آرمینیا اور آذربائیجان کی جنگ کی وجہ کیا ہے ؟
30 ستمبر 2020 (19:19) 2020-09-30

پیرس : فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ترکی پر الزام لگایا ہے کہ وہ لاپرواہ اور خطرناک بیانات کے ذریعے آذربائیجان کو اکسانے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان متنازعہ علاقے ’’ نوگورنا کاراباخ‘‘ پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے۔ 

فرانسیسی صدر نے ایک بیان میں آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جنگ کے حوالے سے ترکی کے بیان کو لاپرواہ اور خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی کی طرف سے یہ آذربائیجان کو بھڑکانے کی کوشش ہے تاکہ وہ متنازعہ علاقے پر قبضہ کرنے کا سوچنا شروع کر دے۔ آذربائیجان اور آرمینیا میں تنازعہ فرانس اور ترکی کے تجارتی راستوں کی وجہ سے ہوا۔

آذر بائیجان اور آرمینیا کے درمیان جنگ کو شروع ہوئی آج چوتھا روز ہے۔ جنگ شروع ہونے سے لیکر اب تک آذروہ آرمینیا کے تقریبا 2300 فوجی ہلاک یا زخمی کر چکے ہیں۔ آذربائیجان کو ترکی کی طرف سے اکسایا  جا رہا ہے کہ وہ ’’ نوگورنا کاراباخ‘‘پر حملہ کر کے قبضہ کرنے کی کوشش کرے۔ 

یاد رہے کہ سرکاری طور پر نوگورنا کاراباخ آذربائیجان کا حصہ ہے۔ جس پر آرمینیا نے قبضہ کر رکھا ہے۔ یہ آذر بائیجان کا ماننا ہے۔جبکہ آرمینیا کا  دعویٰ ہے کہ یہ ہمارا علاقہ تھا جب سویت یونین ایک ہوا کرتے تھے اور آرمینیا جب سویت یونین کے ساتھ ملا تھا تو یہ پورا علاقہ ایک ہو گیا تھا۔ جارجیا ٗ آرمینیا ٗ آذربائیجان اس وقت سویت یونین کا حصہ ہو گئے تھے۔

 جب 1991  میں روس کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے تو سب ممالک الگ ہوگئے تھے۔ تب سے نوگورنا کاراباخ پر آذربائیجان اور آرمینیا میں تنازعہ چل رہا ہے۔ اس سلسلہ میں آذر بائیجان اور آرمینیا کے درمیان 1994 میں جنگ بندی ہو گئی ہے تب سے یہ نوگورنا کاراباخ سرکاری طور پر آذربائیجان کا حصہ ہے جبکہ اس کا کنٹرول آرمینیا نے سنبھال رکھا ہے۔ 


ای پیپر