نواں مہینہ…
31 اگست 2019 2019-08-31

دوستو،ستمبر سال کا نواںمہینہ ہوتا ہے۔۔ نو کا ہندسہ ماہر علم الاعداد خوش بختی کی علامت سمجھتے ہیں۔۔ پنجاب میں اگر کسی کو کہا جائے ’’ نواں مہینہ‘‘ تو وہ اس کا مطلب نیا مہینہ ہی سمجھے گا۔۔کیوں کہ نواں پنجاب میں نئے کو کہتے ہیں، نوری نت کا مشہور ڈائیلاگ تھا کہ۔۔ نواں آیا اے سوہنیا۔۔ ساس ہو یا بہو وہ بھی ’’ نواں مہینہ‘‘ آنے پر خوشیاں مناتی ہیں۔۔ لیکن ہمارے لئے تو نہیں لیکن سرکاری ملازمین کے لئے ستمبر کا ابتدائی ہفتہ چھٹیوں کی خوشخبریاں لارہا ہے۔۔چھ ستمبر یوم دفاع،سات ستمبر ہفتہ، آٹھ ستمبر اتوار، نو اور دس ستمبر محرم کی تعطیلات، گیارہ ستمبر قائد اعظم کی برسی۔۔یعنی سرکاری ملازمین کے لئے پھر چھ چھٹیاں، ابھی عید پر بھی ٹھیک ٹھاک چھٹیاں کی تھیں۔۔ ایک واری فیر۔۔چلیں اب اپنی اوٹ پٹانگ باتیں شروع کرتے ہیں کیوں کہ آج ویسے بھی اتوار ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ شادی شدہ حضرات نے آج کے دن ’’سسرائیل‘‘ بھی جانا ہوگا، اس لئے مزید ٹائم ضائع نہیں کرتے۔۔

کچھ باتیں باوجود کوشش کے سمجھ نہیں آتیں، اسی طرح کا ایک واقعہ ہمارے ساتھ پیش آیا، ہم نے اپنے خان دوست سے پوچھا یہ چھوٹا بچہ کون ہے تمہارے ساتھ؟؟ وہ بولا، یہ ہمارا دور کا سگا بھائی ہے۔۔اس انوکھے رشتے پہ ہمارے کان کھڑے ہوگئے،تفصیل پوچھی تو کہنے لگے۔۔’’ امارا باپ نے پانچ شادی کی، ہم نو بہن بھائی ہے،امارا ماں مرا تو باپ نے دوسرا شادی کیا، اس سے تین بہنیں،لڑکا نہیں ہوا تو امارا باپ نے تیسرا شادی کیا،اس سے باپ کا سات بچہ ہوا،آٹھواں بچے کا پیدائش پر وہ بھی مر گئی ،پھر امارا باپ نے چوتھا شادی کیا اس سے ایک بہن ہوا تو وہ آشنا کے ساتھ بھاگ گیا،پھر امارا باپ نے پانچواں شادی رچایا، جس سے چار لڑکیاں اور ایک لڑکا ہوا، اور یہی وہ لڑکا ہے۔۔اسی لئے ام بولا یہ امارا دور کا سگا بھائی ہے۔۔‘‘ اسی طرح کی اور بات ہماری سمجھ نہ آسکی، ایک صاحب کو سفر کے دوران حاجت محسوس ہوئی تو قریب ہی سرکاری بیت الخلا چلا گیا وہاں اسے لوٹا نہ ملا،اس نے پوچھا، یہاں سے سارے لوٹے کدھر گئے، جواب میں کہاگیا کہ ’’ فلاں،فلاں‘‘ سیاسی جماعت میں چلے گئے۔۔اور یہ بات بھی ہم نہ سمجھ سکے کہ اگر آپ اپنی بیگم کو شاپنگ کیلئے دس ہزار روپے دیں اور بعد میں حساب مانگیں تو باقی بس لڑائی ہی بچتی ہے۔۔ویسے یہ حقیقت بھی ہے کہ انسان الجبرے کے مشکل سوال تو حل کرسکتا ہے کہ لیکن بیوی کومطمئن کرنا کم سے کم اس جنم میں تو کسی شوہر کے بس کی بات نہیں۔۔اسی لئے تو کسی نے کیا خوب کہا ہے۔۔ایک عقل مند اور سمجھدار آدمی جب کوئی خاص اور اہم فیصلہ کرتا ہے تو۔۔۔اس پر بہت سوچتا ہے، بہت دماغ لڑاتا ہے۔۔۔۔ اپنے والدین اور اپنے بہن بھائیوں سے رائے لیتا ہے۔۔۔دن رات اس پر غور کرتا ہے۔۔اپنے دوستوں اور عزیز و اقارب سے مشورہ کرتا ہے۔۔۔ اپنے ارد گرد نظر دوڑاتا ہے۔۔۔ غرض کہ سوچتا چلا جاتا ہے۔۔۔ مگر۔۔۔آخر کار کرتا وہی ہے۔۔۔جو اْس کی بیوی کہتی ہے۔۔جب ایک خاوند نے اپنی اہلیہ کو جتانے کی کوشش کہ کہ ، تمہیں پتہ ہے مجھے تم سے کتنی محبت ہے، جب تم روٹھ کر میکے چلی گئی تھی ،میں پائپ پر چڑھ کر ملتا تھا اور وہاں سے کئی بار گرا بھی ہوں، بیوی نے شوہر کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔۔میں جانتی ہوں تم بہت گرے ہوئے ہو۔۔

ماضی کسے یاد نہیں آتا۔۔ وہ بھی کیا زمانہ تھا جب پورے محلے میں ایک آدھ ہی وائر والا فون ہوا کرتا تھا،دادا کے زمانے کی درخواست پر پوتے کے نصیب میں فون آتا تھا، دس سے پندرہ سال میں فون لگنا خوش نصیبی کی علامت سمجھا جاتا اور جس کے گھر فون لگتا اسے بہت تعلقات والا سمجھاجاتا تھا۔۔اس دور میں گاڑیاں بھی کم ہوتی تھیں،دوپہر اور شام کے اسکول تھے ،اور لوڈشیڈنگ کس چڑیا کا نام تھا کسی کو علم نہیں تھا،ہاں یہ ضرورتھا کہ بارش کی بوند گرتے ہی بجلی چلی جاتی تھی لیکن بارش رکتے ہی لائٹ آجاتی تھی۔۔بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی رشین میڈ ہوتے تھے، وال والے ٹی وی ذرا سستے ہوتے تھے، اگر آٹھ بجے رات ڈرامہ شروع ہوتا تھا تو اسے پندرہ سے بیس منٹ پہلے کھولنا پڑتا تھا، یہ ٹی وی لکڑی کے ڈبوں میں تالے لگا کے رکھے جاتے تھے۔ کلر ٹی وی اور 50 کلو والے سلور وی سی آر ایک دو گھروں میں ہی ہوتے تھے۔۔انڈین فلمیں دیکھی جاتی تھیں وہ بھی مانگ تانگ کر،اس وقت تک محلوں میں کرایہ پہ انڈین فلمیں دینے کا سلسلہ شروع نہیں ہوا تھا، نہ ہی نیفے میں کیسٹ چھپانے کا رواج پڑا تھا۔۔ ایک ہی چینل پی ٹی وی تھا، شام چارسے پانچ بجے بچوں کے پروگرام، آٹھ بجے ایسا ڈرامہ کہ لوگ تقریبات لیٹ کردیتے، بازار بند ہوجاتے تھے، نو بجے خبرنامہ ہوتا تھا۔۔جمعرات کو ہاف ڈے اور جمعہ چھٹی ہوتی تھی۔۔نئے کپڑے عید، بقرعید، شادی بیاہ اور صرف ضرورت کے وقت بنائے جاتے تھے۔۔عید کے دن ایک رنگ اور ایک تھان سے خاندانی ٹیلر یا پھر اکثر نانی کے ہاتھوں سلے کپڑے پہننے کا رواج عام تھا۔۔عید والے دن لکڑی کی تلوار، منہ میں ’’مٹھا پان‘‘، ایک ہاتھ میں ‘‘بوتل’’( کہ اس دور میں کولڈ ڈرنک کا رواج نہیں ہوتا تھا)، اور دوسرے میں کون آئس کریم لینامعراج ہوتی تھی۔۔عید کی شام ہر محلے میں 3 کرکٹ ٹیمیں بڑے لڑکے، چھوٹے لڑکے اور بچے ، عصر کے بعد سے کھیل کود شروع ہوتا تھا اور مغرب کی اذان پرلازمی ختم کردیاجاتا تھا۔۔سردیوں میں رات کو بیڈمنٹن (چڑیا بلا) اور اولمپکس وغیرہ کے زمانے میں ہاکی بھی کھیلی جاتی تھی۔۔پتنگ بازی کا ایک دور، لٹو اور کنچوں کے ‘‘بین الگلی’’ ٹورنامنٹس عام تھے ۔۔گرمیوں کی چھٹیوں میں دوپہر کو ‘‘پٹھو باری’’ بھی ہوتی تھی۔۔کیا دور تھا سب کو سب کی فکر، سب کو سب کا خیال۔۔سوائے بزرگوں کے، شادی شدگان، بال بچے دار، جوان بھی سگریٹ بچ بچا کر پیتے تھے کہ کوئی بزرگ دیکھ نہ لے۔۔گلی محلے میں شادی کا مطلب پندرہ بیس دن پہلے سے پورے محلے میں ڈھولکی کی آواز، لڑکیوں کے کھنکتے قہقہے، لڑکوں کا پسینہ پسینہ ہو کر کنکھیوں سے انہیں ’’تاڑنا‘‘ اور پھر جھینپ کر خود ہی لال بھبوکا ہوجانا۔۔دور پرے کے رشتہ داروں کی آمد اور ان کا مختلف گھروں میں قیام، گھر سے شادی، ہال وغیرہ میں دعوت سُبکی کی کی بات۔۔۔ کسی کے گھر میت ہوجائے تو ہفتوں لوگ گلی میں ہنستے نہ تھے کہ کہیں پڑوسی گھر والوں کو دکھ نہ پہنچے۔۔ایک بار اسی چکر میں ہماری اماں نے خوب مارا بھی تھا، ہم نے محلے میں میت کے تیسرے روز غلطی سے ٹی وی چلادیا تھا۔۔محرم الحرام کی مجلسوں میں بالوشاہی، حلیم اور امرتیاں کھانا سب کیلئے حلال تھا۔۔پانی کی سبیل، شب برا ت کا حلوہ سب بناتے اور کھاتے تھے۔۔اچھا وقت تھا۔۔خالص لوگ، خالص اشیا ، خالص ایمان۔۔ اس وقت نذرو نیاز کھانے پینے اور ملنے جلنے سے ایمان خراب نہیں ہوتا تھا۔۔پھر۔۔ ہم نے ترقی کرلی۔۔

اور چلتے چلتے آخری بات۔۔۔وقت کو پیدا کرنے والے کو وقت دے کر دیکھو ۔۔ وہ تمہارا وقت بدل دے گا۔۔یقین رکھو۔۔


ای پیپر