قطرہ قطرہ زندگی !
31 اگست 2019 2019-08-31

بہت دنوں سے ایک قرض سرپر چڑھا ہواہے، میں بہت دنوں سے اُسے اُتارنا چاہتا تھا، بس اس بہانے یا اس جواز کے تحت اُتارنہیں پارہا تھا کہ محبت کا قرض واحد قرض ہوتا ہے جو کوئی انسان کا بچہ ساری زندگی کوشش کرتا رہے نہیں چکا سکتا، میں اپنے دوستوں کی محبت کا اتنا مقروض ہوں ساری عمر اُن کے قدموں میں بیٹھ کر گزار دوں اُن کا مقروض ہی رہوں گا، .... کچھ قرض انسان لاکھ کوششیں کرلے ادا نہیں ہوسکتے، جیسے اللہ پاک اپنے انسانوں کو جتنی نعمتوں اور سہولتوں سے نوازتا ہے، حتیٰ کہ کوئی انسان کسی تکلیف دکھ، درد یا پریشانی میں مبتلا ہوجائے تو اسے بھی اس صورت میں اس کے لیے ایک ”نعمت “ ہی بنادیتا ہے کہ اس دوران اس کے کئی گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور صبر کا اجر یہ ہے اللہ تبارک تعالیٰ فرماتے ہیں ”روز حشر اپنے صابرین کے لیے میں سوچوں گا ان کے لیے میزان قائم کروں یا انہیں سیدھا جنت میں بھیج دوں“ ....جہاں تک اللہ کی بے شمار نعمتوں کا تعلق ہے جو اربوں کھربوں انسانوں کو میسر ہیں، تو کون ہے جو ان نعمتوں کے مطابق اللہ کی شکرگزاری کرسکے؟،....میں اکثر اپنے دوست افسروں سے کہتاہوں، اور خود بھی اس پر عمل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہوں اللہ اپنے کسی بندے کو اُس کی اہلیت یا اوقات سے بہت بڑھ کر نواز دے، جیسے مجھے نوازا تو اللہ کی شکرگزاری کی سب سے اعلیٰ کوشش یہی ہوسکتی ہے ہم دُکھی انسانیت کی ہرممکن مدد کریں، اُن کی خدمت کریں، نماز، روزہ، حج، زکوٰة سب ہمارے دین کے بنیادی فرائض ہیں جو ہمیں ضرور ادا کرنے چاہئیں، مگر میرے نزدیک ان تمام فرائض میں اس وقت تک برکت نہیں ہوسکتی جب تک انسانیت کی خدمت کے سچے جذبوں سے خود کو کوئی محروم رکھے .... جو کچھ عرض کرنے میں کوشش کررہا ہوں، یا ایسی ہی کوشش زندگی بھر میں کرتا رہوں گا، اس کی توفیق اصل میں مجھے اپنے محترم بھائی کیپٹن ریٹائرڈ لیاقت علی ملک کی تحریریں پڑھ پڑھ کر ملی۔ وہ ہمارے ایک روحانی و صوفی دانشور ہیں جنہیں پڑھنے کے بعد کوئی یہ نہیں کہہ سکتا یہ دھرتی بانجھ ہوگئی ہے، اب یہاں کوئی قدرت اللہ شہاب، اشفاق احمد، واصف علی واصف پیدا نہیں ہوگا، ایک امید سی اب بندھ گئی ہے جو آہستہ آہستہ یقین میں تبدیل ہوتی جارہی ہے، میں کیپٹن ریٹائرڈ لیاقت علی ملک کو واصف علی واصف یا اشفاق احمد کے پائے کا دانشور اس لیے بھی قرار نہیں دے سکتا کہ اس سے مجھے ان کے ساتھ اپنے انتہائی اچھے تعلقات کی خرابی کا اندیشہ اس لیے ہے کہ وہ خود کو ہمیشہ ایسے مٹے ہوئے مقام پر رکھتے ہیں، یا یوں کہہ لیجئے وہ خود کو عاجزی وانکساری کے ایسے مقام پر دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہ ظرف اللہ کسی کسی کو عطا فرماتا ہے، سب سے بڑا بادشاہ ”فقیر“ ہوتا ہے، بادشاہت چھن جاتی ہے، فقیری سدا کی نعمت ہے، .... کیپٹن ریٹائرڈ لیاقت علی ملک اتفاق سے پولیس افسر بھی ہیں، میں اِسے”حسنِ اتفاق“ اس لیے نہیں کہوں گا وہ اگر پولیس افسرنہ ہوتے، اپناسارا وقت لکھنے پڑھنے کو دیتے اور آج دانشوری کے ایسے مقام پر ہوتے جہاں اشفاق احمد، اور واصف علی واصف ایسے اعلیٰ پائے کے صوفی دانشوروں کی کمی اتنی شدت سے نہ ہوتی ، ....پچھلے دنوں ان کی ایک نئی تصنیف ” قطرہ قطرہ زندگی شائع ہوئی، ہم نے قطرہ قطرہ دریا سنا تھا ،” قطرہ قطرہ زندگی “کا جو نیا تصور انہوں نے پیش کیا وہ زندگی کو دریا سے نکال کر سمندر کی طرف لے آیا، زندگی اپنے اندر سمندر جیسی وسعت رکھتی ہے، زندگی کو ”چھوٹا“ سمجھنے والے زندگی میں کبھی کامیاب نہیں ہوتے، .... میں ابھی ” گوری دنیا“ کے پونے دوماہ کے طویل سفر پر گیا ہوا تھا، میں یہ کتاب ( قطرہ قطرہ زندگی ) اس لیے ساتھ لے گیا تھا کہ گوری دنیا میں ہم جیسے اکثر گناہ گار کئی حوالوں سے بھٹک جاتے ہیں، سو اس سفر میں کئی مقام ایسے آئے جہاں ” قطرہ قطرہ زندگی “ نے مجھے بھٹکنے نہیں دیا، .... میں اس کتاب پر بہت پہلے بہت کچھ لکھ دیتا کہ یہ کتاب مجھے تین چار ماہ پہلے موصول ہوئی تھی، ہمارے ہاں عمومی روایت یہ ہے ہمارے اکثر دانشور کتابوں کو پڑھے بغیر ان پر تبصرے فرما دیتے ہیں، میں نے بھی کئی بار ایسے ہی کیا، اصل میں کچھ ادیب شاعر دوست ایسے ہوتے ہیں جو اپنی کتاب دینے کے یا بھجوانے کے اگلے ہی روز گلہ شروع کردیتے ہیں آپ نے ابھی تک اس پر کچھ لکھا کیوں نہیں ؟“....کیپٹن صاحب کی طرف سے چونکہ ایسے گلے شکوے نہیں ہوتے تو ہمیں یہ موقع یا یہ اعزاز مل جاتا ہے ہم ان کی کتابوں پر کچھ لکھنے سے پہلے اُنہیں اچھی طرح پڑھ لیں، سو میں نے ” قطرہ قطرہ زندگی “ کے 264صفحات کو اچھی طرح کھنگالا ہے، اس کا سب سے بڑا فائدہ مجھے یہ ہوا ایک اچھا انسان بننے کے لیے میرے راستے کی بہت سی رکاوٹیں دور ہوگئیں، یہ کتاب عالمی شہرت کے حامل اشاعتی ادارے ”سنگ میل“ نے شائع کی ہے، مصنف نے یہ کتاب مجھے اپنے لاڈلے، انتہائی محبت مروت والے پولیس افسر محمد علی وڑائچ کے ذریعے بھجوائی، وہ ایف سی کالج میں میرا سٹوڈنٹ رہا ہے، اس کی ”باادب تربیت“ میں کیپٹن لیاقت علی ملک کا بڑا اہم کردار ہے، میں نے جب اس کتاب کے چند ورق کھنگالے میں نے سوچا یہ ایسی کتاب ہے جو مجھے پلے سے خرید کرنہ صرف خود پڑھنی چاہیے بلکہ کچھ لوگوں کو تحفتاً بھجوانی چاہیے، سو میں نے سنگ میل سے اس کے دس نسخے منگوائے، یہ کتابیں میں نے لاہور کی مختلف شاہرات پر ڈیوٹی کرتے ہوئے ٹریفک وارڈنز کو بطور تحفہ اس نیت سے پیش کیں کہ یہ کئی حوالوں سے ان کی اخلاقی تربیت کا باعث بن سکتی ہیں، اور کئی ایسے ٹریفک وارڈنز جو اپنے سی ٹی او لاہور (کیپٹن ریٹائرڈ لیاقت علی ملک ) سے محض اس لیے نالاں رہتے ہیں کہ وہ انہیں ایمانداری اور فرض شناسی سکھاتے ہیں یہ کتاب پڑھ کر اُنہیں فخر محسوس ہو کہ اس وقت لاہور میں ان کے محکمے کا سربراہ ایسا شخص ہے جو باقاعدہ ایک ادارے کی حیثیت رکھتا ہے۔ پچھلے دنوں سید قاسم علی شاہ فاﺅنڈیشن کے زیراہتمام ” قطرہ قطرہ زندگی “ کی تقریب رونمائی کا اہتمام ہوا، مجھے بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا تھا، میں نے اس ضمن میں اپنے عزیز چھوٹے بھائی حافظ زوہیب طیب سے عرض کیا ” میں اِس میں ایک سامع کی حیثیت سے شرکت کا اعزاز حاصل کرنا چاہتا ہوں، منتظمین نے مگر میری بات نہیں مانی، مجھے سٹیج پر بیٹھا دیا جہاں برادرم عباس تابش، سید قاسم علی شاہ، طارق بلوچ صحرائی، رحمان فارس، اور خود کیپٹن لیاقت علی ملک ایسی قدآور ادبی شخصیات کے ساتھ بیٹھے ہوئے اپنے عزیز چھوٹے بھائی حافظ زوہیب طیب پر مجھے غصہ آرہا تھا کہ کہاں سے کہاں لاکر اس نے مجھے بٹھا دیا ہے، یہ بہرحال ایک شاندار تقریب تھی، میں خود کو اس کتاب پر کوئی تبصرہ کرنے کے قابل بھی نہیں سمجھتا جہاں حضرت مولانا بہاﺅالحق، پروفیسر احمد رفیق اختر، بابا محمد یحییٰ خان، ڈاکٹر نورمحمد اعوان، پروفیسر عبداللہ بھٹی ایسے اعلیٰ پائے کے روحانی وصوفی دانشوروں نے اس پر لکھا ہو وہاں مجھ ایسا ادب کا ” کمی کمین“ کیا لکھ پائے گا؟۔ سو کیپٹن ریٹائرڈ لیاقت علی ملک سے گزارش ہے میری یہ ”آئیں بائیں شائیں“ قبول فرمالیں اور اپنا ایک نکما دوست یا ”بے ادب بچہ“ سمجھ کر مجھے معاف فرمادیں!


ای پیپر