عافیت اور آفت!!
30 ستمبر 2020 (11:58) 2020-09-30

عافیت کا تعلق دولت سے نہیں، اور نہ کسی منصب و طاقت سے ہے۔ عین ممکن ہے‘ ایک شخص کے پاس دولت کی ریل پیل ہو‘ لیکن وہ عافیت کے سائبان سے نکل چکا ہو۔ عین ممکن ہے‘ ایک شخص طاقت اور شہرت کے کسی منصب ِ جلیلہ پر فائز ہو‘لیکن دَرپردہ اُس کا پردہ فاش ہو چکا ہو۔ عافیت ایک متوسط اور غیر معروف خاندان کی میراث بھی ہو سکتی ہے۔ عین ممکن ہے‘ ایک مزدور کا کچا گھروندااُس کے لیے جنت ہو، اس کی نیک سیرت بیوی گھر کے دروازے پر اُس کا استقبال کرے، اُس کی چارپائی کے گرد اُس کے لیے پانی کا چھڑکاؤ کرے، اپنے ہاتھ کی تازہ روٹی اپنے سامنے بٹھا کر کھلائے، اور اس اثنا کسی فرمائش یا گلے شکوے سے اُس کی سماعتوں کو آلودہ نہ کرے، اُس کے سامنے اس کے بچے کلکاریاں مارتے ہوئے اُس کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کریں …… اور اِس کے برعکس بھی ممکن ہے۔عین ممکن ہے‘ ایک چار کنال کے بنگلے میں ہر قسم کی آسائش و آلائش مہیا ہو‘ لیکن بچے باپ کے نافرمان، بیوی منہ بسورے ہر وقت منہ میں گلے شکوے کی گلوری رکھے نظر آئے اور باپ اپنے دفتر کی پریشانی کو پیشانی کی سلوٹوں کی صورت چڑھائے خانساماں کے ہاتھ کا کھانا زہر مار کر رہا ہے۔ غرض‘ کہنے اور دیکھنے کو گھر لیکن حقیقت میں مکان کا ہر مکیں محسن کشی کرے اور اپنی اپنی اَنا کی سولی پر لٹکا رہے، یعنی وہ خودو عافیت میں رہے‘ اور نہ دوسروں ہی کو رہنے دے …… اور اِس کے برعکس بھی ممکن ہے۔ 

ایک وقت تھا‘اوریہ زیادہ دُور کا وقت نہیں‘ جب بڑے بوڑھے دُعا دیا کرتے تھے”رب سوہنا! تھانے،کچہری،ہسپتال سے بچائے“  اِس محاورہ نما دُعا پر غور کریں تو عافیت اور آفت دونوں کا مفہوم سمجھ میں آجاتا ہے۔ پنجاب کی بُوباس سے آشنا لوگ پنجابی کے ایک لفظ سے بخوبی واقف ہیں، اللہ نہ کریں اس لفظ کے معنی سے کبھی واسطہ پڑے…… وہ لفظ ہے”پڑتھو“…… یعنی اچھے بھلے بیٹھے ہوئے تھے، اچانک”پڑتھو“ پڑ گیا، اگرچہ اُردو میں کہہ سکتے ہیں‘ افتاد پڑگئی، لیکن اِس اُفتاد میں عافیت کے لمحے کایک لخت رخصت ہونے کا مفہوم شامل نہیں۔ بہر طور عافیت کے مفہوم پر غور کرنا چاہیے اور اس کی دُعا کرنی چاہیے۔ مسنون دعاؤں میں ایک معروف دُعا ہے ”اللّٰھم اِنّی اسئلک عفوَ و العافیۃ فی الدین والدنیا ولآخرۃ“  (اے اللہ! میں تجھ سے معافی اور عافیت کا طلب گار ہوں، دین، دنیا اور آخرت میں)۔ عفو اور عافیت میں گہرا تعلق ہے۔ معافی مانگنے اور معاف کر دینے سے انسان عافیت میں داخل ہو جاتا ہے۔یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ دنیا کے ساتھ ساتھ دین اور آخرت میں بھی عافیت مانگی جا رہی ہے۔ آخرت میں عافیت کی 

ضرورت تو اَز بس ہوگی……کہیں ایسا نہ ہو کہ نجات کے لیے اچانک ایک نیکی کم پڑ جائے اور ہم اس کے لیے مارے مارے پھرتے رہیں۔ وہاں عافیت اُسے نصیب ہو گی‘جسے شفاعت نصیب ہو گئی۔ یہاں دین کے معاملات میں بھی عافیت مانگنے کی دعا سکھائی گئی ہے، یعنی دین کے فرائض آسانی اور خوش اسلوبی سے اَدا ہوتے رہیں، توفیق ِ الٰہی نیک اعمال میں شامل ِ حال رہے۔ دین کو آسان بیان کرنے والے عافیت اور عافیت دلانے والوں میں شامل ہیں۔ حکم ہے کہ دین میں آسانی پیدا کرو، خوش خبری سناؤ، یعنی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ کرو۔ رحمت کے مقابلے میں انسانوں کو فارمولے کے حوالے کرنے والے مبلغ دین دوست نہیں،یہ مشکل پسندلوگ نوعِ انسانی کو مشکل میں ڈالنے والے ہیں۔ دراصل دین انسان کو اس دنیا میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے آیا ہے، انسان کی گردن کو بے جا بوجھوں سے آزاد کرنے کے لیے آیا ہے، اس لیے دین میں کسی مڈل مین (پاپائیت) کا تصور نہیں۔ ہر کلمہ گو اِس کلمے کی برکت سے براہ راست عبادت کر سکتا ہے، دعا کر سکتا ہے، اپنے خدا سے اپنا رابطہ استوار کر سکتا ہے۔ واسطہ اور وسیلہ ہدایت کے لیے چاہیے ہوتا ہے، یہ پیغامِ ہدائت کو شعوری سطح پر سمجھنے کے لیے ہمیں ایک رول ماڈل کے طور پر درکار ہو تا ہے۔ یہاں توفیق کا تصور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ توفیق نیک ارادے اور نیک عمل کے درمیان حائل بیرونی رکاوٹوں کو دُور کرنے کی ایک خدائی مدد کا نام ہے۔ جہاں تک ثواب کا تعلق ہے، مومن کے لیے یہ خصوصی عنایت ہے کہ وہ نیک نیت کر لے‘  تو نیک عمل کے پایہ تکمیل تک پہنچے بغیر بھی اُس کے نامہ اعمال میں اُس کا اجر لکھ دیا جاتا ہے۔ ایک حدیث ِ مبارکہ کے مطابق مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے۔ عین ممکن ہے‘ میری نیت میں مسجد کی تعمیر شامل ہو لیکن بیرونی دنیا میں اسبابِ دنیا مہیا نہ ہو رہے ہوں کہ زمان و مکاں کی کڑیوں کو جوڑنا میر ے اختیار میں نہیں۔ جب توفیق مل جاتی ہے تو اسبا ب کی دنیا میں اسباب و نتائج کی کڑیا ں ملنا شروع ہوجاتی ہیں اور نیک ارادہ عمل کی دنیا میں جائے تکمیل تک پہنچ جاتا ہے۔ بے وضو شخص اپنی نماز ادا نہ کرنے کی وجہ توفیق کا نہ ملنا قرار نہیں دے سکتا ہے، کیونکہ اس کی نیت باوضو ہی نہ تھی۔جس نے ٹکٹ ہی نہ لیا ہو‘ اسے گاڑی کیسے ملتی۔ جس کی نیت میں فتور ہو‘ وہ مواقع میسر نہ آنے کا شکوہ نہیں کر سکتا۔ یہ کائنات ہمارے ارادے پر لبیک کہتی ہے۔ ارض و سماء کے مسخر ہونے کا مفہوم یہی ہے۔ وگرنہ اس بسیط و عمیق خلا کے کسی گوشے میں چہل قدمی کرنے کو خلا کی تسخیر کہنا ایک مضحکہ خیز بیان ہے۔ 

دنیا میں عافیت کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کی جان مال اور عزت بغیر کسی اضافی تگ و دَو کے محفوظ رہے۔ وہ ضروریات ِ زندگی کے لیے کسی کادست نگر نہ ہو…… دینے والا ہاتھ ہو، لینے والا نہ ہو۔ کسی دولت کی نمائش کے بغیر بھی اس کا بھرم قائم رہے، کسی شہرت کے سنگھاسن پر براجمان ہوئے بغیر بھی لوگ اس کی عزت کرنے میں آسانی محسوس کریں، کسی منصب دار کی منت سماجت کے بغیر بھی اس کے کام ہوتے رہیں۔ کنج ِ عافیت حاصل کرنے کے لیے بیرونی عناصر کے تعاون سے پہلے اندرونی عناصر میں گونہ اعتدال چاہیے۔ عافیت کے لیے  حالات سے زیادہ خیالات کی یکسوئی ضروری ہوتی ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کا قول ہے”پریشانی حالات سے نہیں‘ خیالات سے پیدا ہوتی ہے“۔ گوشہئ عافیت کی تعمیر میں قناعت، صبر اور توکل ایک کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔لالچ، حسد اور نفرت‘ عافیت کی پناہ گاہ سے بے دخل کردیتے ہیں۔ شکر گزاری عافیت کی پناہ گاہ کو مضبوط کرتی ہیں۔اسلام سلامتی ہے…… اس لیے جو شخص اسلام کے اصولوں پرچلتا ہے، شریعت ِ مطہرہ پر عمل کرتا ہے، اخلاقِ محمدی ؐ کو اپنے کردار میں نافذ کرتا ہے‘ وہ سلامتی اور عافیت میں رہے گا۔

  عافیت کا من و سلویٰ انسان کو راس نہیں آتا، یہ طعامِ واحد کی ناشکرگزاری کرتا ہے اور زعم ِ آگہی زمانہ میں اپنی کوشش کی کدال  کندھے پر رکھے اپنے لیے ساگ پیاز اُگانے کے لیے نکل کھڑا ہوتا ہے۔جونہی انسان اعلیٰ کے بدلے میں ادنیٰ طرزِ حیات کا انتخاب کرتا ہے‘ وہ عافیت سے نکل کر آفت کے حوالے ہو جاتا ہے۔ آفت یہ ہے کہ اُس کے سر سے عافیت کا سائبان اٹھا لیا جائے۔ آفت ِ زمانہ یہ ہے کہ انسان سبب اور نتیجے کے حوالے ہو جائے اور کسی معتبر ذات کا حوالہ اُس کے تعارف سے چھین لیا جائے۔ 

آفت اور آزمائش میں فرق ہے، اور بہت بڑا فرق ہے۔ آفت انسان خود مول لیتا ہے، اپنے کردار و افکار میں مسلسل افراط وتفریط کے سبب! حکم ہے کہ خود کو اپنے ہاتھوں سے ہلاکت میں نہ ڈالو۔ ہاتھوں کی گرہیں دانتوں سے کھولنی پڑتی ہیں۔ آزمائش آسمان سے نازل ہوتی ہے…… آزمائش کے لیے وہ اپنے خاص بندوں کا انتخاب کرتا ہے، یوں سمجھ لیجئے کہ انعام یافتگان کو مزید انعام عطا کرنے کے جواز کے طور پر وہ اپنے بندوں کو آزمائش سے گزارتا ہے۔ اس کے بندے بھوک، خوف، اپنی محنتوں کے ثمر کے ضیاع اور پھر مال او راولاد کے نقصان پر صبر کرتے ہیں …… اور اِس کے صلے میں وہ انہیں اپنے قربِ مزید سے نوازتا ہے۔ صابرین اس کی خاص معیت میں ہیں۔ غالب کے اس مصرعے میں ”انا للہ وانا الیہ راجعون“ کا ترجمہ ہی گویا سمویا دیا گیا ہے

 ہم اس کے ہیں‘ہمارا پوچھنا کیا


ای پیپر