وزیر اعظم ، قائد اعظم ثانی نہیں، قائد اُمت بن جائیں
31 اگست 2018 2018-08-31

مجھے کوئی ضرورت نہیں کہ تحریک انصاف کے اندرونی اور ”ثواب دیدی“ سیاستدانوں کے فکر و عمل پہ تبصرہ آرائی کروں، کہ خاکوں کے حوالے سے ” ناپاکوں “ کی سَر کوبی کیلئے وزیر خارجہ نے ، وزیر اعظم نے ، یا پھر ڈاکٹر عامر لیاقت حُسین نے جو اس بات سے ناراض ہیں، کہ میری وجہ سے وزیر خارجہ اور وزیر اعظم نے سینٹ مین مذمتی قرار داد منظور کرائی، مگر میرا کہیں ذکر تک نہیں، میرا خیال ہے کہ دنیا کو بتانے کی کیا ضرورت ہے، دنیا بنانے والے کو تو پتہ ہے، کہ اُس کے محبوب کے اُمتی نے ان کی حرمت کی خاطر جہاد اکبر کا ثواب اپنے نام کرا لیا ہے۔
بُروز حشر شفاعت کریں گے چن چن کر
ہر اک غلام کا چہرہ حضور جانتے ہیں
اُنہیں خبر ہے کہیں سے پڑھو درود اُن پر
تمام دہر کا نقشہ حضور جانتے ہیں
جیسے کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ میری کسوٹی حُب اور غلامی رسول ہے کہ جس انسان کو بھی دعویٰ عشق نبی ہے، راقم اُس کے لیے بھی جذبات پیار بلکہ احترام غلامانہ رکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے کروڑوں عوام کو ہی نہیں ، پوری مسلم امہ کے ساتھ میرے دِل میں بھی گھر کر لیا ہے، جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا احتجاج کا فیصلہ اور ہالینڈ کے وزیر خارجہ کے ساتھ فون پہ بات تو اسی حکومت نے کی ہے، گو (ن لیگ ) کے دور میں بھی حکومت نے پر زور احتجاج کر کے اور عالمی فورم پر جاکر اس کی بندش کا بندوبست کر لیا تھا۔
اَب خصوصاً ہالینڈ نے خاکوں کا جو معمول بنا رکھا ہے ، خدا انہیں ہدایت دے، یا غارت کرے، دَر اصل گستاخان رسول کی فہرست خاصی طویل ہے، مگر ظہور رسول کے بعد جب رحمت العالمین پوری دُنیا کے انسانوں کے لئے روشنی لے کر آئے اور راہ ہدایت دکھانی شروع کی۔ اور بقول ہمارے ہادی برحق کے کہ اب تک جتنے بھی پیغمبر یا رسول اور نبی آئے ہیں، کسی خاص قوم یا خطے کے لئے تشریف لائے ہیں، جبکہ میں تمام انسانیت کی راہنمائی ، عرب اور عجم کی تمیز کے بغیر مبعوث کیا گیا ہوں اور خصوصاً آپ کی آمد کا مقصد یہ تھا کہ احسن تقویم ، اخلاق کا ذریعہ اسقدر بلند کر دیا جائے کہ باقی مذاہب کے لوگ اِس پر رشک کریں، آپ جب بھی شیشہ دیکھتے تو یہ فرماتے ، الٰہی میرے اخلاق حسنہ بھی میری مشکل کی طرح خوبصورت بنا دے، وہ اخلاق اعلیٰ کی جن بلندیوں پر فائز تھے، اِس کی مثال ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی، وہ مصافحہ کرنے والے سے اِس وقت تک ہاتھ نہ کھینچتے تھے جب تک وہ خود واپس نہ کرتا، وہ سرگوشی کرنے والے سے بھی سر پیچھے نہ کرتے، جب تک وہ خود سر پیچھے نہ کر لیتا، وہ مہمان کی تواضح اور دلداری میں اس وقت تک مصروف رہتے، جب تک وہ خود واپس نہ چلا جاتا، وہ تو زخمی کرنے والوں اور کانٹے بچھانے والوں کو بھی دُعائیں دیتے،
تو پھر کیا وجہ ہے کہ مغربی دنیا ایسی ہستی کے کردار و افکار کو گہنانے کی سعی لا حاصل میں مسلسل مصروف ہے، در اصل صہےونیت مسلمانوں سے اس وقت سے لگا گھائے بیٹھی ہے، اور ذہنی طور پر مرعوب ہونے کی بنا پر اُس کو خطرات صرف مسلمانوں سے ہیں کیونکہ عیسائی، تو محض یہودی لابی کے زیر اثر انہیں کی سوچ سے سوچتے اور انہیں کے پیسے سے پالیسیاں بناتے ، حتیٰ کہ اپنے صدور اور حکمران منتخب کراتے ہیں، فرعون ثانی اِن موجودہ خاکوں کا بانی ہے، اخلاق و کردار سے عاری یہ شخص مذہبی جنونی ، اُمت مسلمہ کو قریب المرگ یا مدہوش و بے ہوش سمجھتے ہوئے۔ خاکوں کی صورت انہیں سُوئیاں چبھوتا ہے تا کہ رد عمل دیکھ کر اُس کی ہوش مندی اور غیرت ایمانی کا جائزہ لے ، مگر حیرت اور پریشانی تو اس وقت ہوتی ہے کہ خود کلمے کے نام پر حاصل کئے گئے ملک میں حضور کی شان اور گستاخانِ مصطفےٰ کے خلاف جو مظاہرے کئے گئے نجانے کِس بدبخت کے حکم پر اور کس کی فرمائش پر اُنہیں منتشر کرنے والوں کو سفاکانہ طریقے سے زخمی اور شہید کیا گیا یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ اِن مظاہرین پر گولیاں برسانے والے ملازمین کے بھی یہی رسول ہیں، اور وہ بھی انہیں کی طرح کلمہ پڑھتے ہیں، بجائے اس کے وہ بھی ان احتجاجی مظاہرے میں شریک ہو کر ان بدبختوں سے نفرت کا اظہار کرتے۔ اُن کو تشدد کا حکم دینا ، اور اُن کا یہ عمل کرنا سمجھ سے باہر ہے، کیونکہ ہمارا ملک جن کے نام پہ بنا اُن کی رحمت تو کل عالموں پہ مُحیط ہے، تو پھر کون ایسا پلید تھا جو مسلمان ہو کر مسلمانوں کا قاتل بنا؟ ماضی کے ان واقعات لکھنے کا مقصد مسلمانوں کی صفوں میں انتشار کرنیوالوں مگر یہ بھی تو ایک حقیقت ہے ، کہ ہندو، سکھ ، عیسائی اور یہودی بھی طاقت غیبی ،، کے تحت جوق در جوق صرف چودہ سو سال سے نہیں، بلکہ ابھی تک مسلمان ہو رہے ہیں، کہ ان کے تجربات و واقعات پر ضخیم کتابیں چھپنے لگی ہیں، کہ میں مسلمان کیوں ہوا، جیسے تمام جہانوں کا رب ایک ہے ، ایسے ہی تمام جہانوں کا نبی آخر بھی ایک ہی ہے۔
حضرت مجدد الف ثانی ؒ کے پاس ایک ہندو گیا ، جس کا نام ہوپت رائے تھا ، اُس نے فارسی سیکھنے کے لئے ایک اُستاد رکھا جس نے ہوپت رائے کے بیٹے کو فارسی کی مشہور عالم کتاب گلستان و بوستان پڑھانی شروع کی، جس میں وہ ایک نتیجے پہ پہنچا کہ پیغمبر عالم کو چھوڑ کر منزل حاصل نہیں کی جاسکتی، ہندو کے بیٹے کے ذہن میں تعلیمات اسلامی کے جاننے اور سمجھنے کے لئے بے شمار سوالات آتے، مگر وہ اِس خیال سے کہ کہیں ہندو برادری بگڑ نہ جائے، اِس لئے اُستاد جوابات سے پہلو تہی کرتا۔
آخر کار جب اُس کا تجسس ، اشتیاق بلکہ رغبت اِس قدر شدید ہوگئی، کہ اُس خوش نصیب کو سر کار دو عالم کی زیارت نصیب ہوئی، جنہوں نے خود اُنہیں کلمہ پڑھایا، جن کا بعد میں عیدالنبی شامی نام رکھا گیا، اور انہوں نے شام چوراسی کے مقام پہ اسلام کی بے پناہ خدمت کی۔ کہنے کا مقصد تو یہ ہے کہ حضور کی رحمت تو بلا امتیاز مذہب ہر شے پر محیط ہے، ان جیسی ہستی جن کے ہاتھوں کسی کو گزند نہ پہنچا، چاہے وہ اُن کی جان کے دشمن تھے، تو پھر خاکے بنانے والے کون ہیں؟ اور ان ملعونوں کا مقصد کیا ہے؟ اس کے پیچھے کیا مضمرات ہیں؟ اُن کے ان نہ ختم ہونے والے منصوبے کا مقصد کیا ہے؟ پچھلی دفعہ تو ہم سے بہت سے زیادہ حق تو پاکستان میں جے سالک نے بھی ادا کر دیا تھا، لیکن کیا وجہ ہے کہ دُنیا نے یہ نہیں دیکھا، کہ خاکے چھاپنے والے اخبار کا ایڈیٹر زندہ جل مرا، غازی علم دین کی طرح ہم انتقام نہ لے سکے، تو قدرت نے خود انتقام لے لیا۔ غازی علم دین کی قسمت پہ تو عاشق رسول حضرت علامہ اقبال بھی رشک کرتے تھے کہ بڑھئی کا بیٹا ہم پہ بازی لے گیا، اُس وقت خانہ کعبہ کی چھت پر بار بار چڑھنے کا دعویٰ کرنے والے اور اپنے ہی عوام پہ رعب جھاڑنے والے کی اُس وقت کے فرعون ثانی کے آگے کیوں گگھی بند ہو گئی تھی۔ اپنے عوام پر حکمرانوں کے رعب جھاڑنے کو تو ہم ” خاک رعب “ سمجھتے ہیں۔ جبکہ پاکستانی خاکروب کے جذبے اور جرا¿ت کی داد دینی چاہئے کہ وہ اپنے حق کیلئے ناظم کے سامنے ڈٹ جاتاہے، اور اپنا حق لیکر رہتا ہے۔
کیا ہم پونے دو ارب مسلمان ، اپنے جان مال اُولاد سے پیارے نبی کی حرمت کیلئے سر بکف نہیں ہوسکتے؟ اور اپنا حق نہیں لے سکتے؟ پاکستان کو فوراً ہالینڈ سے اپنا سِفارتی عملہ نکال کر ، اُس کے سفارت خانے کو معافی مانگنے تک بند کر دینا چاہئے، اگر ایسا کر لیا گیا تو یقین کریں کہ عمران خان ، صرف پاکستان کے قائد نہیں بلکہ پورے مسلمان ممالک کے قائد بن جائیںگے۔ اس کیلئے سو دن تک انتظار نہیں کرنا پڑیگا ایک ہی دِن میں آپ ہیرو بن جائینگے۔ میں بھی حفیظ تائب ؒ کی طرح دُعا گو ہوں۔
پس ماندہ میری عقل ہے، محدود میری سوچ
مولا میرے شعور کو وسعت کی بھیک دے
میں بھی غم حبیب سے کرلوںذرا سا پیار
مُجھ کو زمانہ تھوڑی سی فرصت کی بھیک دے
کہتا ہے کون تجھ سے مُسرت کی بھیک دے
تو میرے دل کو دَردِ محبت کی بھیک دے
حیرت کی بھیک ملتی رہی ہے اسے مدام
میری نظر کو آج زیارت کی بھیک دے
وزیر اعظم کو اللہ نے موقع دیا ہے کہ وہ اللہ کے حبیب کی حُرمت کی خاطر کسی دباﺅ کو خاطر میں لائے بغیر ہالینڈ کے ساتھ تعلق کو قربان کر دیں، اور اس معاملے میں باقی مسلمان ممالک کی قیادت سنبھال لیں، آپ کے باقی معاملات اللہ خود ٹھیک کر دیگا.... جاری ہے ، رابطہ دوپہر کے بعد 0300-4383224


ای پیپر