صحافت:مقصدیاکاروبار
30 ستمبر 2020 (12:35) 2020-09-30

لفظ کی حرمت اور ابلاغ……گزشتہ سے پیوستہ…… جب ہندوستان میں انگریز آئے تو یہاں پرابلاغ کے جدیدذرائع نہیں تھے۔ پرنٹ میڈیا نہیں تھا الیکٹرانک میڈیا نہیں تھا۔  پریس بھی ان کے آنے کے بعد آیا۔ فورٹ ولیم کالج ۱۸۰۰ء میں قائم ہوا۔ فورٹ ولیم کالج نے پریس لگایا اور اس کے بعد کتابیں چھپنا شروع ہوئیں اور اس کے بعد اخبارات کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہوا۔  ۱۸۲۲ء میں پہلااردواخبار نکلا جام جہاں نما نام تھا اس کا اور منشی سداسکھ لال اس کے مدیرتھے۔ پھرصبح آزادی تک سیکڑوں اخبار نکلے۔ اخبارات نے عام بیداری(Awareness)پیداکی۔ اخبارات ہی نے لوگوں کومجتمع کرنے کاکام کیا، جیسے اب فیس بک جمع کرتی ہے، پرنٹ میڈیاہی تھا جس نے لوگوں کو جمع کیا تھا۔ اخبارات ہی نے یہ احساس پیدا کیا تھا کہ آپ غلام ہوگئے ہیں۔ اب آپ کو غلامی کے خلاف اٹھنا ہے اوراخبارات کی جوشکل ہوتی تھی، آپ میں سے جو تاریخ سے آشنا ہیں وہ لوگ اس سے واقف ہیں کہ، اتنی ترقی یافتہ نہیں تھی اور اس میں رنگین تصویریں ابھی نہیں چھپتی تھیں۔رنگین تصویروں کے لیے بڑی محنت کرنی پڑتی تھی۔ رنگوں کے چاربلاک الگ الگ بنتے تھے اور وہ سنگی بلاک ہوتے تھے، پتھر کے بنتے تھے، پھر اس کی پرنٹنگ الگ الگ ہوتی تھی۔ بڑا مشکل تھا، تو اخبار کے پہلے صفحے پرنظم چھپتی تھی اور وہ نظم جوہے وہ اگلے دن زبان زدِ عام ہوتی تھی۔ سوسائٹی اس کو پڑھتی تھی۔ لہٰذا شعرا ایسی نظمیں لکھتے تھے کہ جن سے تحرک  motivation پیدا ہو۔ جن سے احساس بیدار ہو۔ جن نظموں سے لوگوں کے دلوں میں غلامی کاشعور پیداہواور وہ آزادی کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ 

یہ جتنے اخبار ہیں مثلاً  الہلالابوالکلام آزاد نے نکالا، ہمدرد ہے محمدعلی جوہر نے نکالا،ظفرعلی خان کا  زمیندار ہے،  سیاست ہے جوسید حبیب نے نکالا اور بہت سے اخبارات ہیں۔ ان تمام اخبارات کے مالکان بڑے پڑھے لکھے لوگ تھے وہ شاعربھی تھے،ادیب بھی تھے،عالم بھی تھے۔ وہ عربی،فارسی انگریزی سب سے واقف تھے۔ مولانا محمدعلی جوہر نے انگریزی میں بھی اخبار نکالا، اردو میں بھی نکالا، اردو میں  ہمدرد، انگریزی میں The Comradeاور کامریڈ کی انگریزی اتنی شاندار تھی کہتے ہیں وائسرائے کی بیگم صبح  کامریڈ کاانتظارکرتی تھی جس دن تاخیرہوجاتی تو وائسرائے ہاؤس سے  کامریڈ کے دفتر فون آجاتا تھاکہ آج اخبارنہیں آیا۔ کسی نے مولانا محمد علی جوہر سے کہاکہ مولانا کہ آپ کے اداریے بڑے شاندار ہوتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ طویل بہت ہوتے ہیں،اگر تھوڑے مختصر ہوں تو کیا ہی بات ہے۔ مولانا نے کہا بھائی میرے پاس مختصر لکھنے کاوقت نہیں ہوتا۔ بڑی مزے دار بات کی ہے کہ جب آپ کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے تو پھرلمبی گفتگو ہوگی اور جب آپ کے پاس کہنے کو کچھ ہے تو پانچ منٹ میں مکمل ہوجائے گی یا جتنی دیر میں آپ چاہیں مکمل ہوگی تومختصربات تیار کرنے کے لیے بڑی فرصت درکارہوتی ہے۔ چیزوں کو،مطالعے کو،بیان کو، تحریروتقریرکو جتنا چاہیں وسعت دیتے رہیں، پھیلاتے رہیں لیکن انھیں سمیٹنے 

کے لیے بڑی محنت چاہیے توانھوں نے کہامیرے پاس اتنی فرصت نہیں ہوتی کہ میں مختصر لکھوں۔ اس لیے پھر جس طرح خیالات آتے ہیں میں لکھ دیتا ہوں۔ تواب یہ سب لوگ جوتھے،یہ مشنری تھے یعنی انھوں نے صحافت کا شعبہ اختیارکرکے پیسہ نہیں بنایابلکہ نقصان اٹھائے۔ زمیندارکی ضمانت ضبط ہو جایاکرتی تھی،جو سیکورٹی جمع کروائی جاتی اسے بحق سرکار ضبط کر لیا جاتا تھا۔ کوئی نظم چھپ گئی،کوئی ایسا اداریہ لکھ دیا جو حکومت کی طبع نازک پر گراں گزرگیا،کوئی ایسا مضمون چھاپ دیا جو سرکار دولت مدارکو پسند نہ آیاتو ضمانت ضبط،اب اگر دوبارہ ضمانت داخل نہ کریں تو اخبار کی اشاعت کا سلسلہ موقوف۔وہ لندن گئے اور لندن سے واپس آکر مضمون لکھا  جس میں شعرتھا   ؎

چہار چیز است تحفہئ لندن

خمر و خنزیر و روزنامہ و زن 

ملتان کے بارے میں مشہورشعر تھا:”چہارچیز از تحفہئ ملتان + گردو گرما،گدا وگورستان“ ……کہ ملتان کے چار تحفے ہیں مٹی ہے، گرمی ہے، فقیر ہیں اورقبرستان ہیں توانھوں نے اس شعر کو تبدیل کرکے یوں بنادیاکہ     ؎  

چہار چیز است تحفہئ لندن

خمر و خنزیر و روزنامہ و زن 

یہ شعرچھپا تواخبار ضبط ہوگیا اور سیکورٹی بھی ضبط ہوگئی۔پریس بھی اٹھا کے لے گئے تو اس کے بعد پھر وہ چندے وندے جمع کرتے تھے اور پھر وہ سیکورٹی دوبارہ جمع ہوتی، پھر اخبارنکالتے تھے۔ اپنی صحافتی زندگی میں کل ملاکرچودہ سال تو جیل میں رہے۔اخبارکے ایڈیٹرنے چودہ سال جیل کاٹی، اپنے ان آرٹیکلز اوران مضامین کی وجہ سے جو وہ قوم کی بیداری کے لیے لکھتے تھے۔کبھی ددسال، کبھی پانچ سال، کبھی سات سال کل ملاکر چودہ سال۔ محمدعلی جوہر پربُرا وقت آیا، ابوالکلام آزاد پربُرا وقت آیا،حسرت موہانی پر براوقت آیا،ظفرعلی خان پربراوقت آیا۔ تو صحافت سے مقصودکیاتھا۔ صحافت سے مقصود پیغام رسانی تھی۔ صحافت سے مقصود تربیت تھی، صحافت سے مقصود تذکیر تھی۔ صحافت سے مقصود کاروبار نہیں تھا۔ گھاٹے کاسوداتھا لیکن اس گھاٹے کے سودے سے نفع ہوا۔ نفع ہوا آپ کو، نفع ہوا مجھے، نفع ہوا نسلوں کو……پاکستان بن گیا، یہ چھوٹا نفع ہے……؟ قوم کوآزادی مل گئی۔ قوم بن گئی، انگریز سے نجات مل گئی۔ آپ جوکلرک سے آگے نہیں جاسکتے تھے اب وزیراعظم بننے لگے، اب آپ صدر بننے لگ گئے، اب آپ گورنر بننے لگ گئے، اب آپ وزیر بننے لگ گئے۔ کوئی مسلمان کلرک سے آگے نہیں جاتا تھا، پڑھے لکھے ہی نہیں تھے۔ تعلیم ہندوؤں کی تھی مسلمانوں کی نہیں تھی۔

غلامی سے پہلے مسلمانوں میں سب سے زیادہ تعلیم تھی لیکن انگریز نے ایک تکنیک کے ذریعے سے مسلمانوں کی تعلیم کی نفی کردی تھی۔ اس لیے کہ ان کی تعلیم کو مارکیٹ سے کاٹ دیا تھا۔ جو ایجوکیشن،مارکیٹ سے کٹ جاتی ہے وہ صفر ہوجاتی ہے۔ آپ جانتے ہیں، آپ کاروباری لوگ ہیں، تو اس طرح مسلمان زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے تھے اور ہندو آگے نکل گئے تھے۔ یہ جن صحافیوں نے قربانیاں دیں، جن صحافیوں نے اپنے قلم کی حرمت کو ماں بہن کی حرمت کی طرح سمجھا۔ نقصان اٹھائے،ان نقصانات سے آپ نے فائدہ اٹھایا،ہم نے فائدہ اٹھایا۔ قوم نے فائدہ اٹھایا ایک نیا ملک بن گیا۔ جہاں تک اس خیال کاتعلق ہے کہ جناب اظہار خیال کی آزادی  Freedom of Expression ہونی چاہیے اور دوسرا خیال یہ ہے کہ ہم نے اپنی Product بیچنی ہے۔ تو Freedom of Expression کی بات تو میں نے پہلے کردی کہ Expression جو ہے آپ کی تہذیب کا تقاضا ہے کہ وہ Edited ہو۔ Expression کو Edited ہونا چاہیے کہ آپ کی زبان سے جو لفظ نکل رہا ہے اندر سے EditingProcess  سے ہو کر باہر آرہاہے۔ بے ساختہ باہر نہیں آرہا ہے یہ ایڈیٹنگ تو آپ کے اپنے اندرہونی چاہیے۔ لہٰذا ہراچھے انسان کے اندر ایک ایڈیٹر ہونا چاہیے۔ تو صحافی اپنے قاری(Reader) کو یہ سکھاتا ہے کہ تم بھی ایڈیٹر بنو۔ میرے جیسے ایڈیٹر کہ جیسے میں اپنے لفظوں کاپارکھ ہوں، جیسے میں اپنے لفظوں کانگہبان ہوں،جیسے میں اپنے لفظوں کو سلیقے سے استعمال کرتاہوں تم بھی اسی طرح لفظ کااستعمال سیکھو، تم بھی اس طرح لفظوں کو استعمال کرو اور یہ جانو کہ زبان، تذکیر خیال کاذریعہ ہے وہ Purification کاذریعہ ہے۔ آپ جذبات کی تذکیر کرتے ہیں، زبان انھیں، پاکیزگی عطاکرتی ہے۔ ایڈیٹنگ کے بعد باہرلاتی ہے۔تو یہ تربیت ایک سچاصحافی کرتا ہے،وہ اپنے عمل سے قوم کی تشکیل کرتا ہے۔ (جاری ہے)


ای پیپر