اقوام متحدہ کی رپورٹ نے امریکہ کے ایران پر الزامات کو غلط ثابت کر دیا
31 اگست 2018 (16:18) 2018-08-31

ویانا: اقوام متحدہ کے جوہری سرگرمیوں کے نگران ادارے اپنی جاری ہونے والی ایک خفیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران 2015 میں عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنی جوہری سرگرمیوں سے متعلق طے پانے والے معاہدے کی پابندیوں کے اندر رہتے ہوئے کام کر رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مئی میں امریکہ کو معاہدے سے نکالنے اور ایران کے خلاف پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد، انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے دوسری سہ ماہی کی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی، افزودہ یورینیم کے ذخائر اور دوسرے امور میں طے کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے کام کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران کی جانب سے بروقت اور موثر تعاون فراہم کیا گیا، جس میں تنصیبات تک رسائی، اضافی ضابطوں کا اطلاق اور اعتماد میں اضافہ شامل ہے۔ادارے کے ایک سینئر عہدے دار نے کہاکہ یورینیم کی پیداواری سطح تبدیل نہیں ہوئی اور باقی تمام امور بھی قواعد کے مطابق ہیں۔

رپورٹ دیکھنے کے بعد فرانس کے وزیر خارجہ نے کہا امریکا کے اخراج کے باوجود ان کا ملک بدستور معاہدے پر قائم ہے۔انہوں نے ویانا میں ایران سے متعلق یورپی یونین کی پالیسی پر غور کرنے کے لیے اکھٹے ہوئے والے وزرائے خارجہ سے کہا کہ تہران کو امریکی پابندیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں اور ایک ایسا مستقل مالیاتی طریقہ کار اپنایا جائے جو ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے میں معاون ثابت ہو۔


ای پیپر