تیسرا محاذ
31 اگست 2019 2019-08-31

پاکستان تیار ہے، چاہے وہ محاذ سفارتی ہو، جنگی یا کوئی اور کشمیریوں کے حقوق کی جنگ لڑنے کے لیے ہر طریقے سے صف بندی جاری ہے۔ صرف سفارتی سطح پر بات کریں تو آئے روز وزیراعظم اور وزیر خارجہ اپنے ہم منصبین سے موقف کی تائید مانگ رہے ہیں۔ سلامتی کونسل کے صدر کو چوتھا خط بھی لکھا جاچکا ہے۔ کشمیر کے معاملے پر اعتماد میں لینے کی یہ کوششیں پچھلے 26 روز سے جاری ہیں۔ دوسری طرف لولی، لنگڑی، اندھی مگر civilized دنیا کو پاکستان کے موقف کو سمجھانے کے لیے یوں تو گلگت سے کراچی تک ہر شخص سراپا احتجاج ہے۔ لیکن وزیراعظم پاکستان کے اعلان کے عین مطابق کل دنیا بھر کو پاکستانی عوام کی جانب سے دوپہر 12 بجے سے ساڑھے 12 بجے جو احتجاج ریکارڈ کروایا گیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ دفتر، اسکول، بازار یا پارلیمان میں بیٹھے ہر شخص کی جانب سے یہ پیغام مثبت انداز میں پہنچا کہ دنیا جان لے کہ کشمیر کا معاملہ محض سوا کروڑ کا نہیں کئی کروڑ کا ہے۔ ہماری خوشی اور غم کشمیریوں کے ساتھ متصل ہے۔ ایسے میں ایک تیسرا محاذ بھی ہے جس میں قیادت سیاسی ہو یا فوجی مسلسل متنبہ کیے جارہی ہے۔ وزیراعظم کا یہ بیان کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کی اب کوئی گنجائش نہیں اور سپہ سالار کا یہ کہنا کہ اپنے کشمیری بھائیوں کے حقوق دلانے کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔ لفظ 'گنجائش' اور 'حد' کے زیر تحریر دنیا کو کیا باور کروانے کی کوشش کی جارہی ہے دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا۔ اور جب بات سرپرائز کی ہوگی وہ بھی بھارت کو یہ یقین جانیے کہ یہ اب ہماری روایت بن چکی ہے۔ بدھ اور جمعرات کی رات بیلسٹک میزائل غزنوی کے تجربے نے بھارت کو پیغام دے دیا ہے کہ ایک انگلی کی جنبش پر 270 کلومیٹر کے Radius میں بھارت کے کئی شہر ہوں گے۔ اور تو اور سپہ سالار نے سٹرائیک کور فارمیشن کا بھی دورہ کر ڈالا۔ جنگی حالات میں سٹرائیک کور کا کردار انتہائی اہم اور فیصلہ کن ہوتا ہے۔ اس کور کا کام دفاع نہیں صرف اٹیک ہوتا ہے۔ اور اس بات کا بھارتی فوج کو بخوبی اندازہ ہے۔ یوں کہیے کہ جنگی حالات میں ساتھ ساتھ یہ باور کروانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ عالمی رائے عامہ اور پرامن احتجاج ہماری کمزوری نہیں بلکہ اسٹریٹجی کا حصہ ہے۔ نظام زندگی مفلوج ہے لیکن دنیا سے کچھ اوجھل نہیں پہلی مرتبہ عالمی میڈیا مواصلات کے تمام ذرائع بند ہونے اور مکمل میڈیا بلیک آو¿ٹ ہونے کے باوجود کشمیر کے حالات لمحہ بہ لمحہ دنیا کے سامنے پیش کررہا ہے۔ لیکن نہایت حیرانگی کے ساتھ یہ سوال ہے کہ تمام صورتحال ساری دنیا کے سامنے ہونے کے باوجود موثر انداز میں وہ ردعمل نہیں آرہا جس کی گنجائش یمن، شام، عراق، لیبیا میں مفادات کے ٹکراو¿ میں دیکھنے میں آئی۔26 روز گزر گئے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا گیا جس سے کشمیریوں کی زندگی آسان ہو۔ ان کو بھی آزادی کے ساتھ زندگی جینے کا حق حاصل ہوسکے۔ مکمل آزادی سے زندگی جینا تو دور کی بات کشمیر میں اس وقت دو افراد کے ایک ساتھ کھڑے ہونے پر بھی پابندی ہے۔ لوگ نماز جمعہ ادا کرنہیں سکتے۔ کرفیو اتنا سخت ہے کہ باہر نکلنے والے نوجوانوں کو اغوا کرلیا جاتا ہے اور پھر چند دنوں بعد بہیمانہ تشدد زدہ لاشیں کسی نہ کسی سنسان سڑک سے ملنا شروع ہوجاتی ہیں۔ لیکن یہ کرفیو، پابندیاں سب صرف کشمیری مسلمانوں کے لیے ہیں۔ سخت ترین کرفیو ہونے کے باوجود سری نگر کے لال چوک میں ہندوو¿ں کی عبادت، دس روزہ گن پتی پوجا کا اہتمام کیا جارہا ہے جس کا آغاز دو ستمبر سے ہوگا۔ دنیا کو یہ بات کیوں سمجھ نہیں آرہی کہ کشمیر سمیت ہندوستان کو اسی جانب لے جایا جارہا ہے جو نریندر مودی اور بی جے پی کا روز اول سے منشور اور پلان تھا یعنی 'ہندوتوا کا پرچار' کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا معاملہ جب بھارتی سپریم کورٹ میں پہنچا تو کورٹ نے پانچ رکنی لارجربینچ بناتے ہوئے سماعت اکتوبر کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی۔ یعنی کالا کرو یا سفید بھارت کی سپریم عدالت اکتوبر تک اندھی رہے گی۔ ویسے ماضی میں بھارتی سپریم کورٹ سے مسلمانوں کو کبھی ریلیف نہیں ملا معاملہ بابری مسجد کا ہو یا پھر گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کا، سانحہ سمجھوتا ایکسپریس یا کشمیری رہنما افضل گرو کی پھانسی۔ یہ تمام مقدمات آج تک بھارتی عدلیہ پر بدنما داغ ہیں۔ خیر نہایت نا امیدی کے ساتھ ایک اور ٹیسٹ کیس سہی۔ لیکن سلام ہے بین الاقوامی میڈیا کو جو خواہشوں اور ضروریات کے محتاج اپنے سربراہان مملکت کو جھنجوڑنے کی کوشش کررہے ہیں کہ شاید ان کی تحریر اور مناظر میں وہ طاقت ہو کہ عالمی طاقتوں کا ضمیر جاگ سکے۔ گارڈین کو لے لیجیے جو کہتا ہے مقبوضہ وادی کی صورتحال ایک آتش فشاں کی مانند ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ بھارتی فوج چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کررہی ہے۔ قابض افواج نے 8 ہزار افراد کو جیلوں میں قید کررکھا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی بات کریں تو کہتا ہے کہ نہتے کشمیری پیلٹ گنوں اور سخت پابندیوں سے لڑ رہے ہیں۔ متنازع پبلک سیفٹی ایکٹ کے نام پر قابض فوج نے ہزاروں افراد کو جیلوں میں بند کررکھا ہے۔ بلوم برگ نے تو بھارتی اقدام پر یہاں تک لکھ دیا کہ بھارت اپنے پیروں پر خود کلہاڑی مار رہا ہے۔ میرے لیے بڑی حیرانگی کی بات یہ ہے کہ یہ وہ میڈیا ہے جو کبھی اتنے بڑے پیمانے پر ظلم و ستم کی خبر فائل کردے تو دنیا بھر میں افراتفری مچ جاتی ہے لیکن یہاں اقوام عالم، ہیومن رائٹس کے تمام ادارے اپنے کردار کو مشکوک کیوں بنا رہے ہیں؟


ای پیپر