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی جارہی ہے جس کے باعث ڈینگی کے خطرات بڑھ رہے اور انسانی جانوں کے ضیاع کے خدشات بھی ہیں ۔حکومت کو ڈینگی وائرس کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرنے کیلئے مہم شروع کرنی چاہیے ۔ویلج کونسلوں کی سطح پر بھی مہم کا آغاز کیا جائے ۔سرکاری ہسپتالوں میں ڈینگی وائرس کے علاج معالجہ کے لئے اقدامات اٹھانے چاہئیں کیونکہ متاثرہ مریضوں کو بروقت طبی امداد نہیں دی جارہی ہے ۔کئی گھنٹے ٹیسٹ کیلئے انتظار کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے لوگ نجی کلینکس کا رخ کر رہے ہیں جہاں پر ڈینگی وائرس سے متاثرہ مریضوں کو مہنگے ٹیسٹ کے علاوہ بھاری ادویات تجویز کی جارہی ہیں اور ڈینگی کا علاج اس مہنگائی کے دور عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوچکا ہے ۔محکمہ صحت اور ضلعی حکومتوں نے ابھی تک ڈینگی وائرس کے خاتمے کے لئے وہ اقدامات نہیں اٹھائے ہیں جو انہیں اٹھانا چاہیے تھے اور ڈینگی وائرس کی وجہ سے لوگوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے ۔حکومت عوام کی ڈینگی سے بچائو کے لئے پروگرامات شروع کرے ۔قارئین کی خدمت میں لاہور میں ہونے والی عالمی ڈینگی کانفرنس جس میں سری لنکا ،انڈونیشیاء ،سنگا پور اور تھائی لینڈ کے ماہرین نے شرکت کی تھی ۔ان کی قیمتی آراء پیش خدمت ہے ۔عالمی ماہرین کے مطابق ڈینگی وائرس بڑی تیزی کے ساتھ پھیلتا ہے جس میں بخار والی علامت کے ساتھ اموات کا باعث بننے والا لرزے والا بخار شامل ہوتا ہے ۔اس وائرس کی حامل مادہ مچھر کے کاٹنے سے جراثیم انسانوں کو منتقل ہوتے ہیں ۔یہ مچھر گھروں اور الماریوں کے اندر اور دوسری اندھیرے والی جگہوں پر رہتے ہیں ۔مادہ مچھر شہروں اور ہر جگہ پر پانی کے ذخیروں میں اس کے آس پاس انڈے دیتی ہے ۔یہ انڈے دس دن میں بالغ ہو جاتے ہیں ۔ ڈینگی مچھر کھلے اور محفوظ پانی کے ذخیروں میں بھی انڈے دیتے ہیں ۔ ڈینگی وائرس کا شکار ہونے والا متاثرہ شخص تیز بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔سرمیں شدید درد ہوتا ہے ۔گھٹنوں اور جوڑوں میں بھی درد شروع ہو جاتا ہے اور پورے جسم پر سرخ رنگ کے دھبے نمودار ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔متاثرہ شخص کی جلد بڑی آنت اور مسوڑوں سے خون بہنا شروع ہو جاتا ہے ۔ماہرین کے مطابق اس مرض کا ابتدائی مرحلے میں علاج ممکن ہے ۔ان علامات کے ظاہر ہونے پر متاثرہ شخص کو فوری طور پر ہسپتال جانا چاہیے ۔بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے مریض کی موت واقع ہو سکتی ہے ۔

سری لنکا کے ماہرین کے مطابق سری لنکا میں ڈینگی گزشتہ چالیس سال سے ہے مگر وہ شر ح اموات بہت کم ہے ۔وہاں پر اس مرض کو شکست دینے کے لئے حکومت اور عوام نے مل کر اجتماعی طور پر ڈینگی وائرس کو ختم کیا ۔عوام کو اس کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اشد ضروری ہے ۔جب لاہور میں ڈینگی وائرس پھیل گیا تھا اور غیر ملکی ماہرین نے شہر میں فیلڈ سروے کیا تھا ان کے مطابق ڈینگی مچھر کے انڈے بڑی تعداد میں ہوٹلوں ،پارکوں،ٹائر شاپس اور گھروں میں پائے گئے ۔برسات کا موسم اس مچھرکے پنپنے کے لئے آئیڈیل ہے ۔

سری لنکن ماہرین کے مطابق مچھر مار ادویات کے سپرے سے اس مرض پر پندرہ فیصد تک قابو پایا جا سکتا ہے جبکہ آبادی ،گھروں اور محلوں میں احتیاطی تدابیر کے ذریعے پچاسی فیصد تک اس وائرس سے بچا جا سکتا ہے ۔گھروں میں صاف پانی کھلا نہ چھوڑا جائے ۔چھ سے سات دن میں انڈوں سے مچھر نکل آتے ہیں اور ان مچھروں کی طبی عمر تین سے چار ہفتے ہوتی ہے ۔ ڈینگی مچھر کے انڈے سولہ ڈگری کے ٹمپریچر نیچے جانے کے بعد افزائش پانا بندکر دیتے ہیں اس لئے کم سے کم دو مہینے تک یہ افزائش پاتے ہیں کیونکہ مچھر کو انڈہ دینے سے افزائش تک ایک ہفتے کا وقت درکار ہوتا ہے ۔اس لئے ضروری ہے کہ ہفتے میں کم سے کم پورے گھر،محلے کا جائزہ لیا جائے کہ کہیں پانی تو کھڑا نہیں ہے اور یہ مچھر افزائش تو نہیں پا رہا ۔

غیر ملکی ڈاکٹروں کے مطابق پاکستان میں اس مرض سے ہلاکتوں کی وجہ اکثر مریضوں کا شوگر اور دل کے امراض میں مبتلا ہونا ہے جو جسمانی اور نفسیاتی طور پر ڈینگی وائرس کی شدت کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ ڈینگی وائرس کے علاج کا بہترین حل یہ ہے کہ بخار کی شدت کو مسلسل تین دن تک چیک کیا جائے اور آئندہ دس دن تک صرف پیرا سٹا مول سے علاج کیا جائے ۔مچھر کاٹنے کے زیادہ متوقع اوقات صبح صادق اور غریب آفتاب کا ہے لیکن دن کے کسی بھی وقت کاٹ سکتا ہے ۔اس وقت خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں ڈینگی وائرس تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے اور سینکڑوں لوگ اس وائرس میں مبتلا ہو چکے ہیں ۔صوبے کے دارالحکومت پشاور کے مختلف علاقے بھی ڈینگی وائرس کی لپیٹ میں آ چکے ہیں اور نجی کلینکس میں نان کوالیفائیڈ ڈاکٹرز مریضوں کا علاج کر رہے ہیں اور عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جارہا ہے ۔لوگ دیہات میں نجی کلینکس کا رخ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے محکمہ صحت کو ڈینگی کے مریضوں کا ڈیٹا نہیں پہنچ رہا ہے ۔حکومت پولیو وائرس کے خاتمے کی طرح ڈینگی کے خاتمے کے لئے بھی جنگی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے کیونکہ پولیو سے لوگ معذور ہو جاتے ہیں اور ڈینگی سے مر جاتے ہیں ۔


ای پیپر